Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار کی سیاست میں آئینی تقاضے اور کشواہا کی مشکلیں

Updated: June 16, 2026, 3:53 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اوپندر کشواہا بہار کی سیاست میں اپنی شناخت رکھتے ہیں اور کوئری۔کشواہا برادری کے ایک با اثر لیڈر مانے جاتے ہیں۔ اس مضمون میں پڑھئے کہ ان کی کیا مشکلات ہیں۔

Bihar Politics.Photo:INN
بہارکی سیاست۔ تصویر:آئی این این
 بہار کی سیاست ہمیشہ سے دلچسپ سیاسی موڑ، سماجی مساوات کے مباحث اور ذات پات کے پیچیدہ توازن کی وجہ سے قومی سطح پر توجہ کا مرکز رہی ہے۔ ریاست میں اس وقت این ڈی اے کی حکومت قائم ہے اور اس اتحاد کے مختلف اتحادی اپنے اپنے سیاسی مفادات اور سماجی حلقۂ اثر کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہی اتحادیوں میں ایک اہم نام اوپندر کشواہا کا بھی ہے، جو برسوں سے بہار کی سیاست میں اپنی شناخت رکھتے ہیں اور کوئری۔کشواہا برادری کے ایک مؤثر لیڈر مانے جاتے ہیں۔حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں ایک سوال بڑی شدت سے زیر بحث ہے کہ اوپندرکشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش جو ریاستی کابینہ میں پنچایتی راج کے وزیر ہیں، لیکن وہ بہار اسمبلی یا قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے رکن نہیں ہیں، ان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ خاص طور پر اس وقت جبکہ حالیہ ایم ایل سی انتخابات میں این ڈی اے نے انہیں امیدوار نہیں بنایا۔ اس صورت حال نے نہ صرف اوپندر کشواہا بلکہ ان کی جماعت اور حامیوں کے لئے بھی تشویش پیدا کر دی ہےواضح ہو کہ ہندوستانی آئین کے مطابق کوئی شخص وزیر تو بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ اسمبلی یا کونسل کا رکن نہیں ہے تو اسے مقررہ مدت، یعنی چھ ماہ کے اندر کسی ایک ایوان کی رکنیت حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے وزارت چھوڑنی پڑتی ہے۔
 
 
یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو اس وقت اوپندرکشواہا کے سامنے موجود ہے۔ ان کے بیٹے کو وزیر تو بنا دیا گیا، لیکن اب انہیں کسی نہ کسی طریقے سے ایوان کا رکن بھی بنانا ہوگا۔ بصورت دیگر وزارت برقرار رکھنا آئینی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔سوال یہ ہے کہ اگر اوپندر کشواہا این ڈی اے کے اہم اتحادی ہیں تو پھر ان کے بیٹے کو ایم ایل سی انتخاب میں امیدوار کیوں نہیں بنایا گیا؟اس کے کئی ممکنہ اسباب ہو سکتے ہیں۔پہلا سبب یہ ہے کہ این ڈی اے میں مختلف جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ رہی ہے۔ جنتا دل (یو)، بھارتیہ جنتا پارٹی، لوک جن شکتی پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں اپنے اپنے حصے کی نمائندگی چاہتی ہیں۔ محدود نشستوں میں ہر جماعت کے مطالبات پورے کرنا ممکن نہیں ہوتا۔دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ این ڈی اے کی بڑی جماعتیں سیاسی وراثت کے تاثر سے بچنا چاہتی ہوں۔ حالیہ برسوں میں ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں خاندانی سیاست پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں کسی اتحادی لیڈر کے بیٹے کو فوری طور پر ایوان کی رکنیت دلانا سیاسی طور پر حساس مسئلہ بن سکتا ہے۔اگرچہ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار جو وزیرصحت بنائے گئے تھے وہ بھی کسی ایوان کے ممبر نہیں تھے لیکن حالیہ ایم ایل سی انتخاب میں انہیں امیدوار بنایا گیا اور وہ کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔
 
 
اوپندرکشواہا کے لئے یہ معاملہ محض ایک وزارت کا نہیں بلکہ سیاسی وقار کا بھی ہے۔سیاسی جماعتوں کی حیثیت اکثر اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ حکومت میں ان کی نمائندگی کتنی مؤثر ہے۔ اگر ان کے بیٹے وزارت سے محروم ہو جاتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر کشواہا کی سیاسی قوت اور ان کی جماعت کے وقار پر پڑ سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اوپندر کشواہا گزشتہ چند برسوں میں کئی سیاسی اتار چڑھاؤ سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے مختلف اتحادوں کا حصہ بن کر اپنی سیاسی زمین کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے میں اگر ان کے خاندان کی نمائندگی حکومت میں کمزور پڑتی ہے تو یہ ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اوپندر کشواہا کے پاس کون سے راستے موجود ہیں؟سب سے آسان اور عملی راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ جب قانون ساز کونسل کی کوئی نشست خالی ہو تو این ڈی اے اپنے کوٹے سے ان کے بیٹے کو وہاں سے منتخب کرا دے۔ ہندوستانی سیاست میں اس قسم کے سیاسی انتظامات کوئی نئی بات نہیں ۔اگر کسی اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخاب ہوتا ہے تو این ڈی اے اپنے کسی محفوظ حلقے سے انہیں امیدوار بنا سکتی ہے۔ اگر اتحاد پوری سنجیدگی سے ان کی حمایت کرے تو کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے کابینہ میں رد و بدل کیا جائے اور وقتی طور پر وزارت کی ساخت تبدیل کی جائے۔ اگرچہ یہ راستہ سیاسی طور پر زیادہ آسان نہیں ہوگا۔بہار کی سیاست میں اکثر بڑے فیصلے بند کمروں میں ہونے والی سیاسی مفاہمتوں کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت اوپندر کشواہا کو مستقبل میں کسی بڑی سیاسی رعایت کا یقین دلائے اور موجودہ بحران کو وقتی طور پر ٹال دے۔اس پورے معاملے کا ایک پہلو خاندانی سیاست بھی ہے۔ ہندوستان کی تقریباً تمام بڑی جماعتیں کسی نہ کسی حد تک سیاسی وراثت کی روایت سے متاثر رہی ہیں۔ قومی سطح سے لے کر ریاستی سطح تک متعدد سیاست دانوں کے فرزند اور اہل خانہ سیاسی مناصب پر فائز ہیں۔ایسے میں اوپندر کشواہا کے بیٹے کی وزارت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو نئی قیادت کو آگے لانا چاہیے، جبکہ حامیوں کا استدلال ہے کہ جمہوریت میں عوامی حمایت ہی اصل معیار ہے اور اگر کوئی شخص صلاحیت رکھتا ہے تو صرف خاندانی پس منظر کی بنیاد پر اسے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔یہ مسئلہ صرف اوپندر کشواہا کا نہیں بلکہ این ڈی اے کیلئےبھی ایک امتحان ہے۔این ڈی اے کی قیادت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ایک طرف آئینی تقاضے پورے ہوں اور دوسری طرف اتحادی جماعتوں کا اعتماد بھی برقرار رہے۔ اگر اس توازن کو قائم رکھنے میں ناکامی ہوتی ہے تو اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کا ایک نیا موقع مل سکتا ہے۔مختصر یہ کہ اوپندر کشواہا راشٹریہ لوک مورچہ سپریموکے بیٹے کی وزارت کا مسئلہ بظاہر ایک فرد یا ایک خاندان کا معاملہ نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت یہ بہار کی اتحادی سیاست، آئینی تقاضوں اور سیاسی وراثت کے باہمی تعلق کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ موجودہ حالات میں سب کی نظریں این ڈی اے کی قیادت اور اوپندر کشواہا کی سیاسی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔اگر آئندہ مہینوں میں ان کے بیٹے کے لیے ایوان کی رکنیت کا کوئی راستہ نکال لیا جاتا ہے تو یہ اتحادی سیاست کی ایک کامیاب مثال ہوگی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو وزارت کا خاتمہ نہ صرف ایک آئینی ضرورت بن جائے گا بلکہ اوپندر کشواہا کی سیاسی حیثیت کے بارے میں بھی نئے سوالات کھڑے کرے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK