Updated: July 20, 2026, 8:02 PM IST
| Mumbai
باکس آفس پر ’’سکندر‘‘ کی ناکامی کے بعد سلمان خان کی آئندہ فلم ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔ پہلے ’بیٹل آف گلوان‘ اور پھر ’ماتر بھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘ کے نام سے جانی جانے والی اس فلم کا عنوان اب تبدیل کرکے ’ماتر بھومی: ایک قوم کا فخر، ایک سپاہی کا وعدہ‘ رکھ دیا گیا ہے۔ فلم کا نیا پوسٹر بھی جاری کر دیا گیا ہے، تاہم اس میں ہدایت کار اپوروا لاکھیا کا نام موجود نہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف سوالات اٹھائے ہیں۔
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی آئندہ فلم ایک مرتبہ پھر اپنے عنوان اور پوسٹر کی وجہ سے خبروں میں آ گئی ہے۔ فلم کے نئے پوسٹر کے ساتھ اس کی ۲۰۲۶ء میں ریلیز کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے، تاہم ہدایت کار اپوروا لاکھیا کا نام پوسٹر سے غائب ہونے پر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سلمان خان، فلم ’سکندر‘ کی باکس آفس پر ناکامی کے بعد اپوروا لاکھیا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ کی ریلیز کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ فلم ۲۰۲۰ء میں ہندوستان اور چین کے درمیان گلوان وادی میں ہونے والے سرحدی تصادم پر مبنی ہے اور ابتدائی طور پر اسے اپریل ۲۰۲۶ء میں ریلیز کیا جانا تھا۔
بعد ازاں مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ فلم کو بعض سرکاری اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس کا عنوان تبدیل کرکے ’ماتر بھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘ رکھ دیا گیا۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ متعلقہ حکام کی ہدایات کے بعد فلم کے کئی مناظر دوبارہ فلمائے گئے، تاہم ان اطلاعات پر فلم سازوں کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اب سلمان خان فلمز نے فلم کا نیا پوسٹر جاری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عنوان تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے پوسٹر کے مطابق فلم کا نام اب ’ماتر بھومی: ایک قوم کا فخر، ایک سپاہی کا وعدہ‘(اے نیشنز پرائیڈ، اے سولجرز پرومس) رکھا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاری کیے گئے پوسٹر پر ہدایت کار اپوروا لاکھیا کا نام درج نہیں، بلکہ صرف ’’سلمان خان فلمز کی ایک فلم‘‘ تحریر کیا گیا ہے۔

تصویر: ایکس
پروڈکشن ہاؤس نے پوسٹر شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’ایک سپاہی کا وعدہ، ایک خاندان کی طاقت، ایک قوم کا فخر۔‘‘ پوسٹر منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ ’’ہدایت کار کا نام ہی نہیں لکھا گیا۔‘‘ ایک اور صارف نے پوسٹر کے ڈیزائن پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسے چند لمحوں میں کسی مفت ڈیزائننگ پلیٹ فارم پر تیار کیا گیا ہو، جبکہ ان کے مطابق فلم کو سینما گھروں کے بجائے براہِ راست او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کر دینا چاہیے تھا۔ ایک اور صارف نے بھی سوال کیا کہ اگر یہ اپوروا لاکھیا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ہے تو پوسٹر پر ان کا نام کیوں موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۴؍ برس کی تاخیر، ہما قریشی، مرنال ٹھاکر کی ’’پوجا میری جان‘‘ زی ۵؍ پر ریلیز ہوگی
ادھر حال ہی میں ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران سلمان خان سے فلم کے بارے میں تازہ پیش رفت سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’مجھ سے کچھ بھی پوچھ لیجیے، لیکن اس موضوع پر سوال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ سلمان خان کے اس مختصر جواب کے بعد بھی فلم کی ریلیز، عنوان میں بار بار تبدیلی اور ہدایت کار کے کردار سے متعلق قیاس آرائیاں بدستور جاری ہیں، جبکہ مداح اب پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے مزید باضابطہ اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔