Inquilab Logo Happiest Places to Work

کتنی محنت سے بنا تھا ہر شہری کے ووٹنگ حق کا نظام!

Updated: May 17, 2026, 4:31 PM IST | Aakar Patel | mumbai

مضمون نگار نے ۱۹۴۷ء میں بننے والی پہلی انتخابی فہرست کے حوالے سے یہ بات اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس نظام کو تباہ کیا جارہا ہے وہ بڑی محنت سے بنایا گیا تھا۔

INN
آئی این این
آج کل، اگر کسی بے گھر شخص کو مکان کا پتہ لکھوانا ہے تو بی ایل او اُس جگہ پر رات کے وقت جائیگا تاکہ اپنی آنکھوں  سے دیکھ لے کہ وہ واقعی اس جگہ رہتا ہے جہاں  کا وہ دعویٰ کررہا ہے۔ اگر یہ توثیق ہوجاتی ہے کہ وہ وہیں  رہتا ہے اور وہیں  سوتا ہے تو اس کیلئے ضروری نہیں  ہوگا کہ گھر کے پتے کی کوئی دستاویز پیش کرے۔ یہ بات الیکشن کمیشن آف انڈیا ۲۰۱۱ء کی بوتھ لیول آفیسرس ہینڈ بک میں  درج ہے۔  
۲۵؍ ستمبر ۱۹۴۸ء کو جاری پریس نوٹ میں  ’’پناہ گزینوں  کے حقوق بحیثیت ووٹر‘‘ کو مفصل بیان کیا گیا اور ان کا نام انتخابی فہرست میں  شامل کرنے کیلئے باقاعدہ ہدایات تھیں ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اخبارات میں  اس عنوان کے تحت باقاعدہ خبریں  چھپتی تھیں  : ’’انتخابی فہرست کی تیاری میں  پیش رفت‘‘۔ ایک خبر میں  بتایا گیا تھا کہ مشرقی پنجاب حکومت نے انتخابی فہرست مکمل کرنے کی حتمی تاریّخ میں  ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۴۸ء تک توسیع کردی ہے کیونکہ کافی لوگ اپنا رجسٹریشن نہیں  کروا سکے تھے۔ 
یہ اقتباسات اورنت شنی کی کتاب ’’ہندوستان کس طرح جمہوری بنا: شہریت اور سب کیلئے ووٹنگ کا حق‘‘سے ماخوذ ہیں  جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں  کس طرح دہائیوں  تک حکومت کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہر وہ شخص جو ووٹ دینے کے تقاضوں  کو پورا کرتا ہے اس کا نام انتخابی فہرست میں  درج ہو اور وہ خود کو ووٹر کہلا سکے۔ جو بے گھر تھے، پیڑھی یا دکان پر سوتے تھے، وہ ملازم جو کسی دکان کے چھجے پر بستر بچھاتے تھے ان سب کے نام الیکشن لسٹ میں  درج ہوجائیں  اور کوئی بھی چھو‘ٹنے نہ پائے۔انتخابی فہرستوں  میں اُن لوگوں  کو بھی شامل کیا جاتا تھا جو سرکاری زمین پر بنی ہوئی جھوپڑ پٹیوں  میں  رہتے تھے۔ اسی طرح گھریلو ملازم جو بالکونیوں  میں ، سیڑھیوں  پر یا مکان کے عقبی حصے میں  قیام کرتے تھے اُنہیں  بھی شامل کیا جاتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ہر خاص و عام کی شمولیت سے جمہوریت مستحکم ہو۔ 
 
 
۲۵؍ سال پہلے ایک پاکستانی چینل پر وہاں  کے مشہور میزبان نجم سیٹھی نے ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر ایم
ایس گل کو انٹرویو کیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب گل صاحب چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے۔انٹرویو یا گفتگو کا موضوع ہندوستان میں  الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے الیکشن کرانے کا معاملہ تھا جو اُسی دور میں  متعارف کی گئی تھی اور جس کے بارے میں  خیال کیا جاتا تھا کہ یہ بہت پیچیدہ ہے اور اس کے استعمال سے ڈر لگتا ہے۔گل اور ان کی ٹیم نے ایک سبزی مارکیٹ میں  جاکر اس کو استعمال کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ بہت آسان ہے، اس میں  کوئی دقت یا پیچیدگی نہیں  ہے۔
اس طرح الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) آگئی اور ملک میں  ایسے دور کا اختتام ہوا جس میں  انتخابی عملے پر لگنے والے الزامات کی وجہ سے انتخابی عمل متنازع ہوجاتا تھا۔ اُس دور میں  بوتھوں  پر قبضہ کرلینے تک کے واقعات رونما ہوتے تھے۔اب ہمیں  ایسے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں  ملتی کیونکہ اُس دور کے لوگوں  نے جس طرح ہر خاص و عام کو انتخابی فہرست میں  شامل کرنے کی جدوجہد کی وہیں  انتخابی عمل کو نہایت آسان بنانے پر بھی توجہ دی۔مگر، اب وہ دور ختم ہوچکا ہے اور وہ توجہ بھی نہیں  رہ گئی ہے۔ اب حکومت اور الیکشن کمیشن ناموں  کے شامل کئے جانے سے زیادہ ناموں  کے حذف کئے جانے پر دھیان دے رہے ہیں  اور انہیں  اپنے مقصد میں  کامیابی بھی ملی ہے۔ مغربی بنگال کے بارے میں  سب جانتے ہیں  کہ ووٹنگ لسٹ سے لاکھوں  نام ہٹائے گئے جس پر سپریم کورٹ نے اعتراض جیسا اعتراض نہیں  کیا۔ اب ناموں  کو حذف کرنے کا سلسلہ دیگر ریاستوں  میں  بھی دراز کیا جائیگا۔ جن کے نام ہٹائے گئے وہ اپنے نام دوبارہ شامل کروا پائینگے لیکن فی الحال اُنہیں  ووٹنگ کا حق نہیں  ملا۔بہت سوں  کی نظر میں  یہ الیکشن غیر قانونی تھا اور ایسی ہی باتوں  کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ دور ختم ہوگیا جس میں  الیکشن ہارنے والی پارٹیاں  بھی انتخابی نتائج کو بہ سر و چشم قبول کرتی تھیں  اور عموماً کہا جاتا تھا کہ الیکشن آزادانہ تھا، شفاف تھا۔اب کئی نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں  مثلاً ۱۳؍مئی کے ایک اخبار کی سرخی یہ تھی: ’’ایس آئی آر میں  جن کا نام کٹا، انہیں  سرکاری اسکیموں  کا فائدہ نہیں  ملے گا۔‘‘یہ خبر بنگال حکومت کے حوالے سے شائع کی گئی تھی۔ اسی دوران بہار کے وزیر اعلیٰ نے ایس آئی آر میں  نام کٹنے والوں  کی بینک پاس بُک ختم کرنے کی بات کہی۔ فی الحال یہ میرا موضوع نہیں  ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم ایک ایسے انتخابی عمل کو جس کا قابل عمل ہونا ثابت ہوچکا تھا، کیوں  مسترد کررہے ہیں ؟ اس سوال کا جواب مشکل ہے کیونکہ ہمارے سامنے اعداددوشمار نہیں  ہیں  بالکل اسی طرح جیسے ہمارے پاس یہ ڈیٹا نہیں  ہے کہ غیر ملکی ووٹنگ کررہے ہیں ۔جب آسام میں  این آر سی کیا گیا تب وہاں  کی حکومت نے کوئی ڈیٹا پیش نہیں  کیا تھا۔ اس کے باوجود ہم نے فرض کرلیا کہ غیر ملکیوں  کے نام ووٹر لسٹ میں  ہیں  جس سے نمٹنے کیلئے نہایت جارحانہ انداز میں  این آر سی لاگو کیا گیا۔ایسے تمام اقدامات کے منفی اثرات کو بھگتنا ہوگا جو کہ ایسے ملک کیلئے موزوں  نہیں  جو خود کو ’’مادرِ جمہوریت‘‘ کہتا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں  کہ ہمارا ملک اب ووٹنگ کیلئے ملک کے ایک ایک شہری کا نام شامل کرنے کی روایت جسے ’’یونیورسل فرینچائزی‘‘ کہا اتا ہے، کو ختم کرچکا ہے۔  
اورنت شنی نے اپنے کتاب میں  کی ابتداء میں  جو لکھا ہے اس میں  آج کے دور کیلئے کافی معنویت ہے۔ انہوں  نے لکھا: ’’نومبر ۱۹۴۷ء سے ہندوستان نے ’ہر ایک کیلئے ووٹنگ کا حق‘ کے تحت انتخابی فہرست کے اولین مسودے کی تیاری کی ابتداء کی تھی۔ قانون ساز اسمبلی کے سکریٹریٹ میں  اُس دور کے اعلیٰ سرکاری افسران نے یہ سرگرمی شروع کی تھی ۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک کی تقسیم کا عمل ختم نہیں  ہوا تھا اور ۵۵۲؍ صوبوں  کا ہندوستان میں  انضمام نہیں  ہوا تھا۔ اس کے باوجود عزم یہ تھا کہ بعد کے دو سال میں  ہر دشواری پر قابو پاکر جامع انتخابی فہرست تیار کرنی ہے ۔ دستور تیار نہیں  ہوا تھا اور یہاں  رہنے والوں  کو دستور کے تحت شہری بننے میں  ابھی وقت تھا۔
یہ سب انگریزوں  کا عطیہ نہیں  تھا بلکہ یہاں  رہنے والوں  نے خود سوچا، اس خواب کو پورا کیااور اسے سیاسی حقیقت بنادیا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK