حال ہی میں ممبئی کے ملبار ہل علاقے میں واقع سائلنس ٹاور جس کو عرف عام میں ڈونگر واڑی کہتے ہیں ایک شخص کو غیر قانونی طور پر پارسیوں کے سائلنس ٹاور میں گھسنے اور آخری رسوم کی ادائیگی کی ویڈیو بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
موت برحق ہے۔ اسے بھی مرنا ہے جو خالق و مالک اور کسی مذہب کو مانتا ہے اور اسے بھی مرنا ہے جو مالک و خالق اور کسی مذہب کو نہیں مانتا۔ احسان دانش نے سب کے لئے کہا ہے کہ؎
چوکھٹے قبر کے خالی ہیں انہیں مت بھولو
جانے کب کون سی تصویر لگا دی جائے
مرنے کے بعد لوگ الگ الگ ٹھکانوں پر لے جائے جاتے ہیں ۔ مسلمانوں ، یہودیوں ، عیسائیوں کی آخری آرام گاہ کو قبرستان کہتے ہیں جبکہ ہندوؤں کی آخری آرام گاہ کو شمشان یا مرگھٹ۔ ہماری خوش عقیدگی کا یہ حال ہے کہ وہ مرنے والے کی پیدائش کے مطابق ہی بیشتر اس کے آخری ٹھکانے کا انتخاب کرتی ہے یعنی اگر کسی شخص نے اپنا مذہب چھوڑ دیا ہو مگر دوسرے مذہب کو قبول نہ کیا ہو تو اس کے ساتھ اس کے پیدائشی مذہب کے مطابق ہی معاملہ کیا جاتا ہے۔ میری نظر سے کوئی ایسا قبرستان نہیں گزرا جہاں صرف دہریے دفن کئے جاتے ہوں ۔
پارسیوں کی آخری رسوم الگ انداز سے ادا کی جاتی ہیں یعنی ان کی میت کو ایک خاص مقام پر رکھ دیا جاتا ہے جہاں گدھ انہیں اپنا لقمۂ تر بناتے ہیں ۔ اس مقام کو Tower Of Silence کہا جاتا ہے۔ ’دخمہ‘ بھی ایک لفظ ہے جو پارسیوں کے قبرستان یا مقبرہ یا اس عمارت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جہاں میت رکھی جاتی ہے کہ میت گدھ کا لقمہ بن سکے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پارسیوں کے ساتھ مرنے کے بعد کیا کیا جاتا ہے اور ان کی آخری رسوم کس طرح ادا کی جاتی ہیں ۔ ابھی حال ہی میں ممبئی کے ملبار ہل علاقے میں واقع سائلنس ٹاور جس کو عرف عام میں ڈونگر واڑی کہتے ہیں ایک شخص کو غیر قانونی طور پر پارسیوں کے سائلنس ٹاور میں گھسنے اور آخری رسوم کی ادائیگی کی ویڈیو بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ شکایت کرنے والے کا نام عادل ملیا ہے جو پارسی پنجات کے ٹرسٹی اور سی ای او ہیں ۔ ایف آئی آر کے مطابق ۲۲؍ مئی ۲۰۲۶ء کو سوشل میڈیا پر ایک شخص نے غیر قانونی طور پر ٹاور آف سائلنس کے اندر داخل ہو کر ایسی تصاویر لیں اور عام کیں جس سے پارسی مذہب کے ماننے والوں کی عقیدت کو ٹھیس پہنچی۔ جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے وہ شاید یوپی کے ہردوئی کا رہنے والا ہے۔
کسی کی آخری رسوم کی فلم یا ویڈیو بنانے کی اس شخص کو کیا ضرورت پیش آئی؟ یہ تو نہیں معلوم ہوسکا البتہ یہ ضرور معلوم ہوا کہ ویڈیو یا فلم بنانے والا شخص ڈجیٹل کنٹینٹ کرئیٹر ہے۔ شاید نفع کمانے کے لئے اس نے یہ سب کیا اور بالآخر پکڑا گیا۔ مسلمانوں کے ساتھ قبر میں کیا ہوتا ہے؟ نکیرین کیا سوال کرتے اور جواب پاتے ہیں یہ جاننے کے لئے بھی کئی مرتبہ کیمرے اور ریکارڈر قبر میں رکھے گئے تھے مگر منظر عام پر کچھ نہیں آیا۔ سنا ہے کہ قبر میں دفن کئے جانے والے کا سب سے پہلے پیٹ پھٹتا ہے، بعد میں دیگر اعضاء بھی ختم ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان ساری برائیاں پیٹ پالنے کے لئے ہی کرتا ہے اور پیٹ ہی سب سے پہلے اس کا ساتھ چھوڑتا ہے۔
دنیا میں بھی ایسے کتنے واقعات رونما ہوتے ہیں جو حرام کمائی پر پلے ہوئے جسم کے عبرتناک حشر کا پتہ یا سراغ اور سبق دیتے ہیں کہ حرام کمائی سے بچو۔ مذہبی تعلیمات، علماء کی نصیحتوں اور انسان کے انفرادی اور اجتماعی تجربات سے حرام کمائی کا مہلک ہونا ثابت ہے اس کے باوجود انفرادی معاملات میں ہی خرابی نہیں پیدا ہو رہی ہے بلکہ قبرستان اور اوقاف تک بیچے جاتے رہے اور اب بھی بیچے جا رہے ہیں ۔ بیشتر بیچنے اور خریدنے والے دونوں مسلمان ہوتے ہیں ۔ مسلم قبرستانوں میں اکثر جانا ہوتا ہے تو وہاں بیشتر چرسی اور گنجیڑی قابض دکھائی دیتے ہیں ۔ ٹاور آف سائلنس کا یہ نظام اچھا لگا کہ وہاں ایک شخص بغیر اجازت گھسا تو ٹرسٹی اور سی ای او نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ شکایت یہ ہے کہ ایک شخص بغیر اجازت غیر معروف راستے سے یہاں کیمرہ مین کے ساتھ داخل ہوا اور یہاں پائے گئے مردوں کے باقیات کے ساتھ پارسی جماعت میں انجام دی جانے والی آخری رسوم کو سوشل میڈیا پر عام کرکے پارسی جماعت کے لوگوں کی دل آزاری کا باعث بنا۔ مسلم قبرستانوں میں تو ہوٹل اور چائے خانے چل رہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ جو روکتا ٹوکتا ہے اس کی جان جوکھم میں پڑ جاتی ہے۔ بات سخت ہے مگر سچی بات ہے کہ اب تو حج، عمرہ، قربانی.... وغیرہ میں بھی ایسے لوگ داخل ہوگئے ہیں جن کا کام دنیا کمانا ہے۔
میں عالم یا فقہ کا جاننے والا نہیں ہوں مگر میری فہم یہ کہتی ہے کہ روزہ، نماز، زکوٰۃ، حج وغیرہ بھی تب فائدہ پہنچاتے ہیں جب پاکیزہ کمائی کا التزام کیا گیا ہو۔ میں غربت کے باوجود کئی بار حج کے لئے گیا ہوں اور میرا تجربہ ہے کہ طواف، مطاف، مزدلفہ، منیٰ، عرفات سب شوقیہ ویڈیو گرافی کی زد میں آتے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے جیب کٹ جانے کا ناٹک کرکے پیسے جمع کرنا یا قربانی کے نام پر دھوکہ دھڑی کرنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ میں تو اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ایسے روپے سے جو حرام کا ہو۔ میں یہ بتانے میں بھی عذر نہیں کرتا کہ مختلف وجوہ سے نفلی عبادات مجھ سے کم ہوتی ہیں مگر میں فرائض کی ادائیگی کے ساتھ رزق حلال کا اہتمام کرتا ہوں ۔ ابتدائی عمر میں ہی میں نے ایک ٹی وی مشاعرے میں پڑھا بھی تھا کہ؎
طارق انہیں کا فیض کرم ہے جو آج تک
فاقوں میں بھی بچا ہوں مَیں رزقِ حرام سے
پارسی قبرستان میں جس شخص نے ناجائز طور پر گھس کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی شاید اس کو حلال و حرام کی تمیز نہیں ہے مگر قبرستان والوں کو تو بتایا گیا ہے کہ قبرستان، مقابر اور اہل القبور کا احترام کیا ہے؟ وہ کیوں ایسی حرکت کرتے ہیں کہ جائے عبرت جائے تماشہ بنتی جاتی ہے۔ اللہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا؟ ان کے لئے بھی غور و فکر کا مقام ہے جو گائے کو ماتا مانتے ہیں اور کسی بھی جانور کی قربانی میں رخنہ ڈالتے ہیں مگر جیسلمیر میں گایوں کے حشر سے سبق نہیں لیتے۔ شاید اس لئے کہ آستھا کا تو بس نام ہے قربانی اور ذبیحہ میں رخنہ ڈالنا وصولی کیلئے ہے۔ ہم البتہ جیسلمیر کے واقعے سے دکھی ہیں کہ اگرچہ ہم گائے کو ماتا نہیں مانتے مگر جو مانتے ہیں ان کی آستھا کا احترام کرتے ہیں ۔