Updated: June 10, 2026, 10:09 PM IST
| Mexico City
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے قبل امریکہ میں داخلے کے دوران کئی کھلاڑیوں، ریفریز، حکام اور شائقین کو ویزا تاخیر، طویل پوچھ گچھ اور بعض معاملات میں داخلے سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر تنقید کو جنم دیا ہے اور میزبان ملک کی امیگریشن پالیسیوں پر سوالات اٹھا ئے گئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءشروع ہونے جا رہا ہے لیکن کئی کھلاڑیوں، کوچز، ریفریز اور حکام کیلئے اس ٹورنامنٹ تک پہنچنے کا سفر بالکل ہموار نہیں رہا۔ امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران بہت سے افراد کو طویل پوچھ گچھ، ویزا میں تاخیر، تلاشی اور یہاں تک کہ داخلے سے انکار جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ افتتاحی میچ سے چند گھنٹے قبل ہی اس بات پر تنقید بڑھ رہی ہے کہ ورلڈ کپ کے شرکاء اور شائقین کے ساتھ امریکی سرحدوں پر کس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: صومالی فیفا ریفری عمر آرتان کوگھنٹوں امریکہ کے حراستی سیل میں رکھا گیا
سرحدی مسائل میں پھنسنے والے کھلاڑی اور حکام
سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا واقعہ عراقی اسٹرائیکر ایمن حسین کا تھا۔ یورو نیوز کے مطابق، شکاگو کے اوہیئر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر انہیں تقریباً سات گھنٹے تک حراست میں رکھ کر پوچھ گچھ کی گئی۔ سرحدی حکام نے ان کا موبائل فون بھی چیک کیا، جس کے بعد انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ عراقی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کے ساتھ صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین رہی۔ انہیں دس گھنٹے سے زائد وقت تک حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں امریکہ میں داخلے سے انکار کر دیا گیا۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے بعد میں سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ طلال صلاح کو’ سیکوریٹی جانچ کے خدشات‘ کی بنیاد پر ناقابلِ قبول قرار دے کر واپس بھیج دیا گیا۔ ایک اور بڑا تنازع صومالیہ کے فیفا مقرر کردہ ریفری عمر عبدالقادر آرتان کے حوالے سے سامنے آیا۔ انہیں میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ۱۱؍ گھنٹے تک پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد داخلے سے انکار کر کے استنبول واپس بھیج دیا گیا۔
فیفا نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آرتان اب۲۰۲۶ء فیفا ورلڈ کپ میں تربیت یا ریفری کے فرائض انجام نہیں دے سکیں گے کیونکہ انہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ تنظیم کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا کہ فی الحال ان کی حیثیت تبدیل نہیں کی جائے گی۔ امریکی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ہوم لینڈ سیکوریٹی کے سیکریٹری سے اس معاملے پر بات کی اور آرتان کو داخلہ نہ دینے کے فیصلے کی حمایت کی۔ صحافی مکی جونیئر کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں سینیگال کی قومی ٹیم کے بعض ارکان کو ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب تلاشی دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں اور دنیا بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ازبکستان کی ٹیم کو بھی اضافی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: اسٹیڈیمز میں فلسطینی پرچم لانے کی اجازت دینے پر غور
اگرچہ ایرانی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو بالآخر ویزے مل گئے، لیکن یہ منظوری ان کے پہلے میچ سے صرف چند دن پہلے دی گئی۔ یورو نیوز کے مطابق، اس تاخیر کے باعث ایران کو اپنی تربیتی بیس ایریزونا سے تبدیل کرکے آخری وقت میں میکسیکو کے شہر تیخوانا منتقل کرنا پڑا۔ ایرانی ٹیم کے درجنوں معاون عملے کے ارکان اور فٹبال فیڈریشن کے حکام کو ویزے ہی جاری نہیں کئے گئے، جن میں فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی شامل تھے۔ مزید برآں، ایران کے گروپ مرحلے کے تینوں میچز کیلئے مختص تمام ٹکٹیں، جو ہر اسٹیڈیم کی گنجائش کا تقریباً۸؍ فیصد تھیں بغیر کسی عوامی وضاحت کے منسوخ کر دی گئیں۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن نے اس معاملے پر فیفا کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔ فی الحال ایرانی کھلاڑی تیخوانا میں سخت سیکوریٹی کے درمیان تربیت حاصل کر رہے ہیں اور صرف میچ کے دن امریکہ میں داخل ہوں گے۔ دوسری جانب، جنوبی افریقہ کے وزیرِ کھیل گیٹن میکینزی نے بھی جنوبی افریقی وفد کے ارکان کو ویزے جاری ہونے میں تاخیر پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’شرمناک‘ اور ’انتہائی غیر منصفانہ‘ قرار دیا۔
انٹرنیٹ اور فٹبال کی دنیا میں غصہ
امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر سوشل میڈیا اور فٹبال کی دنیا میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد فٹبال شخصیات، سیاست دانوں، سماجی کارکنوں اور مداحوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک میزبان ملک ٹورنامنٹ سے چند دن پہلے ایسی صورتحال کیسے پیدا ہونے دے سکتا ہے۔ سابق انگلش اسٹرائیکر ایان رائٹ نے اپنے بیس لاکھ انسٹاگرام فالوورز سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’میں نے ابھی پڑھا ہے کہ صومالی ریفری کو داخلے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ ہر چند گھنٹوں بعد ایک نئی خبر آ رہی ہے؛ شائقین، کھلاڑی، آفیشلز، صحافی، اور اب ریفریز بھی داخلے سے محروم کئے جا رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے اس صورتحال کو ’’افراتفری کا ورلڈ کپ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کے شرکاء کا استقبال اسی طرح کیا جاتا ہے۔
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے تجویز دی کہ عمر عبدالقادر آرتان کو وینکوور میں میچز آفیشیٹ کرنے کی اجازت دی جانی چا ہئے۔ انہوں نے کہا:’’مسٹر آرتان کو برٹش کولمبیا میں خوش آمدید کہا جائے گا اور ان کی کامیابیوں کا احترام کیا جائے گا۔ ‘‘صومالی نژاد کنیڈین ڈاکٹر ہودان علی نے بھی کنیڈین حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کنیڈا کے پاس انصاف، شمولیت اور کھیلوں کے اتحاد کے جذبے کا مظاہرہ کرنے کا موقع ہے۔ نائجیریا کے فٹبال مبصر سر ڈکسن نے ایک وائرل پوسٹ میں مداحوں کی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:’’ورلڈ کپ ہی منسوخ کر دو، کھلاڑیوں کو چھٹیاں گزارنے دو۔ یہ کیا تماشہ ہے!‘‘
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ ۲۶ء: ٹکٹوں کا بحران، ۷۶ء۱؍ لاکھ سے زائد ٹکٹ ری سیل بازار میں
امیگریشن پالیسیوں پر سوالات
یہ واقعات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی وسیع تر امیگریشن پالیسیوں کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں، جن کے تحت کئی ممالک کے شہریوں کیلئے امریکہ میں داخلے کے طریقہ کار کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔ ورلڈ کپ میں شریک بعض ممالک ان پابندیوں یا سخت جانچ کے اثرات سے متاثر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہیٹی، سینیگال اور آئیوری کوسٹ کے کئی شائقین کو میچوں کے ٹکٹ خریدنے کے باوجود ویزے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ اسی طرح رپورٹس میں بتایا گیا کہ درجنوں مراکشی شائقین کو بھی ویزے جاری نہیں کئے گئے، حالانکہ انہوں نے پہلے ہی ورلڈ کپ کے ٹکٹ خرید رکھے تھے۔ اس سال کے آغاز میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ تشویش ایرانی کھلاڑیوں کے بارے میں نہیں بلکہ ان افراد کے بارے میں ہے جنہیں وہ اپنے ساتھ لانا چاہتے ہیں۔ ان کا اشارہ ممکنہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے وابستگی رکھنے والے افراد کی جانب تھا، جسے امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
انسانی حقوق کے گروپوں کے تحفظات
ورلڈ کپ سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ ’انسانی حقوق کے ایک ہنگامی بحران‘ کا سامنا کر رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق امیگریشن اور سرحدی ادارے نہ صرف امریکہ میں رہنے والوں بلکہ میچ دیکھنے آنے والے شائقین اور کھلاڑیوں کیلئے بھی خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود فیفا نے امریکی حکام کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کیا۔ عمر آرتان کے معاملے پر تنظیم نے کہا: ’’ماضی کے فیفا ایونٹس کی طرح، میزبان ملک کی حکومت ہی فیصلہ کرتی ہے کہ کس شخص کو ویزا دیا جائے گا اور کسے ملک میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ ‘‘دوسری جانب امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسافر، بشمول کھلاڑی، انفرادی بنیاد پر جانچ اور سکیوریٹی ویٹنگ کے عمل سے گزرتے ہیں۔