Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈونالڈ ٹرمپ کو ووٹ دے کر پچھتا رہے امریکی، کھانا، پیٹرول سے بجلی تک سب مہنگا

Updated: April 27, 2026, 8:03 PM IST | New York

امریکہ میں مہنگائی نے عام لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ روزمرہ کے اخراجات جیسے راشن، پیٹرول، بجلی اور دیگر ضروریات کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے سے خاندانوں کے بجٹ متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ سے ریلیف کی امید تھی، لیکن نئے ٹیرف اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ میں مہنگائی نے عام لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ روزمرہ کے اخراجات جیسے راشن، پیٹرول، بجلی اور دیگر ضروریات کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے سے خاندانوں کے بجٹ متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ سےراحت کی امید تھی، لیکن نئے ٹیرف اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق توانائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔‘‘اس محاورے کو اب امریکی عوام محسوس کر رہے ہیں۔ وہاں عام لوگوں پر مہنگائی کا دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ راشن، پیٹرول، بجلی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے لاکھوں خاندانوں کے بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق نئے امریکی ٹیرف اور مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب امریکی خاندان کچھ حد تک معاشی راحت محسوس کرنے لگے تھے، اسی وقت بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دوبارہ مشکلات پیدا کر دیں۔ اس کا اثر نہ صرف صارفین کے اخراجات پر پڑ سکتا ہے بلکہ معاشی ترقی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
 میں خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہی ہوں
کیلیفورنیا کے شہر بر بینک کی ۶۶؍ سالہ خاتون کیٹی پیرے نے کہا کہ وہ کم از کم اجرت پر صفائی کا کام کرتی ہیں اور اپنے آٹسٹک پوتے کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ’’میں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا کیونکہ انہوں نے حالات بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب میں خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہی ہوں۔‘‘
کیٹی کے مطابق پہلے ان کے ماہانہ اخراجات تقریباً ۲۳۰۰؍ ڈالر تھے جبکہ آمدنی ۲۴۰۰؍ ڈالر تھی۔ اب اخراجات بڑھ کر۲۵۰۰؍ ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں، جس سے گزارہ مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی خاندان اور دوستوں سے جتنا ممکن تھا قرض لے چکی ہیں، مگر اب مستقبل کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
  ایندھن اور خوراک کے اخراجات میں اضافہ
کرسچین ڈیویٹو، جو ۳۴؍ سالہ ملازم ہیں اور لاس اینجلس کے ایک بڑے گروسری اسٹور کے ہیلتھ اینڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں، نے کہا کہ پچھلے تین ماہ میں ان کے ماہانہ بل کم از کم ۱۵؍ فیصد بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کام پر آنے جانے کا خرچ ۵۰؍ ڈالر فی ہفتہ سے بڑھ کر ۷۰؍ ڈالر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ کھانے اور بجلی کے بل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے فلموں اور دیگر تفریحات میں کمی کی، اب خوراک پر بھی خرچ کم کرنا پڑ رہا ہے۔
 سرکاری اعداد و شمار میں بھی اضافہ ظاہر
امریکی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں توانائی کی قیمتوں میں ۹ء۱۰؍ فیصد ماہانہ اضافہ ہوا۔ اس میں پیٹرول کی قیمتوں میں ۲ء۲۱؍ فیصد کا بڑا اضافہ شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق پیٹرول مہنگا ہونے سے روزانہ سفر کرنے والوں پر فوری اثر پڑتا ہے، جبکہ بجلی اور گیس کے بڑھتے بل بعد میں مزید دباؤ ڈالتے ہیں۔ اسی طرح خوراک کی مہنگائی کا براہِ راست اثر بنیادی اشیاء پر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یو کے ایشین فلم فیسٹیول میں ریکھا کی ’’امراؤ جان‘‘ ۴؍ کے ورژن میں دکھائی جائے گی


شرحِ سود بھی مسئلہ بنی ہوئی ہے
فیڈرل ریزرو نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرحِ سود بلند رکھی ہے۔ اس کا اثر کریڈٹ کارڈ، آٹو لون اور دیگر قرضوں کی اقساط پر بھی پڑ رہا ہے۔
 ٹیرف بھی بڑی وجہ
ماہرینِ معیشت کے مطابق نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہیں۔ پیٹرسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے اندازے کے مطابق کینیڈا، میکسیکو اور چین سے آنے والی اشیاء پر لگنے والے ٹیرف کی وجہ سے ایک عام امریکی خاندان پر سالانہ ۱۲۰۰؍ ڈالر سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کو مل گیا نیا تھنڈر بولٹ؟ سنجے بانگر نے محسن خان کا نام سلیکٹرز کے سامنے رکھ دیا


جنگ کا عالمی اثر
ایران سے جڑی جنگی صورتحال کے باعث توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔ اس کا اثر صرف پٹرول تک محدود نہیں بلکہ شپنگ، پیداوار اور خوراک کی سپلائی لاگت پر بھی پڑ رہا ہے۔
 آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ توانائی کا بحران کتنی دیر تک جاری رہتا ہے اور ٹیرف میں اضافہ ہوتا ہے یا کمی۔ اگلی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی)(CPI) رپورٹ ۱۲؍ مئی کو جاری ہوگی، جس سے اپریل کے حالات کا اندازہ ہوگا۔ کیٹی پیرے کو امید ہے کہ جلد کوئی اچھی خبر آئے گی۔ ‘‘ہم ایک اور سال ایسے نہیں گزار سکتے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK