• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کبھی جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میں‘‘

Updated: February 09, 2026, 1:42 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

انسانی زندگی کی معصومیت کے ساتھ کھلواڑ سب سے بڑا جرم ہے۔معصومیت ہی ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بغیر تہذیبی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔

INN
آئی این این
آنکھیں  مشرق کی ہوں  یا مغرب کی انہیں  خشک نہیں  ہونا چاہیے۔ موجودہ صورت حال میں  لگتا یہی ہے کہ زمانے کی آنکھیں  خشک ہو چکی ہیں ۔ سینے میں  جو دل دھڑکتا ہے، اس کی طرف سے تو کوئی بھی غافل نہیں ۔ دھڑکن انسانی زندگی کیلئے ضروری ہے اور یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ آنکھوں  کی خشکی زندگی کو آسان بنا دیتی ہے۔ ایک شخص کی آنکھوں  کی نمی زمانے کی خشک ہوتی ہوئی آنکھوں  کا کچھ بگاڑ نہیں  سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ کسی گوشے کا ایک چراغ اپنے طور پر تاریکی کو دور کر دیتا ہے۔تاریکی کی گہرائی کا احساس بھی رخصت ہوتا جا رہا ہے۔ یہ جب ہے کہ اصول و ضوابط کے تعلق سے لکھنے اور بولنے کی فضا پہلے سے زیادہ روشن ہو گئی ہے۔ جتنی روشنی بڑھی ہے اسی کے اعتبار سے تاریکی بھی بڑھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب کوئی چھپ نہیں  سکتا مگر چھپنے والے چھپ ہی جاتے ہیں ۔ پھر بھی یہ سچ ہے کہ کوئی خود کو چھپا کر رخصت نہیں  ہو سکتا۔ جو جس طرح کا ہے،اسے ویسا ہی ثابت ہونا ہے۔ بڑے سے بڑا جرم اور اس سے وابستہ نئی پرانی تاریخ جب معمول کا عمل بن جائے،تو لازما ًآنکھیں  خشک ہو جاتی ہیں ۔کبھی وکیل بحث کرتے ہوئے رو پڑتا تھا، کبھی قومی رہنما کو بولتے بولتے رکنا پڑتا تھا تاکہ بھیگی ہوئی آنکھوں  کو مَل سکے۔ غم کی تلخی جب زمانے کے لیے لطف کا وسیلہ بن جائے تو پھر کچھ کہنے کے لیے باقی نہیں  رہ جاتا۔کلیم عاجز نے کہا تھا: 
کلیجہ تھام کر سنتے ہیں  لیکن سن ہی لیتے ہیں 
 مرے یاروں  کو میرے غم کی تلخی بھی مزا  دے  ہے
 انسانی اور اخلاقی اقدار کا ایک رشتہ آنکھوں  کی نمی اور تری سے بھی ہے لیکن آنکھوں  کی نمی اور خشکی اب ہماری تہذیبی زندگی کیلئے کوئی مسئلہ نہیں  ہے۔تاریخ نے پہلے بھی اس صورتحال کو دیکھا ہوگا۔ مگر موجودہ صورتحال کا رشتہ انسانی جرائم سے ہے۔ معصومیت ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بغیر تہذیبی زندگی کا تصور ممکن نہیں ۔معصومیت کے سامنے نگاہ جھک جاتی ہے۔لگتا ہے کہ دنیا ابھی رہنے کے لائق ہے۔جب شاد عظیم آبادی نے کہا تھا؎
 اس سرا میں  کسی مہمان کی خاطر نہ ہوئی
 شاد جی چاہے گا آنے کو دوبارہ کس کا
 تو ان کے پیش نظر قدرت کا نظام تھا،جس میں  انسان کی پریشان حالی پریشان کر رہی تھی لیکن جو آج کا سَرا( سرائے) ہے، شاد نے اس کا تصور بھی نہیں  کیا ہوگا کہ معاشرہ تہذیبی اعتبار سے اتنا گر سکتا ہے۔ انسان کی ذات اپنے بارے میں  بہت کچھ تحقیق کرتی رہتی ہے ، وہ  بہت دیر تک اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں  کو نہ تو برداشت کر سکتی ہے اور نہ ان زیادتیوں  کو پناہ دینے والی طاقتوں  کو چھپنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ہر مجرم کے وجود میں  ایک مخبر چھپا ہوا ہے۔ مخبری کا عمل غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے لیکن مخبری جو خود اپنی راہ تلاش کر لیتی ہے اس پر کس کا اختیار ہے۔اسی لیے انسانی تاریخ میں  ایسے لمحات بہت آئے ،جب انسانی جرائم نے مجرموں  کو نہ صرف تلاش کر لیا بلکہ انہیں  رسوا بھی کیا ہے۔ پینٹاگون پیپرز کے نام سے جو دستاویزات  ۱۹۷۱ء میں  سامنے آئے ان کا تعلق  جنگ سے تھا۔ان دستاویزات کی اشاعت کا سلسلہ دی نیو یارک ٹائمز سے شروع ہوا۔ دنیا حیرت زدہ تھی کہ کتنا کچھ اپنے لوگوں  سے چھپایا گیا۔پاکٹ سائز میں  شائع ہونے والی دستاویزات پر مشتمل یہ کتاب،تاریخ ہی نہیں  بلکہ موجودہ نظام کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔
ڈیجیٹل دستاویزات بہت روشن ہیں  اپنی بے پناہ بے دردانہ تاریکیوں  کے ساتھ۔ شعر و ادب میں  اس بات پر کئی حوالوں  سے زور دیا گیا کہ ظلم و زیادتی پر ظالم کو شرمندہ ہونا چاہیے۔لیکن ظالم کی فطرت میں  جو بے حسی اور ذلالت ہے اس نے،شرمندگی کی منزل تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں  دیا۔ بے شرمی زندگی کو آسان بنا دیتی ہے۔  عام آدمی کی بے شرمی اس بڑے آدمی کی بے شرمی سے الگ تو نہیں  جس کا اثر دنیا پر بہت زیادہ ہے۔پھر بھی انسانی زندگی کی معصومیت کو خطرہ اس ذہن سے ہے جو دراصل شدید طور پر بیمار ہے۔ بیمار ذہن کی تشکیل میں  زندگی کی آزاد روی کا اہم کردار رہا ہے۔ کوئی ٹوکنے اور روکنے والا نہ ہو، ہم آزاد ہیں ، ہمیں  ہر طرح کی آزادی ملنی چاہیے۔
 
 
ادھر کئی دنوں  سے اخباروں  کی سرخی معصوم زندگیوں  کے ساتھ زیادتیوں  کی خبروں  سے لہو لہان ہے۔اخبار کو دیکھتے دیکھتے آنکھوں  میں  اندھیرا سا  چھا جاتا ہے۔ زبان جب کوڈ بن جائے تو ایسے میں  کتنی بڑی سازش کی زد میں  انسانی زندگی آ جاتی ہے۔ کوڈ کو ’’ڈی کوڈ‘‘ کرنا اب یہی سب سے بڑی ذہانت رہ گئی ہے۔ کوڈنگ اور ڈیکوڈنگ کا عمل زندگی کے ہر معاملے میں  جاری ہے۔ زبان کسی خاص لفظ کے ساتھ تہذیبی زندگی کے لیے کیا اتنی خطرناک ہو سکتی ہے جتنی کہ دکھائی دیتی ہے؟ لہٰذا زبان کے ساتھ بھی زیادتی انسانی زیادتیوں  کی ایک بڑی حقیقت ہے۔ایک لفظ دوسرے کے لیے جو مطلب ادا کر رہا ہے وہ سازش کا نتیجہ ہے۔اور وہی لفظ جب کوئی اور ادا کر رہا ہوگا تو اس کا مفہوم کچھ اور ہوگا۔سازش کرنے والا ایک لفظ کے ساتھ سازش نہیں  کر رہا بلکہ وہ انسانیت اور اس کی معصومیت کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ 
زبان کو بعض زبان کے ماہرین نے ایک طاقت کے طور پر دیکھا اور یہ کہا کہ زبان بطور طاقت استعمال ہوتی ہے۔مگر اب جو کوڈنگ اور ڈیکوڈنگ کی ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے،اس میں  تو الفاظ کے معنی وہ نہیں  ہیں  جن کی طرف لسانی ماہرین نے اشارہ کیا تھا۔ یہ سازش اور سیاست اس سے آگے کی منزل ہے جس کیلئے کسی بڑی ذہانت کی ضرورت نہیں ۔خبروں  اور تصویروں  کو دیکھ کر کچھ کہنے اور لکھنے کو جی نہیں  چاہتا۔اخبار ہمیں  اپنے وقت سے باخبر کرتا ہے،اور یہ باخبری وجود کو پارہ پارہ کیے دیتی ہے۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب احساس زندہ ہو اور آنکھیں  خشک نہ ہوئی ہوں ۔خبروں  کے ساتھ تصویریں  نہ ہوتیں  تو اس زمانے کا غصہ اتنا شدید نہ ہوتا۔مگر سب سے بڑی سیاست اور سازش مجرموں  کی وہ ذہنیت ہے جس پر سے پردہ ابھی اٹھنا باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK