جماعت اسلامی نے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو ٹکٹ دیا۔فی الحال بی این پی کو مضبوط سمجھاجار ہا ہے
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 11:17 AM IST | Agency | Dhaka
جماعت اسلامی نے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو ٹکٹ دیا۔فی الحال بی این پی کو مضبوط سمجھاجار ہا ہے
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں ۔ اسی دوران بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے ملک میں۱۲؍ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تاجر کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے کے انتخابات میں اپوزیشن غائب تھی ۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی) اور جماعت اسلامی نے۲۰۱۴ء اور ۲۰۲۴ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور عوامی لیگ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے انتظامی کنٹرول، پہلے سے بھرے گئے بیلٹ بکس اور سیکوریٹی اداروں کی مدد سےبھاری اکثریت حاصل کی تھی۔ اگرچہ عوامی لیگ ان انتخابات کے ذریعے اقتدار میں رہی لیکن بالآخر اس کی گرفت کمزور پڑ گئی۔
پیر کوملک بھر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ ملک کے مختلف حصوںمیں جابجا بی این پی کے ’دھان کی بالی‘ اور جماعت اسلامی کے ’ترازو‘ کے نشان والے پوسٹر نظر آ رہے ہیں۔ واضح رہےکہ اس سے پہلے کے انتخابات میں ہر جگہ عوامی لیگ کا ’کشتی ‘کا نشان نظر آرہا تھا۔
ماہرین کے مطابق ۱۲؍ فروری کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی کو سب سے مضبوط سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی۳۰۰؍ میں سے۲۹۲؍ نشستوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت بنانے کے لئے مطلوبہ اکثریت حاصل ہونے کا پورا یقین ہےلیکن مقابلہ یکطرفہ نہیں ہے۔
بی این پی اس انتخاب کو فیصلہ کن امتحان سمجھ رہی ہے۔ پارٹی قیادت اب وہ جماعتِ اسلامی کی بڑھتی ہوئی تنظیمی طاقت کو تسلیم کر رہی ہے۔ جماعت، اپنی طرف سے، بی این پی پر ماضی میں اقتدار کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مایوس ووٹرز اسے ایک متبادل کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
جماعت ا سلامی کی قیادت میں ایک اتحاد بھی مضبوط حیثیت اختیار کر چکا ہے جسےنوجوانوں سے تعلق رکھنے والی ایک نئی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہے۔ اس نئی جماعت کے زیادہ تر اراکین کی عمر تیس سال سے کم ہے۔
اسی دوران حلقہ انتخاب کھلنہ-۱؍سے جماعت اسلامی کے امیدوار کرشنا نندی نے کہا ہے کہ اگر جماعت اسلامی اقتدار میں آتی ہے تو بنگلہ دیش کے ہندو شہری محفوظ اور باعزت زندگی گزاریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی سیاسی جماعتوں اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق پائے جانے والے خدشات بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی : جموں کشمیر پہلی مرتبہ سیمی فائنل میں،ممبئی کا سفر ختم
عرب میڈیا میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کرشنا نندی نے کہا کہ ایک اسلامی جماعت کی جانب سے کسی ہندو کو امیدوار بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی اور ان کے تحفظ کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کی حکومت میں کسی ہندو کو ملک چھوڑنے یا ہندوستان نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور قانون و انصاف کے ذریعے مساوات کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:نادرہ بالی ووڈ کی بےخوف اور خودمختار کرداروں کی علامت تھیں
انہوں نے بتایا کہ وہ ۲۰۰۳ء میں جماعت اسلامی میں اس لئے شامل ہوئے کیونکہ وہ جماعت کی نظم و ضبط، جواب دہی اور اخلاقیات پر مبنی سیاست سے متاثر تھے۔ جولائی۲۰۲۴ء میں ہونے والے بدامنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کرشنا نندی نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور مندروں و عبادت گاہوں کی حفاظت میں کردار ادا کیا۔