Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی پروجیکٹ کی تشہیر پر ہالی ووڈ اداکارہ گوئنتھ پیلٹرو تنقید کی زد پر

Updated: June 10, 2026, 10:11 PM IST | London

ہالی ووڈ اداکارہ گوئنتھ پیلٹرو کو اسرائیل میں تعمیر ہونے والے ایک پرتعیش رہائشی منصوبے ’’۵۱؍ پارک‘‘ کی تشہیری مہم میں شرکت پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے جاری رہنے کے دوران اسرائیلی رئیل اسٹیٹ منصوبے کی تشہیر کرنا غیر حساس اور متنازع اقدام ہے۔ سوشل میڈیا پر کارکنوں، صحافیوں اور فلسطین کے حامی حلقوں نے اس مہم کی مخالفت کی ہے، جبکہ اداکارہ یا ان کے نمائندوں کی جانب سے اب تک کوئی وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Gwyneth Paltrow. Photo: INN
گوئنتھ پیلٹرو۔ تصویر: آئی این این

آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ اداکارہ گوئنتھ پیلٹرو ایک نئے تنازع کے مرکز میں آ گئی ہیں۔ اداکارہ نے اسرائیل کے ساحلی شہر ہرزلیہ میں تعمیر ہونے والے ایک لگژری رہائشی منصوبے ’’۵۱؍  پارک‘‘ کی تشہیری مہم میں شرکت کی، جس کے بعد سوشل میڈیا اور بین الاقوامی حلقوں میں ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کو اسرائیلی رئیل اسٹیٹ کمپنی ’’اویو میلیسرون‘‘ تیار کر رہی ہے اور اس کی تشہیر کے لیے گوئنتھ پیلٹرو کو مرکزی چہرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تشہیری ویڈیو نیویارک میں فلمائی گئی۔ ویڈیو میں گوئنتھ پیلٹرو ایک پرتعیش طرزِ زندگی، سمندر کے نظاروں اور اعلیٰ معیار کی رہائش کے فوائد بیان کرتی نظر آتی ہیں، جبکہ ویڈیو کے اختتام پر انکشاف کیا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کے شہر ہرزلیہ میں واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس منصوبے کے اپارٹمنٹس اور پینٹ ہاؤسز کی قیمت تقریباً ایک کروڑ ڈالر تک پہنچتی ہے۔

مہم کے منظرعام پر آنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل ظاہر ہوا۔ فلسطین حامی کارکنوں، متعدد صحافیوں اور سماجی شخصیات نے سوال اٹھایا کہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے دوران اسرائیلی لگژری جائیداد کی تشہیر کرنا کس حد تک مناسب ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تشہیر جنگ اور تنازع کے اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک معمول کی صورتحال کا تاثر پیدا کرتی ہے۔ معروف ماڈلز بیلا حدید اور جیجی حدید کی سوتیلی بہن الانا حدید نے اس مہم پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’محض بے حسی نہیں بلکہ شراکت داری‘‘ قرار دیا۔ معروف بیوٹی انٹرپرینیور ہدا قطان نے بھی گوئنتھ پیلٹرو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ خطے میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ برطانوی صحافی کیرول کیڈوالڈر نے بھی سوال اٹھایا کہ موجودہ حالات میں اسرائیلی رئیل اسٹیٹ منصوبے کی تشہیر کیوں کی جا رہی ہے۔

یہ معاملہ صرف جنگ کے تناظر تک محدود نہیں رہا بلکہ تاریخی اور سیاسی بحث بھی اس کا حصہ بن گئی ہے۔ متعدد فلسطینی حامی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ ہرزلیہ کا ساحلی علاقہ ان فلسطینی آبادیوں سے جڑا ہوا ہے جو ۱۹۴۸ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران بے دخل ہوئیں۔ بعض پوسٹس میں سابق فلسطینی گاؤں ’’الحرم‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ اس قسم کے منصوبے متنازع تاریخی زمینوں پر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ تاہم منصوبے کے مالکان یا تشہیری مہم میں ایسی کسی تاریخی یا سیاسی بحث کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تنازع کی ایک بڑی وجہ گوئنتھ پیلٹرو کا اسرائیل اور یہودی شناخت سے تعلق بھی ہے۔ ان کے والد بروس پیلٹرو یہودی تھے اور اداکارہ ماضی میں کئی مواقع پر اپنی یہودی وراثت اور ثقافتی وابستگی کا اظہار کر چکی ہیں۔ انہوں نے ۲۰۲۳ء میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی یرغمالوں کے حق میں بھی پیغامات جاری کیے تھے۔ اسی پس منظر کے باعث ناقدین اس تشہیری مہم کو محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور علامتی حمایت کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: ڈجیٹل سیفٹی بل کی تیاری، بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیرغور

دوسری جانب گوئنتھ پیلٹرو کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ایک کاروباری اشتہار ہے اور کسی بھی ملک میں جائیداد کے منصوبے کی تشہیر کرنا بذات خود سیاسی سرگرمی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اداکارہ کو اپنے ذاتی یا ثقافتی تعلقات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق گوئنتھ پیلٹرو، ان کے نمائندوں یا منصوبے کی تشہیر کرنے والی کمپنی کی جانب سے اب تک کسی قسم کا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ نہ تو اداکارہ نے سوشل میڈیا پر وضاحت دی ہے اور نہ ہی مہم سے علیحدگی اختیار کرنے کا کوئی اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ’’۵۱؍ پارک‘‘ منصوبے کی تشہیری مہم بھی جاری ہے اور اسے روکنے یا تبدیل کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK