یہ وہ دھواں ہے جو معاشرے کو خراب کر رہا ہے۔اسی لئے شاعروں نے آسمان کو آہ کا دھواں بھی کہا ہے۔ ماحولیات کا ذکر باہر کی دنیا کے بغیر ممکن نہیں،کاش ایسا بھی ہوتا کہ ماحولیات کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اپنے اندرون کا بھی خیال آتا۔
دہلی کی جھلساتی ہوئی دھوپ میں اچانک شعر یاد آیا۔خاک کیا اڑائی جاتی وہ تو یوں بھی فضا میں ہر طرف موجود ہے۔اصل بات انسان کی وہ غربت ہے جو فطری طور پر خاک کے ساتھ سائے کو وابستہ کر کے دیکھتی ہے۔کچھ نہ سہی تو کم سے کم خاک اور دھول تو ہے۔خاک کی چادر درخت کا سایہ تو نہیں ہو سکتی پھر بھی ایک اطمینان سا ہے اور اطمینان بھی کتنا فریب دیتا ہے۔اس مرتبہ ’’پرتھوی دوس‘‘یعنی زمین کا دن اپنے ساتھ اتنی گرم دھوپ لے کر آیا کے وجود جھلستا ہوا محسوس ہوا۔ یہ دن ماحولیات کی طرف دیکھنے اور زمین کیلئے ایک ایسی فضا ہموار کرنے کی دعوت دیتا ہے جس سے انسانی معاشرے کو سانس لینے میں دشواری نہ ہو۔ مگر فضا تو وقت کے ساتھ غبار آلود ہوتی جا رہی ہے۔ آتی جاتی ہوئی سانس اپنے ساتھ کتنی دھول کو سہارتی ہے اس کا علم تو صرف دھول کو ہے اور سانس کو۔درخت جتنے لگائے جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ کاٹ دیئے جاتے ہیں ۔ جو درخت لگائے جا رہے ہیں انہیں سایہ دار درخت بننے میں بہت وقت لگتا ہے۔ اور اسی درمیان سایہ دار درخت کٹ کر زمین پر آ جاتے ہیں ۔
پانی کا گہرا تعلق باہر کی دنیا کی صاف اور پراگندہ فضا سے ہے۔ خاک سے نجات مل بھی نہیں سکتی۔اس کی ایک وجہ تو پیکر خاکی ہے جوہمیشہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بالآخر اسے خاک میں مل جانا ہے۔ لہٰذا لفظ خاک یا مٹی فطری طور پر ہماری فطرت میں شامل ہے اور یہ فطرت یاد دلاتی ہے کہ ہمیں زمین پر عاجزی سے چلنا چاہئے۔چال میں اترا ہٹ زمین کو ٹھیک نہیں لگتی اور زمین بھی مناسب وقت کا انتظار کرتی ہے جب اتراہٹ سے بھرے ہوئے پاؤں پھسل جاتے ہیں ۔انسان کی بنیادی شرافت کا ایک رشتہ مٹی سے ہے اور اسی لئے نہ صرف شاعری میں بلکہ دوسرے علوم و فنون میں بھی زمین،مٹی اور پانی کے تعلق سے فکر مندی کا اظہار کیا گیا۔اب یہ سارا اظہار ہمارے لئے صرف زبانی ہو کر رہ گیا ہے عملی اور فکری سطح پر وہ حساسیت بہت کم دکھائی دیتی ہے جس کے بغیر ہم زمین اور زمین پر چلنے والوں کے ساتھ اچھا رشتہ استوار نہیں کر سکتے۔
ماحولیات کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور زمین کا دن مناتے ہوئے بار بار فضا کو بہتر بنانے کی کوشش پر زور دیا گیا۔ ماحولیات کا رشتہ ہماری اپنی تہذیبی زندگی سے بھی ہے اور یہ وہ زندگی ہے جو ہمارے اندرون کی ہے۔ایک فضا جو باہر خراب ہو رہی ہے وہ اندر کی خراب ہوتی ہوئی فضا سے کیسے بے تعلق رہ سکتی ہے۔اندر کی فضا وہ کدورت ہے جو انسانی معاشرے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔یہ وہ دھواں ہے جو معاشرے کو خراب کر رہا ہے۔اسی لئے شاعروں نے آسمان کو آہ کا دھواں بھی کہا ہے۔ ماحولیات کا ذکر باہر کی دنیا کے بغیر ممکن نہیں ،کاش ایسا بھی ہوتا کہ ماحولیات کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اپنے اندرون کا بھی خیال آتا۔اب اندرون کا خیال بہت تاخیر سے آتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔اگرآاتا بھی ہے تو یہ ایک رسمی اور رواجی ذکر کے ساتھ۔
زمین کا دن ایک دن سے مخصوص ضرور ہے مگر زمین پر چلتے ہوئے ہر دن زمین کا دن معلوم ہوتا ہے۔کتنی دھول اڑ رہی ہے باہر بھی اور اندر بھی۔پریم چند نے اپنے ایک اداریئے میں بنارس کے آس پاس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دھول اتنی اڑ رہی ہے کہ سانس لینا مشکل ہے۔اندازہ ہوا کہ دھول اس وقت بھی فضا میں موجود تھی جب درخت اتنے کاٹے نہیں گئے تھے اور ہماری تہذیبی زندگی میں ماحولیات کے تعلق سے شاید اس وقت تک کوئی دن منانے کا رواج نہیں تھا۔لہٰذا دھول انسانی زندگی کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں ۔مگر دھول کو کم کیا جا سکتا ہے اسے آتی جاتی ہوئی سانسوں تک آنے سے روکا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دھول کو کون مکمل طور پر گرفت میں لے سکا ہے۔دھول آواز تو نہیں ،مگر تیز ہوا کے ساتھ یہ بہت ہی خطرناک ہو جاتی ہے۔ آنکھوں میں کبھی اتنی دھول آ جاتی ہے کہ مشکل سے کچھ دکھائی دیتا ہے۔ہم کب سے تیز ہوا کے درمیان کھڑے ہیں اور آنکھیں مل رہے ہیں ۔دھول نہ ختم ہوتی ہے اور نہ ہماری آنکھ روشن ہوتی ہے۔جو روشنی ہے وہ فطرت کی ضرور ہے مگر دھول نے ہماری روشنی کو اپنی فطرت پر کہاں رہنے دیا ہے۔آنکھوں میں کب سے وہ خواب دھول کے ساتھ موجود ہیں جنہیں ایک اچھے معاشرے کیلئے دیکھا گیا تھا۔معاشرہ بھی دھول کی گرفت میں ہے اور یہ وہ دھول بھی ہے جو تنگ نظری کی ہے۔تنگ نظری کی دھول زیادہ خطرناک ہے اس دھول سے جو ہوا کے ساتھ گردش میں ہے۔دھوپ کی تمازت دھول کو دھندلا دیتی ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فضا صاف اور روشن ہے۔یہ روشنی دراصل آفتاب کی ہے جسے دھول سے بظاہر کوئی خطرہ نہیں لیکن ایک خطرہ تو ہے۔دھوپ کی چادر جب ہر طرف پھیلی ہوئی دکھائی دے تو ایسے میں خیال صرف دھوپ کا آتا ہے۔ ایک چھوٹا سا معمولی سا کپڑا سر اور چہرے کو ڈھانپ کر یہ اطمینان دلاتا ہے کہ دھوپ کی تمازت کا اثر کم ہو گا۔اسی تمازت کے ساتھ وہ پسینہ بھی آتا جاتا ہے،جسے رمز عظیم آبادی نے کچھ یوں دیکھا تھا۔
تم پسینہ مت کہو ہے جانفشانی کا لباس
دھوپ میں چلتے ہوئے رکھتے ہیں پانی کا لباس
زمین کا دن دراصل پانی کا دن بھی ہے، جو زمین کو نم بھی کرتا ہے اور وجود کو بھگوتا بھی ہے۔بارش کا پانی جب تار بارش کی طرح دکھائی دے تو سمجھیے کہ نہانے کی دعوت دے رہا ہے۔مگر اب بارش گھنی آبادیوں کے درمیان تار بنتے بنتے صرف بارش رہ جاتی ہے۔ پانی ہماری آنکھوں میں بھی ہے،جو چلچلاتی ہوئی دھوپ میں موجود ہے۔ آنکھوں میں بھی آنسوؤں کے ساتھ تار سا آجاتا ہے،مگر اب یہ قصہ بھی بہت پرانا ہو گیا ہے۔اس وقت کلیم عاجز کا شعر ہے یاد آتا ہے،گو کہ یہ قصہ بھی پرانا ہے مگر موجودہ نے دھوپ میں اس میں ایک تازگی پیدا کر دی ہے۔
دھوپ میں خاک اڑا لیتے ہیں سائے کےلئے
پیاس لگتی ہے تو کرتے ہیں مئے و جام کی بات۔