• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمان کے مسقط شہر میں مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے

Updated: February 10, 2026, 10:49 AM IST | Agency | Washington

واشنگٹن مذاکرات کے اگلے دور میں ایران سے مزید مطالبات منوانے کی کوشش کرے گا ، اسرائیل جوہری پروگرام بند کروانے پر بضد

A Round Of Negotiations Has Taken Place In The City Of Muscat, Oman. Photo:INN
عمان کے مسقط شہر میں مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے- تصویر:آئی این این

 امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد ہونے والا ہے جس پر سبھی کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے تہران سے سخت توقعات کا اظہار کیا جا رہا ہے یعنی اس پر دبائو بڑھنے والا ہے۔ جبکہ دوسری جانب اسرائیل کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جوہری فائل سے ہٹ کر اضافی پابندیاں شامل کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔
 ایک اسرائیلی چینل کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے اگلے اجلاس میں سنجیدہ اور بامعنی مواد کے ساتھ شرکت کی توقع رکھتی ہے۔ چینل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ مذاکرات کے اگلے دور میں مختلف امور پر تہران کی جانب سے رعایتیں پیش کیے جانے کا منتظر ہے۔
میزائلوں کی حد مقرر کرنا
اسی تناظر میں ایک اور چینل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم  بنیامین نیتن یاہو صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے یہ مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں میزائلوں کی حد مقرر کرنے سے متعلق شق شامل کی جائے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مذاکراتی فریم ورک کو وسعت دے کر جوہری فائل کے ساتھ ساتھ ایرانی میزائل پروگرام کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔یہ پیش رفت برسوں کے تناؤ اور باہمی کشیدگی کے بعد ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل پر بحث کیلئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کی بحالی کے سائے میں سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نادرہ بالی ووڈ کی بےخوف اور خودمختار کرداروں کی علامت تھیں

اسرائیلی کی دھمکی
امریکہ بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ کوئی بھی نیا معاہدہ مضبوط اور طویل مدتی ہونا چاہئے، جبکہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے سے انکار کرتا رہا ہے اور اسے اپنا دفاعی معاملہ قرار دیتا ہے۔اسرائیل کا حالیہ موقف نیتن یاہو کی جانب سے دی گئی گزشتہ دھمکیوں  سے میل کھاتا ہے جن میں انہوں نے کئی مواقع پر مطالبہ کیا تھا کہ صرف جوہری پہلو پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان علاقائی خطرات کا بھی تدارک کیا جائے جن کا ذکر اسرائیل کرتا رہتا ہے، اور ان میں سرفہرست بیلسٹک میزائلوں کی تیاری ہے۔ایک رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ فریقین کے مابین موقف میں فرق اور امریکہ و ایران کے اندرونی سیاسی دباؤ کے پیش نظر مذاکرات کا اگلا دور پیش رفت کے امکانات کے حوالے سے ایک فیصلہ کن امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بینک عوام کے پیسے کے ٹرسٹی ہیں: سپریم کورٹ

ایران مقابلے کیلئے تیار 
 اس دوران ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل رضا طلائی نےکہاہے کہ ایرانی افواج دشمنوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحیت یا حساب کتاب کی غلطی سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔  انہوں نے کہا کہ عوام اور حکومت پوری طرح اپنی فوج کے پیچھے کھڑے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK