Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: ڈجیٹل پے منٹس کی خلل نے زندگی مفلوج کردی، کھانا اور نقل و حمل متاثر

Updated: April 27, 2026, 8:05 PM IST | Gaza

غزہ میں ڈجیٹل ادائیگی کے نظام میں اچانک خرابی نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا، جہاں پے پال کی سروس معطل ہونے سے خریداری، ٹرانسپورٹ اور بنیادی لین دین رک گئے۔ نقد رقم کی شدید قلت اور بینکاری نظام کے خاتمے کے باعث شہری پہلے ہی ڈجیٹل والٹس پر انحصار کر رہے تھے، جس سے یہ تکنیکی مسئلہ ایک بڑے انسانی بحران میں بدل گیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جنگ سے متاثرہ غزہ پٹی میں ایک معمولی تکنیکی خرابی نے بڑے پیمانے پر معاشی اور انسانی مسائل کو بے نقاب کر دیا، جب مقامی ڈجیٹل ادائیگی سروس پے پال کئی گھنٹوں تک بند رہی۔ اس بندش کے باعث شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بہت سے افراد پبلک ٹرانسپورٹ تک رسائی سے بھی محروم ہو گئے۔ کئی افراد نے بتایا کہ وہ بازاروں سے خالی ہاتھ واپس لوٹے کیونکہ ان کے پاس نقد رقم موجود نہیں تھی اور ڈجیٹل بٹوے کام نہیں کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں اپوزیشن متحد: بینیٹ اور لاپیڈ کا مشترکہ انتخابی اتحاد

اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نئی کرنسی کے داخلے پر پابندی کے باعث نقدی کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔ نتیجتاً، مقامی معیشت میں اسرائیلی شیکل کی دستیابی کم ہو گئی ہے اور جو نقد موجود ہے وہ اکثر ناقابل استعمال حالت میں ہے۔ اسی وجہ سے شہریوں کو مجبوراً ڈجیٹل ادائیگیوں پر انحصار کرنا پڑا، یہاں تک کہ روزمرہ ضروریات جیسے روٹی، کرایہ اور چھوٹے اخراجات کے لیے بھی۔

تاہم، یہ نظام خود انتہائی نازک ہے۔ بار بار بجلی کی بندش، کمزور انٹرنیٹ اور خراب نیٹ ورک کوریج کے باعث الیکٹرانک ادائیگیاں اکثر غیر مستحکم رہتی ہیں۔ اتوار کی بندش نے اس کمزوری کو واضح کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پے پال اس وقت سسٹم اپ گریڈ اور بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے تاکہ سروس کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور انٹرنیٹ پر انحصار کم کیا جا سکے۔ چند گھنٹوں بعد سروس بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی۔ ماہر اقتصادیات احمد ابو قمر کے مطابق، یہ مسئلہ محض تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک گہرے معاشی بحران کی علامت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطین بلدیاتی انتخابات: ۱۹۷؍ کونسلوں میں بلامقابلہ جیت، ۵۴؍ فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ

انہوں نے کہا کہ ’’غزہ میں ڈجیٹل ادائیگی اب سہولت نہیں بلکہ مجبوری بن چکی ہے، اور یہ ایک ایسے نظام پر انحصار ہے جو خود کمزور انفراسٹرکچر پر کھڑا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ ڈجیٹل ادائیگیاں مالی شمولیت کو بہتر بنا سکتی ہیں، لیکن موجودہ حالات میں یہ عوام کے لیے ایک اضافی بوجھ بن گئی ہیں، جو روزمرہ زندگی کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہیں۔ غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں، جہاں جنگ، ایندھن کی کمی اور بنیادی سہولیات کی قلت پہلے ہی زندگی کو مشکل بنا چکی ہے، ایسے تکنیکی مسائل شہریوں کے لیے فوری اور براہ راست اثرات پیدا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK