بھاری پولیس بندوبست میںکارروائی شروع کی گئی ۔زورزبردستی کرنے کا الزام۔ صدمےسے ایک شخص بے ہوش ۔ دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران اورمقامی رکن اسمبلی بھی پہنچے۔ کارروائی روکنی پڑی۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 2:40 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi
بھاری پولیس بندوبست میںکارروائی شروع کی گئی ۔زورزبردستی کرنے کا الزام۔ صدمےسے ایک شخص بے ہوش ۔ دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران اورمقامی رکن اسمبلی بھی پہنچے۔ کارروائی روکنی پڑی۔
ماٹونگا لیبر کیمپ میں واقع میگھ واڑی میں اڈانی گروپ اور دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعے بھاری پولیس بندوبست میںجمعرات کی صبح مبینہ طورپر زور زبردستی کرتے ہوئے انہدامی کارروائی شروع کرنے پر زبردست ہنگامہ ہوا اور مکینوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔اطلاع ملنے کے بعد دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران اور مقامی رکن اسمبلی جیوتی گائیکواڑبھی جائے وقوع پرپہنچیں۔ انہوں نے بھی شدید مخالفت کی اور مکینوں کے ساتھ زورزبردستی کرنے کا الزام عائد کیا ۔ دریں اثناء ایس آر اے کے سی ای او مہندر کلیانکر سے فون پر بات چیت کی گئی ۔اس کے بعد کارروائی روک کرانہدامی دستہ کو لوٹنا پڑا۔
مکینوں کے مطالبات
میگھ واڑی میںجہاں انہدامی کارروائی کی جارہی تھی، وہاں موجود کرن نامی ایک ذمہ دار شخص نے بتایا کہ کچھ مکینوںنے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اتھاریٹی سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کے مکانات توڑنے سے قبل تحریری طور پر انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی بازآبادکاری اسی علاقے میں کی جائے گی اور ان کویہیں رہائش مہیا کرائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: میونسپل اسکولوں میں ٹیچرزکی کمی،والدین بچوں کاداخلہ نجی اسکولوں میں کرانےپرمجبور
کرن نے یہ بھی بتایا کہ اچانک شروع کی جانے والی انہدامی کارروائی کے سبب کئی گھروں میں سامان بکھر گیا، بچوں کے اسکو ل بیگ،کتابیں اور کاپیاں بھی ادھر ادھر پھینک دی گئیں ۔
اس کے برخلاف ڈی آرپی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیاہےکہ کچھ ہی مکینوں نے مخالفت کی ،بقیہ دیگر گھروں کو جنہیں پہلے توڑاگیا ہے، ان میںمعاہدہ کرنے والے مکین شامل ہیں اور انہدامی کارروائی پروہ رضا مند تھے۔دریں اثناء زورزبردستی کرتے ہوئے مکانات توڑنے کے دوران جب بپن پاڈیا نامی شخص کے گھر پرانہدامی دستے نے کارروائی شروع کی تو انہوں نے مخالفت کی ۔ اسی دوران ان کی طبیعت بگڑ گئی اورصدمے کے سبب وہ بے ہوش بھی ہوگئے۔
ڈی آر پی اورایس آراے کادعویٰ
انہدامی کارروائی کی مخالفت اورمکینوں کے احتجاج کے برعکس دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اورسلم ری ہیبلیٹیشن اتھاریٹی (ایس آر اے) کی جانب سےیہ دعویٰ کیا گیا اوروہ تحریر بھی دکھائی گئی جو ڈپٹی کلکٹر سنیہل رہاٹے کی دستخط سے جاری کی گئی ہے کہ انہدامی کارروائی میں کسی قسم کی زور زبردستی نہیں کی گئی بلکہ اس تعلق سے مکینوں کوپہلے ہی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ۱۶؍ایسے مکانات کو توڑنے کی فہرست بنائی گئی تھی جن کے مالکان نے پہلے ہی معاہدہ کرلیا ہے ۔ فہرست میں ان سب کےنام بھی درج کئے گئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہےکہ اسی بناء پر ۶؍ اگست کو انہدامی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اس تحریرمیںیہ بھی درج کیا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی کے تعلق سے جاری کردہ حکم نامہ کے حوالے سے تحصیلدار رویندر باوسکر اور نائب تحصیلدار سنجے مانے کی جانب سے بھی ماتحت عملہ کو ہدایت دی گئی تھی۔ اس تناظر میں ڈی آر پی کا یہ دعویٰ ہے کہ زورزبردستی کا الزام غلط ہے ، مکینوں سے پہلے بات چیت کرنے اور ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے تحت ان سے معاہدہ کرنے کے بعد ہی جمعرات کی صبح انہدامی کارروائی شروع کی گئی تھی جس میںمکینوں نے رخنہ اندازی کی ۔
یہ بھی پڑھئے: باندرہ: نیویل ڈیسوزا گرائونڈ پر کنونشن سینٹر بنانے کی پُرزور مخالفت
ایس آر اے کی ہدایت
ایس آراے کی جانب سے یہ بھی ہدایت دی گئی تھی کہ جھوپڑوں کے انہدام کے بعد اس کی تفصیلات ایس آراے کے دفتر میں پیش کی جائیں۔
ان تمام کارروائیوں اورزورزبردستی کے علاوہ مکینوں کا یہ بھی الزام ہے کہ انہدامی کارروائی میںبندوبست کے لئے تو پولیس اہلکار بڑی تعداد میں رہتے ہی ہیں ، اڈانی گروپ کی جانب سے ایسے عناصر کو بھی مامور کیا گیا ہے جومکینوں کے ساتھ غنڈہ گردی کرتے ہیںاور انہیںنتیجہ بھگتنے کی دھمکی دیتے ہیں۔