ڈاکٹر منموہن سنگھ نے خارجہ پالیسی کے مقاصد سے ہندوستانی سفارتکاروں کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہماری توجہ کن اُمور پر ہونی چاہئے۔ اگر اس پر عمل جاری رہتا تو ہم اس طرح چاروں طرف سے گھر نہ جاتے۔
مَیں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہے مگر ہے۔ ہمیں بین الاقوامی ثالثی میں لطف نہیں آتا۔ ہماری بے لطفی دونوں ہی کیلئے ہے۔ کوئی ہمارے معاملے میں ثالثی کرتے تب بھی ہمیں اچھا نہیں لگتا اور جو ثالثی کرتا ہے وہ بھی۔ اپنی اس کیفیت کا اندازہ اپنے اُس اصرار سے ہوتا ہے جس کا مظاہرہ ہماری تمام حکومتوں نے کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جو معاملات دو فریقی ہیں اُنہیں دو فریقی ہی رہنا چاہئے اور اسی طرح اُنہیں حل کیا جانا چاہئے۔ہمارا یہ طریق کار خاص طور پر اپنے پڑوسی کے حوالے سے ہے۔ اسی طریق کار کی جھلک ہمیں اپنے وزیر خارجہ کے بیان سے ملتی ہے جس میں اُنہوں نے پڑوسی کی ثالثی کے پیش نظر اُسے دلال کہا۔
چلئے ثالثی پسند نہیں ہے تو ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اُن معاملات میں کیا کررہے ہیں اور جن کا تعلق ہم سے ہے یا جو ہم پر اثرانداز ہورہے ہیں ؟ اس سوال کا جواب واضح نہیں ہے۔ بعض معاملات سے ہمارا تعلق ہے اس لئے کہ ہم ان معاملات کی وجہ سے تکلیف اُٹھا رہے ہیں ، قیمت بڑھ رہی ہے اور ہمارے یہاں قلت پائی جارہی ہے (ایند’ھن کا معاملہ)۔ اس تکلیف اور قلت کے باوجود ہم تماشائی بن کر اپنے مطمئن ہونے کا مظاہرہ کررہے ہیں اور شاید اس اُمید میں ہیں کہ بحران ازخود ختم ہوجائیگا اس کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہےیا کوئی (ملک) خود ہی آگے بڑھ کر بحران کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا اور پھر حالات معمول پر آجائینگے۔ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے دوران ہمارا یہی طرز عمل سامنے آیا ہے۔ اب چاہے مگر اس بات سے متفق ہوں یا متفق نہ ہوں کہ اس بحرانی دور میں ہندوستان کو کچھ کرنا چاہئے تھا، کچھ ایسا جو دوسروں سے مختلف ہو۔ بہرکیف، آج کے مضمون کیلئے میرا موضوع ہندوستان کا یہ طرز عمل نہیں ہے بلکہ اُس دوسرے طرز عمل سے ہے جس پر بات نہیں ہوتی ہے اور وہ سابقہ حکومت کی ایسی دستاویز ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے:
۴؍ نومبر ۲۰۱۳ء کو اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے الگ الگ ملکوں میں ہندوستان کے ۱۲۰؍ سفارتکاروں سے خطاب کیا اور ہندوستانی خارجہ پالیسی کے پانچ اُصولوں پر روشنی ڈالی تھی۔ یہ پانچ اُصول اس طرح تھے: (۱) یہ اعتراف کہ دُنیا، بالخصوص بڑی طاقتوں اور ایشیائی پڑوسیوں سے ہندوستان کے تعلقات ترقیاتی ترجیحات پر مبنی ہوں ۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم نکتہ یا مقصد یہ ہے کہ ایسا عالمی ماحول تیار کیا جائے جو ہم ایسے عظیم ملک کی فلاح سے ہم آہنگ ہو۔ (۲) عالمی معیشت سے زیادہ سے زیادہ تعامل ہمارے مفاد میں ہوگا نیز اہل وطن کو اُن کی تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار لانے میں مدد دے گا (۳) دُنیا کی تمام بڑی طاقتوں سے طویل مدتی اور باہمی مفاد پر مبنی مستحکم تعلقات کا متلاشی رہنا۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا مقصد یہ بھی ہو کہ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ایسا عالمی معاشی اور حفاظتی ماحول تیار کریں جو سب کیلئے فائدہ مند ہو (۴) یہ اعتراف کرنا کہ برصغیر ہند کی مشترکہ وراثت کیلئے وسیع تر علاقائی تعاون اور ربط ضروری ہے، اور (۵) ہماری خارجہ پالیسی محض مفادات پر مبنی نہ ہو بلکہ اُن اقدار کے ذریعہ تشکیل پائے جو ہندوستانیوں کو عزیز ہیں ۔ یاد رہنا چاہئے کہ ایک تکثیری، سیکولر اور لبرل جمہوریت کے ہمارے طریق کار نے دُنیا میں بہتوں کو متاثر کیا ہے اور ہمیں اس پر قائم رہنا چاہئے۔
مختصر یہ کہ ہندوستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعہ معاشی ترقیات کو یقینی بنانا چاہئے، یہ پالیسی دوستانہ ہو، عالمی طاقتوں کیلئے بھی اور پڑوسیوں کیلئے بھی اور معاشی ترقیات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہم اُن قدروں کو نہ بھولیں جن کیلئے ہم مشہور ہیں اور جن کا تعلق ہمارے تکثیری سماج سے ہے اور ہماری سیکولر ڈیموکریسی سے ہے۔
اب آئیے ان پانچ نکات کو سامنے رکھ کر موجودہ حالات کا تجزیہ کریں : (۱) چونکہ یہ پالیسی واضح تھی اور اہم مقاصد کی تکمیل کیلئے تھی اس لئے ہمیں اس پالیسی کو بھی بروئے کار لانا چاہئے تھا۔ اگر ہم مانتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد ایسا عالمی ماحول ہو جو ہماری فلاح سے ہم آہنگ ہو تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے تھی کہ ہم اس ماحول کو خراب نہ ہونے دیں یعنی ہم اُن ملکوں سے بھی ربط رکھیں جو ہماری ترقی میں خلل ڈال سکتے ہیں ۔ہندوستان اُن چند ملکوں میں سے ہے یا شاید واحد ملک ہے جس کے امریکہ، اسرائیل اور ایران سے اچھے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے صرف دو ملکوں (امریکہ اور ایران) سے اچھے تعلقات ہیں ۔ اگر ہم یہ سمجھتے کہ خلیج میں جنگ ہوئی تو ہماری معیشت متاثر ہوگی اور کھاد اور ایندھن کی سپلائی متاثر ہوگی تو ہم کوشش کرتے کہ جنگ نہ ہو۔ مگر ہم نے خاموشی اختیار کی۔
(۲) دوسرا نکتہ تعامل سے متعلق ہے مگر پچھلی ایک دہائی میں ہم کافی محتاط ہوگئے ہیں چنانچہ جامع علاقائی معاشی شراکت داری میں شامل نہیں ہوئے جس میں ایشیا پیسفک کے ۱۵؍ ممالک کو رکنیت حاصل ہے۔ وزیر اعظم مودی کو پسند کرنے والوں سمیت کئی مبصرین کا خیال ہے کہ ہم بلاوجہ تحفظ پسند (پروٹیکشنسٹ) ہوگئے ہیں ۔
(۳) باہمی مفادات پر مبنی طویل مدتی تعلقات کے باب میں منموہن سنگھ نے ’’تمام طاقتوں ‘‘ کا ذکر کیا جس میں چین بھی شامل تھا مگر یاد کیجئے ۲۰۲۰ء کے بعد ہم نے کیا کیا اور آج صورتحال کیا ہے؟
(۴؍ اور ۵) ڈاکٹر منموہن سنگھ نے خارجہ پالیسی کے بنیادی مقاصد میں چوتھے اور پانچویں نمبر پر جن نکات کا ذکر کیا اُن سے ۲۰۱۴ء کے بعد سے ہمارا ملک تسلسل کےساتھ دور ہوا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں سرحدوں پر یا تو کشیدگی ہے یا وہ بند ہیں ، آزادانہ نقل و حرکت ناممکن ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اس معاملے میں ہم نے کوئی پیش رفت کی ہی نہیں ۔ اخیر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ۱۹۴۷ء کےبعد پہلی مرتبہ ہمارا سامنا ایسی مقبول سیاسی تحریک سے ہے جو ہندوستان کے تکثیری سماج اور اس کے سیکولر اور لبرل مزاج کو نہیں مانتی۔ اسرائیل سے ہماری دوستی کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ ہماری لسٹ میں اسرائیل ۴۹؍ ویں نمبر کا ایکسپورٹ پارٹنر اور ۴۸؍ ویں نمبر کا امپورٹ پارٹنر ہے یعنی بہت اہم تجارتی پارٹنر نہیں ہے پھر کیوں ہم اس ملک کے بارے میں اتنے پُرجوش ہیں ؟ کیا اس لئے کہ ہم اپنے ملک کی اقلیتوں کے ساتھ وہی کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل اپنی اقلیتوں کے ساتھ کرتا ہے؟
یہ وہ حالات ہیں جن میں ہم آج گھرے ہوئے ہیں اور یہ بالاتفاق پیدا ہونے والے حالات نہیں ہیں ۔ یہ ہم نے پیدا کئے ہیں ۔ اگر ہم اصلاح چاہتے ہیں تو ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وضع کردہ خارجہ پالیسی ہماری بہترین رہنما بن سکتی ہے۔