Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے رحمان خان کے فرزند منصور علی خان کا راجیہ سبھا جانا طے

Updated: June 10, 2026, 10:06 PM IST | Bengaluru

کانگریس کے مشہور لیڈر کے رحمان خان کے بیٹے منصور علی خان راجیہ سبھا کیلئے نامزد ہو گئے ہیں۔ منصور علی خان جو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رکن ہیں، اب راجیہ سبھا کے رکن ہوں گے۔

Mansoor Ali Khan (center). Photo: X
منصور علی خان (درمیان)۔ تصویر: ایکس

کرناٹک میں کانگریس کے قد آور لیڈر، راجیہ سبھا کے سابق ڈپٹی چیئرمین اور ریاست ِ کرناٹک میں کئی عہدوں پر فائز رہنے والے معروف سیاستداں کے رحمان خان کے فرزند منصور علی خاں جو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رکن ہیں، راجیہ سبھا کا حصہ ہوں گے۔ کانگریس نے جن تین لیڈروں کو ریاست ِ کرناٹک سے ٹکٹ دیا ہے اُن میں پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کے علاوہ پون کھیڑا اور منصور علی خان شامل ہیں۔ تینوں لیڈران کا راجیہ سبھا کا رکن بننا طے مانا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ: خرم پرویز، جموں و کشمیر کے حقوقِ انسانی کارکن کی ضمانت منظور

پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس نے تلنگانہ اسمبلی الیکشن ۳۰۲۳ء اور کیرالا اسمبلی الیکشن ۲۰۲۶ء میں منصور علی خان کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے اُنہیں ٹکٹ دیا۔ منصور اے آئی سی سی کے تلنگانہ انچارج تھے جب پارٹی نے تلنگانہ کی ۱۱۹؍ میں سے ۶۴؍ سیٹیں جیت کر اُس ریاست میں حکومت بنائی۔ بعدازیں منصور کو کیرالا کا انچارج بنایا گیا اور وہاں بھی پارٹی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برتری حاصل کی اور اب وہاں ڈی ستیشن کی سربراہی میں پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ منصور علی خان سیاست میں ہونے کے باوجود ایک ایجوکیٹر کی حیثیت سے بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے انہیں، اس سے قبل بھی نوازنے کی کوشش کی مگر یہ پہل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی۔ انہیں ۲۰۲۲ء میں کرناٹک قانون ساز کونسل کیلئے پارٹی کا ٹکٹ دیا جانا بالکل طے تھا جو آخری لمحات میں سابق ایم ایل سی کے عبدالجبار کو دے دیا گیا تھا۔ ایک ماہ بعد کانگریس نے منصور کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیا مگر یہ طے تھا کہ وہ جیت نہیں پائیں گے کیونکہ فتح کیلئے جتنے ووٹ درکار تھے کانگریس کے پاس اتنے ووٹ نہیں تھے اور جے ڈی ایس کا تعاون نہیں مل پا رہا تھا۔ بعد ازاں کانگریس نے انہیں ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا الیکشن کیلئے بنگلور سینٹرل کے حلقے سے اُمیدوار بنایا۔ انہوں نے بی جے پی کے پی سی موہن کو سخت آزمائش میں مبتلا کیا اور محنت سے الیکشن لڑا جس کی وجہ سے پی سی موہن کی جیت کا فرق گھٹ کر ۳۲؍ ہزار ۷؍ سو ووٹ پر آگیا تھا۔ تعلیمی میدان میں اُن کی سرگرمیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ وہ کرناٹک کی کئی تعلیمی تنظیموں سے وابستہ ہیں جن میں کرناٹک فیڈریشن آف انڈیپینڈنٹ اسکولس مینجمنٹ شامل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دہلی کی ایک عدالت نے الفلاح گروپ کے سربراہ کی ضمانت مسترد کی

منصور علی خان کے والد جناب کے رحمان خان، جو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھے، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے علاوہ کرناٹک کے معروف سیاستداں اور ماہر معاشیات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ چار مرتبہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے تھے۔ مرکزی حکومت میں اقلیتی اُمور کے وزیر بھی رہے۔ اس سے قبل انہوں نے کرناٹک قانون ساز کونسل کے چیئرمین اور کرناٹک اقلیتی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔ اس وقت ان کی عمر ۸۷؍ سال ہے۔ 

منصور خان نے راجیہ سبھا کیلئے نامزد ہونے کے بعد سنیچر کو ایکس پر یہ پیغام پوسٹ کیا تھا: ’’یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور مَیں اسے بحسن و خوبی نبھانے کا عزم رکھتا ہوں۔ کانگریس لیڈرشپ کا شکریہ کہ اس نے مجھ پر بھروسہ کیا۔ مَیں، پارٹی کے ہزاروں کارکنان، رفقائے کار اور عام شہریوں کا بھی شکر گزار ہوں جو اَب تک کے سفر میں میرے ساتھ رہے۔ میری کوشش ہوگی کہ کرناٹک اور وطن عزیز کیلئے بہترین خدمات پیش کروں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK