Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء: دنیا بھر میں اسپین کی فتح کا جشن، خوشی کے موقع پر فلسطین کو بھی یاد رکھا گیا

Updated: July 20, 2026, 8:05 PM IST | Madrid/Gaza/New York

قومی فٹبال ٹیم کی ورلڈ کپ میں شاندار فتح کے ساتھ ہی اسپین میں زبردست جشن کا آغاز ہوا جو صبح سویرے تک جاری رہا۔ ہسپانوی مداحوں نے اس موقع پر بھی فلسطین کو یاد رکھا اور ہجوم نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ”فری فلسطین“ کے نعرے لگائے۔ میڈرڈ میں شائقین نے رات گئے سے لے کر صبح سویرے تک آتش بازی کے ساتھ سڑکوں پر جشن منایا۔

Photo: X
بارسلونا میں فلسطینی پرچم کے ساتھ اسپین کی فتح کا جشن مناتے ہوئے ہسپانوی مداح۔ تصویر: ایکس

فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے فائنل مقابلے میں اسپین نے دفاعی چیمپیئن ارجنٹائنا کو ۱-۰ سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کرلیا۔ بارسلونا کے فارورڈ فیران ٹوریس، جو ۶۲ ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے تھے، نے ۱۰۶ ویں منٹ میں انتہائی قریب سے گول کرکے اپنی ٹیم کی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اس ٹورنامنٹ میں ان کا پہلا گول تھا۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی متبادل کھلاڑی نے فائنل میں فیصلہ کن گول کیا ہو۔

عالمی لیڈران نے اسپین کی فٹبال ٹیم کو مبارکباد دی

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے قومی فٹبال ٹیم کو ’عالمی چیمپیئن‘ بننے پر مبارکباد پیش کی اور اس کامیابی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایکس پر اسپین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ”میں اسپین کی قومی ٹیم کو ۲۰۲۶ء کا فیفا ورلڈکپ جیتنے پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اپنے ملک اور قوم کی طرف سے اسپین کے دوست عوام کیلئے نیک خواہشات اور گرمجوشی کا پیغام بھیجتا ہوں۔" 

یہ بھی پڑھئے: اسپین: تاریخ رقم، بیک وقت ۲؍ فیفا ورلڈ کپ ٹائٹل (مرد و خواتین) والا پہلا ملک بنا

ریاستِ فلسطین کے آفیشل اکاؤنٹ نے ایکس پر فلسطینی اور ہسپانوی پرچم اور دل کے ایموجیز کے ساتھ مبارکباد کا پیغام پوسٹ کیا۔ صدر محمود عباس نے اسپین کے شاہ فلیپ ششم اور وزیر اعظم سانچیز کو تہنیتی پیغامات بھیجے، جس میں انہوں نے اس فتح کو ”ایک بڑی عالمی کھیلوں کی کامیابی“ قرار دیا۔

فلسطینی پرچم کے ساتھ دنیا بھر میں اسپین کی فتح کا جشن منایا گیا

قومی فٹبال ٹیم کی ورلڈکپ میں شاندار فتح کے بعد اسپین میں زبردست جشن شروع ہوگیا۔ بارسلونا میں ہسپانوی مداحوں نے اس موقع پر فلسطین کو بھی یاد رکھا اور ہجوم نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ”فری فلسطین“ کے نعرے لگائے۔ میڈرڈ میں شائقین نے رات گئے سے لے کر صبح سویرے تک آتش بازی کے ساتھ سڑکوں پر جشن منایا۔ 

نیویارک کے محلے بے رج میں، جسے ”لٹل فلسطین“ (چھوٹا فلسطین) بھی کہا جاتا ہے، میں رہائش پذیر عرب امریکی شائقین نے بھی اسپین کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا جنہوں پورے ٹورنامنٹ کے دوران اسپین کی حمایت کی تھی۔ کمیونٹی کے ایک رکن قاسم نے الجزیرہ کو بتایا کہ جب فلسطین پر بمباری کی گئی تو اسپین نے اس کی سخت مخالفت کی اور جب لبنان پر بمباری ہوئی تب بھی اس کے خلاف اسپین نے سخت موقف اپنایا۔ اسپین کے اسٹار کھلاڑی الامین جمال نے رواں سال کے اوائل میں بارسلونا کی لالیگا ٹائٹل کی فتح کے جشن کے دوران بھی فلسطینی پرچم لہرایا تھا، جس سے متاثر ہو کر غزہ کے جنگ زدہ علاقوں میں اس نوجوان کھلاڑی کے دیواری خاکے بنائے گئے تھے۔

ملبے کے ڈھیر کے درمیان غزہ میں اسپین کی فتح کا جشن

محصور فلسطینی علاقے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں نے عارضی اسکرینوں کے گرد جمع ہو کر اور سڑکوں پر نکل کر اسپین کی ورلڈکپ فتح کا جشن منایا۔ بجلی کی بندش کی وجہ سے انفرادی طور پر میچ دیکھنا تقریباً ناممکن تھا، اس لئے سینکڑوں لوگ شہر کے کیفے میں جمع ہوئے جہاں بڑی اسکرینیں لگائی گئی تھیں اور میچ کا لطف اٹھایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فیفا ۲۶ء: فائنل کے بعد ارجنٹائنا کے ۲؍ کھلاڑیوں نے ٹرمپ سے مصافحہ نہیں کیا

حماس کے سینئر عہدیدار باسم نعیم نے اسپین کو مبارکباد دیتے ہوئے اس جیت کو ”فلسطینی عوام اور انصاف کے تمام حامیوں کیلئے خوشی کا باعث“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر اس جیت کا صیہونیوں اور ان کے گماشتوں کو پریشان کرنے کے علاوہ کوئی اور فائدہ نہ بھی ہوتا، تو بھی یہ کافی تھا۔“ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK