دو بار کی اولمپک میڈلسٹ اور ہندوستانی بیڈمنٹن اسٹار پی وی سندھو نے ورلڈ بیڈمنٹن فیڈریشن (بی ڈبلیو ایف) کی کونسل ممبر کے طور پر اپنے دورِ ملازمت کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 8:03 PM IST | Mumbai
دو بار کی اولمپک میڈلسٹ اور ہندوستانی بیڈمنٹن اسٹار پی وی سندھو نے ورلڈ بیڈمنٹن فیڈریشن (بی ڈبلیو ایف) کی کونسل ممبر کے طور پر اپنے دورِ ملازمت کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
دو بار کی اولمپک میڈلسٹ اور ہندوستانی بیڈمنٹن اسٹار پی وی سندھو نے ورلڈ بیڈمنٹن فیڈریشن (بی ڈبلیو ایف) کی کونسل ممبر کے طور پر اپنے دورِ ملازمت کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ پی وی سندھو کو بی ڈبلیو ایف ایتھلیٹس کمیشن کا صدر منتخب کیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں کونسل میں ووٹنگ کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر ۲۰۲۵ء کے آخر میں کونسل کا حصہ بنی تھیں، لیکن ڈنمارک میں منعقدہ بی ڈبلیو ایف کے حالیہ سالانہ اجلاس میں شرکت کے ساتھ ہی ان کے کام کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یو کے ایشین فلم فیسٹیول میں ریکھا کی ’’امراؤ جان‘‘ ۴؍ کے ورژن میں دکھائی جائے گی
اس نئی ذمہ داری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سندھو نے کہا کہ ’’دنیا بھر کے کھلاڑیوں کی آواز بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ بیڈمنٹن نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، اور اب میں اس کھیل کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے پر شکر گزار ہوں۔ میں بی ڈبلیو ایف کی صدر پٹاما لیسواڈٹراکول کی حمایت پر ان کی بے حد ممنون ہوں اور کونسل کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔‘‘
بی ڈبلیو ایف کی صدر پٹاما لیسواڈٹراکول نے سندھو کی شمولیت کو کھیل کے لیے نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا ’’سندھو نے کورٹ پر ہمیشہ اپنی مہارت اور جوش و جذبے کا ثبوت دیا ہے، اب وہ انتظامی سطح پر کھلاڑیوں کی نمائندگی کے لیے ایک بہترین رول ماڈل ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:تاریخ کا سب سے بڑا بحران: ’بیٹس‘ کی قلت نے عالمی کرکٹرز کی نیندیں اڑا دیں!
انہو ںنے مزید کہاکہ ’’کھلاڑی ہمارے کھیل کا دل ہیں اور ہمارے ہر فیصلے میں ان کی رائے کو اہمیت ملنی چاہیے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اب اس عالمی برادری کی قیادت وہ لوگ کریں گے جو اس کھیل کو جیتے اور اس میں سانس لیتے ہیں۔کونسل میں سندھو کی موجودگی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بیڈمنٹن کے مستقبل کے فیصلوں میں کھلاڑیوں کے تجربات اور ان کے نقطہ نظر کو ترجیح دی جائے۔ اس اقدام کا مقصد بیڈمنٹن کو دنیا کے صفِ اول کے کھیلوں میں مزید مضبوط بنانا اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔‘‘