Inquilab Logo Happiest Places to Work

کشور کمار نے گلوکار ہیرو کے طور پر جو مقام بنایا تھا،وہ کسی کے حصے میں نہیں آیا

Updated: May 17, 2026, 9:32 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

فلمسازی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں تھا جس میں انہیں دلچسپی نہ رہی ہو، وہ اداکار و گلوکار کے ساتھ ہی بیک وقت موسیقار، ہدایتکار، اسکرپٹ رائٹر، ڈانس ڈائریکٹر، فوٹوگرافر، نغمہ نگار اور فلمساز بھی تھے۔

Ashok Kumar, Anup Kumar and Kishore Kumar, the three brothers, were seen together in the film `Chalti Ka Naam Gaadi`. Photo: INN.
فلم ’چلتی کا نام گاڑی‘ میں اشوک کمار، انوپ کمار اور کشور کمار یعنی تینوں بھائی ایک ساتھ نظر آئے تھے۔ تصویر: آئی این این۔

کشورکمار کا جنم ۴؍اگست ۱۹۲۹ء کو کھنڈوا (مدھیہ پردیش) میں ہوا تھا۔ اُن کا اصل نام آبھاس کمار گانگولی تھا۔ ان کے والد کنج بہاری گانگولی کھنڈوا کے ایک مقبول بیرسٹر تھے۔ کشور کمار اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹےتھے۔ ان کے بڑے بھائی اشوک کمار کو ہندوستانی سنیما میں سب سےپہلےداخل ہونے کا موقع ملا۔ ان کے بہنوئی ایس مکھرجی اُن دِنوں ممبئی ٹاکیز کے کرتا دھرتائوں میں سے ایک تھے لہٰذا اُن دونوں کے تعلقات کی وجہ ہی سے کشور کمار کو بھی فلموں میں آنے کا موقع ملا۔ 
انہیں بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا۔ وہ کےایل سہگل کو دیوانگی کی حد تک پسند کرتے تھے۔ یہی دیوانہ پن اُن کو بمبئی لے آیا تھا۔ اُن دِنوں ہر طرف سہگل کے ہی چرچے تھے۔ بمبئی آکر سب سے پہلے کشور کمار نے سہگل سے ملاقات کی اور اُن کو اپنی آواز میں ایک گانا سنایا اور ان سے کہا کہ وہ بھی اُنہی کی طرح گلوکار بننا چاہتے ہیں۔ کےایل سہگل اُس نوجوان کی لگن اور جادو بھری آواز سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے کشور کمار کو مشورہ دیا کہ ایک تو وہ گاتے وقت اپنے جسم کو حرکت دینا بند کریں تاکہ سامعین کا دھیان گانے ہی پر رہےاور دُوسری بات یہ کہ گاتے وقت چہرے پر ہمیشہ سکون بنائے رکھیں۔ سہگل کا یہ مشورہ اُس وقت کشور کمار نے گرہ میں باندھ لیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کشور کمار گلوکاری ہی نہیں متعدد فنون میں مہارت رکھتے تھے

بطور اداکار کشور کمار کی پہلی فلم’آندولن‘ تھی، لیکن بطور گلوکار کشور کمار کی پہلی فلم بمبئی ٹاکیز کے لئے بنائی گئی شاہد لطیف کی فلم ’ضدی‘تھی۔ اس فلم میں ان کا گایا ہوا گانا ’’مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں ‘‘ بہت مقبول ہوا تھا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ فلمی دُنیا میں کشور کمار کے قدم جمنے لگے۔ انہوں نے بطور اداکار اور گلوکار بہت کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی فلموں کی فلمسازی بھی کی۔ ’دور گگن کی چھائوں میں، دُور کا راہی، جھمرو، چلتی کا نام گاڑی، ہم سب ڈاکو اوربڑھتی کا نام داڑھی‘‘ وغیرہ فلموں میں کشور کمار نے زندگی کے مختلف پہلوئوں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلم ’چلتی کا نام گاڑی‘ میں اشوک کمار، انوپ کمار اور کشور کمار یعنی تینوں بھائیوں نے اچھی کامیڈی پیش کی ہے۔ کشور کمار نے اپنی فلموں کو کبھی بھی سنجیدگی سے ریلیز کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہکشور کمار کے مالی مشیروں نے ٹیکس بچانے کیلئے خسارہ دکھانے کے مقصد ہی سے اُن سے فلمیں بنوائیں۔ 
کشور کمار نے اپنے گانے خود گانے والے ہیرو کے طور پر جو مقام بنا لیا تھا، وہ اُس دور میں شاید ہی کسی دوسرے اداکار کو نصیب ہوا ہو۔ ’نئی دلی، بندی، بھائی بھائی، شرارت، مسافر اور آشا‘ جیسی کئی فلمیں آج بھی کشور کمار کی وجہ سے ہی یاد کی جاتی ہیں۔ فلمساز ایم وی رمن کی فلم’لڑکی‘ اور’بہار‘ خود کشور کمار کو بے حد پسند تھیں جو کامیاب بھی رہی تھیں۔ 
کشور کمار نے چار شادیاں کی تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی دیر پا نہیں ثابت ہوپائی تھی۔ پہلی بیوی روما دیوی سے ایک لڑکا اجیت کمار ہے، جو خود بھی گلوکار ہے۔ روما دیوی سے طلاق کے بعد کشور کمار نے سلور اسکرین کی وینس مدھوبالا سے شادی کی، لیکن مدھوبالا زیادہ عرصہ تک زندہ نہ رہ سکیں۔ مدھوبالا کی موت کے بعد کشور کمار نے اداکارہ یوگیتا بالی سے شادی کی، لیکن دونوں میں زیادہ دِنوں تک بن نہیں پائی اور جلد ہی دونوں کا طلاق ہو گیا۔ کشور کمار کی چوتھی بیوی اداکارہ لینا چندراورکر سے بھی ایک لڑکا ہے۔ اس کے علاوہ کشور کمار اور اداکارہ سلکشنا پنڈت میں کافی عرصہ تک رومانس چلا۔ دونوں کے شادی جیسے مقدس رشتے میں بندھنے کی خبر آنے ہی والی تھی مگر دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے دونوں اس بندھن میں بندھنے سے قبل ہی ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کشور کمار: کبھی الوداع نہ کہنا

اس بات کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کشور کمار کو اداکاری میں زیادہ مہارت حاصل تھی یا موسیقی میں ؟ لیکن یہ قبول کرنا پڑے گا کہ کشور کمار میں بے شمار صلاحیتیں تھیں۔ اداکار، موسیقار، ہدایتکار، اسکرپٹ رائیٹر، ڈانس ڈائرکٹر، فوٹوگرافر، نغمہ نگار، فلمساز کے علاوہ انہوں نے گلوکار کے طور پر سب سے زیادہ کامیابی اور مقبولیت حاصل کی۔ فلمسازی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہ تھا جس سے کشور کمار کو دلچسپی نہ ہو یا جس سے اُن کا تعلق نہ رہا ہو۔ 
کشور کمار کے ہم عصر گلوکاروں میں محمد رفیع اور مکیش سب سے زیادہ مقبول تھے۔ زندگی نے ان دونوں کلاکاروں کے ساتھ بھی وفا نہ کی اور موت کے بے رحم ہاتھوں نے ان دونوں عظیم گلوکاروں کو سامعین سے چھین لیا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ محمدرفیع اور مکیش کی طرح کشور کمار کی موت بھی دل کا دَورہ پڑنے سے ہوئی۔ کشور کمار کی زندہ دلی، سچ بولنے کی عادت اور ہنسی مذاق میں ڈوبی شخصیت کی داستانوں کے ساتھ ہی کئی دلچسپ واقعات بھی مشہور ہیں۔ جب بھی کشور کمار کو اُن کی مرضی کے خلاف کام کرنے کیلئے مجبور کیا گیا، تو دماغ سے زیادہ دل کی بات ماننے والے کشور کمار نے کسی بھی دبائو میں آنے سے انکار کر دیا۔ ایمرجنسی کے وقت کی بات ہے۔ اس وقت کے وزیرِ اطلاعات وی سی شکلا نے ناراض ہوکر ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کشور کمار کے گانوں پر پابندی لگا دی تھی مگر اس پابندی کے باوجود کشور کمار کی شہرت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ 
یہ بات بھی یہاں بتانی ضروری ہے کہ کشور کمار نے کامیڈی گانوں کے ساتھ ساتھ دل کو چھو لینے والے جو غمگین نغمے فلمی دنیا کو دیئے ہیں، انہیں آسانی سے بھلایا نہیں جا سکے گا۔ 
میرے نینا ساون بھادو، پھر بھی میرا من پیاسا
(فلم: محبوبہ، ۱۹۷۶ء)
بیقرار دل.... تو گائے گا
(فلم: دُور کا راہی، ۱۹۷۱ء)
جیون کے سفر میں راہی، ملتے ہیں بچھڑ جانے کو
(فلم: منیم جی، ۱۹۵۵ء)
میرے محبوب قیامت ہوگی، آج رسوا تیری گلیوں ...
(فلم: مسٹر ایکس اِن بامبے، ۱۹۶۴ء)

یہ بھی پڑھئے: مدھو بالا کی کریئر میں سب سے بڑی رکاوٹ خود اُن کے والدعطاء اللہ خان تھے

یہ کچھ ایسے ہی گانے ہیں جو آج بھی دل کے تاروں کو جھنجھوڑکر رکھ دیتے ہیں۔ اُس دور کے بہت کم موسیقار ایسے ہوں گے جن کی بنائی ہوئی دھنوں پر کشور کمار نے اپنی شیریں آواز کا جادو نہ بکھیرا ہو۔ البتہ معروف موسیقار نوشاد علی نے ایک یا دو گانے ہی کشور کمار سے گوائے ہیں جبکہ موسیقار او پی نیّر نے بھی شاید ہی کبھی کشور کمار کی شیریں آواز کا فائدہ اُٹھایا ہو۔ کشور کمار نے تقریباً تمام مقبول ومشہور پلے بیک گلوکاروں کے ساتھ بھی دوگانے گائے ہیں۔ شمشاد بیگم، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، سمن کلیان پور اور سلکشنا پنڈت وغیرہ کے ساتھ کشور کمار کے دوگانے کافی مقبول ہو ئے ہیں۔ 
کشور کمار نے تقریباً چار دہائیوں تک فلمی دُنیا میں اپنا ایک خاص مقام بنائے رکھا۔ کشور کمار کے چلے جانے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے فلمی موسیقی کی ایک صدی کا خاتمہ ہو گیا۔ محمدرفیع اور مکیش کی موت کے بعد فلمی دنیا میں جو ایک خلا پیدا ہو گیا تھا، کشور کمار نے اپنی جادو بھری آواز سے اُسے پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن کشور کمار کی موت سے جیسے سب کچھ ختم سا ہو گیا۔ 
موت کے سنگ دل ہاتھوں سے کوئی نہیں بچ پاتا، اور کشور کمار کو تو موت کا ذاتی تجربہ تھا۔ کشور کمار نے تو موت کو بڑے نزدیک سے دیکھا تھا۔ کشور کمار نے مدھوبالا کو اپنی آغوش میں موت کی نیند سوتے ہوئے دیکھا تھا۔ تبھی سے کشور کمار کو دو باتیں ستا رہی تھیں ... ایک تو موت کا احساس اور دوسرے تنہائی اور اکیلا پن۔ اتنی زیادہ شہرت، بھرپور خاندان اور موسیقی سے بھرے ہوئے ماحول کے باوجود کشور کمار نے خود کو ہمیشہ اکیلا ہی محسوس کیا۔ اسی اکیلے پن کی جھلک کشور کمار کے کئی گیتوں میں بھی ملتی ہے..... یہ موت کا احساس ہی تھا جسے کشور کمار نے اپنے اکیلے پن کا علاج سمجھ رکھا تھا۔ موت سے بے حد لگائو تھا کشور کمار کو۔ اسی لئے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ کشور کمار کو موت پر جتنا اعتبار تھا، اُتنا زندگی پر نہیں تھا۔ 
گلوکار آئیں گے اور چلے جائیں گے، لیکن موسیقی کو، خاص طور پر ہندوستانی فلمی موسیقی کو کشور کمار نے جو کچھ دیا ہے، وہ شاید ہی اب کوئی دوسرا دے پائے۔ کشور کمار کی موت سے فلمی موسیقی کے ایک سنہرے دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۸۷ء کو فلمی موسیقی کی یہ شمع ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK