Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی درخواست پر سیٹیلائٹ تصاویر تک رسائی معطل، جنگی رپورٹنگ کو دھچکا

Updated: April 05, 2026, 6:02 PM IST | Washington

پلانیٹ لیبز نے امریکی درخواست پر ایران اور اس کے گرد و نواح کے تنازعاتی علاقوں کی سیٹیلائٹ تصاویر تک رسائی غیر معینہ مدت کیلئے محدود کر دی ہے، جس سے جنگی رپورٹنگ اور تحقیقی صحافت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کمپنی کے مطابق سلامتی اور آپریشنل وجوہات ہیں، جس کے تحت اب تصاویر صرف مخصوص ضروری یا عوامی مفادکیلئے جاری کی جائیں گی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکی درخواست پر سیٹیلائٹ کمپنی پلانیٹ لیبز نے سیٹیلائٹ تصاویر تک رسائی معطل کرتے ہوئے جنگی کوریج میں صحافت کو شدید دھچکا پہنچا دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک بڑی سیٹیلائٹ کمپنی پلانیٹ لیبز، جو بڑے خبر رساں اداروں سمیت مختلف صارفین کو تصاویر فراہم کرتی ہے، نے سنیچرکو اعلان کیا ہے کہ وہ ایران اور اس کے گرد و نواح کے وسیع تنازعاتی علاقے کی سیٹیلائٹ تصاویر تک رسائی غیر معینہ مدت کیلئے محدود کر رہی ہے۔ متاثرہ متعدد میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایران جنگ کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کرنے والے صحافیوں، محققین اور آزاد تجزیہ کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے میں تباہ شدہ ایرانی پل کے انجینئررنجیدہ، ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی

پلانیٹ لیبز کا کہنا ہے کہ یہ درخواست ’’سلامتی اور آپریشنل سیکوریٹی وجوہ‘‘ کی بنیاد پر کی گئی تھی، کمپنی نے کہا کہ وہ تنازع ختم ہونے تک اس علاقے کی تصاویر روک کر رکھے گی، اب کمپنی ایک نیا نظام اپنائے گی جس کے تحت تصاویر مکمل طور پر بند نہیں ہوں گی لیکن محدود کر دی جائیں گی اور صرف وہی تصاویر جاری کی جائیں گی جو بہت ضروری ہوں، یا جنہیں عوامی مفاد میں اہم سمجھا جائے گا اور وہ بھی کیس ٹو کیس بنیاد پر۔ 
پینٹاگون نے اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا اس نے سیٹیلائٹ کمپنیوں سے اس خطے کی تصاویر محدود کرنے کی درخواست کی تھی یا نہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ سے اس مواد تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور محدود ہو جائے گی، حالاں کہ یہی مواد آج کل جنگ کی رپورٹنگ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ واضح ہے کہ حالیہ برسوں میں کمرشل سیٹیلائٹ تصاویر نے زمینی حقائق کی تصدیق میں رپورٹرز، اوپن سورس تفتیش کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پلانیٹ کی نئی پالیسی کے تحت محدود کئے گئے علاقے میں پورا ایران، خلیجی ریاستیں اور خطے کے دیگر فعال جنگی زون شامل ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ۹؍ مارچ کے بعد جمع کی گئی تصاویر اور ڈیٹا کی اشاعت میں تاخیر کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج میں نظریاتی تبدیلی: مذہبی گروہ فوجیوں کی کمی پوری کر ر ہے

یاد رہے کہ پلانیٹ لیبز نے مارچ میں ایران کی تصاویر کے اجرا میں ۱۴؍ دن کی تاخیر شروع کر دی تھی۔ اس وقت کمپنی نے کہا تھا کہ اس تاخیر کا مقصد تصاویر کو ’’مخالف عناصر‘‘ کے استعمال سے بچانا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK