ملک کے ایسے ماحول میں جب حکومت پر تنقید کرنا جرم بنا دیا جائے اور احتجاج کرنے والوں کو غدار قرار دیا جائے ، بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھوجامدار نے ایک فیصلے میں واضح الفاظ میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو محسوس تو ہر کوئی کررہا تھا لیکن کہنے سے ڈرتا تھا۔
EPAPER
Updated: July 08, 2026, 1:02 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai
ملک کے ایسے ماحول میں جب حکومت پر تنقید کرنا جرم بنا دیا جائے اور احتجاج کرنے والوں کو غدار قرار دیا جائے ، بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھوجامدار نے ایک فیصلے میں واضح الفاظ میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو محسوس تو ہر کوئی کررہا تھا لیکن کہنے سے ڈرتا تھا۔
جمہوریت کی خوبی یہ ہے کہ اس طرز حکومت میں عوام حکمرانوں سے صرف سوال ہی نہیں پوچھ سکتے ہیں بلکہ وہ حکومت کے فیصلوں پرتنقید بھی کرسکتے ہیں اور ان کے خلاف احتجاج بھی۔ در اصل اختلاف رائے کے بغیر جمہوریت کا وجود ہی ممکن نہیں ہے۔ جی حضوری، فرمانبرداری اور اطاعت تو شاہی درباروں کے پروٹوکول کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ یہ اختلاف رائے کا حق ہی توہے جو شہریوں کو رعایا سے مختلف اور ممتازبناتا ہے۔یاد رہے کہ رعایابادشاہتوں کے عہد میں ہوتی تھی: جمہوری نظام میں عوام ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہی ہے کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ہندوستان کے عوام کو رعایا میں تبدیل کیا جارہا ہے اور ہم سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
شکر ہے پچھلے ہفتے بامبے ہائی کورٹ کے ایک جج نے دم گھوٹنے والی یہ خاموشی توڑ دی۔ جسٹس مادھوجامدار نے واضح الفاظ میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو محسوس تو ہر کوئی کررہا تھا لیکن کہنے سے ڈرتا تھا۔ جج صاحب نے پوچھ لیا کہ کیاحکومت شہریوں کو غلام بنانے پر تلی ہے؟ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ آج ہندوستانی شہری احتجاج کیوں نہیں کرسکتے اورکوئی تحریک کیوں نہیں چلاسکتے؟ انہوں نے یہ استفسار بھی کیا کہ ’’بی جے پی سرکار مردہ باد اور امیت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے لگانے میں کیا حرج ہے؟فاضل جج کے یہ سوالات حکومت کے لئے تازیانے ہیں اور ملک کے شہریوں کے لئے امید کی ایک کرن۔ عدلیہ کا کام صرف قانون کی حفاظت نہیں ہے۔ عدلیہ کا فرض شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کی حفاظت بھی ہے۔بدقسمتی سے پچھلے دس بارہ برسوں سے ایسا لگ رہا ہے گویا عدلیہ اپنے اس بے حد اہم فرض کی ادائیگی میں کوتاہی برت رہی ہے۔اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ مودی حکومت کو کسی قسم کی مخالفت گوارا نہیں ہے خواہ وہ اپوزیشن پارٹی کی سیاسی مخالفت ہو یا عوام کے کسی طبقہ کااحتجاج ۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی ’’ماتر بھومی‘‘ نئی مشکل میں، سینسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ تاحال نہ مل سکا
حکومت اختلاف رائے اورحکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ’’وطن دشمنی‘‘ قرار دے کرآہنی ہاتھوں سے دبانے کی کوشش کرتی ہے اور عوامی مظاہروں سے نپٹنے کیلئے غیر جمہوری طریقے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی ہے۔ ریاست کے ذریعہ کی جارہی جمہوریاقدار اور انسانی حقوق کی پامالی پر عدلیہ کی خاموشی سے سرکار کے حوصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
پچھلے چھ برسوں میں حکومت ہند نے تین بڑی عوامی تحریکوں بشمول زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے اندولن، سی اے اے مخالف مظاہروں اور اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بے روزگار نوجوانوں کے حتجاج سے نپٹنے میں جس سنگدلی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا اس سے یہ واضح ہوگیا کہ وہ پر امن جمہوری تحریکوں کو ملک دشمنی سمجھتی ہے۔
حکومت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف اگر ملک کا کوئی طبقہ پرامن احتجاج کرتا ہے تو حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ مظاہرین کی شکایات کو صبرو تحمل کے ساتھ سنے اور ہمدردی کے ساتھ ان شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے۔ پچھلے بیس دنوں سے پرچہ لیک اشو پر نوجوان دلی کے جنتر منتر پر دھرنا پر بیٹھے ہیں ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لئے سونم وانگ چک نے بھوک ہڑتال کررکھی ہے لیکن حکومت ایک شان بے نیازی سے یہ سارا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ حکومت کو غریب معصوم نوجوانوں سے بات تک کرنا گوارا نہیں ہے۔ درجن بھر طلبہ کی خودکشی کے باوجود وزیر تعلیم پردھان کا استعفیٰ دینے سے انکار اقتدار کی رعونت کے سوا اور کیا ہے؟
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور امریکہ سب سے قدیم جمہوریت۔ امریکہ کے سیاسی سسٹم میں متعدد خامیاں سہی، وہاں شہریوں کو احتجاج اور اختلاف رائے کی مکمل آزادی ہے۔ ہندوستان میں جنگ اور فوج کے متعلق بے ضرر ساسوال پوچھنا بھی جرم بن جاتا ہے۔ امریکہ میں عوام جنگ کی مخالفت اور جنگ کی سرکاری توجیہات کو مستردبھی کرسکتے ہیں۔ایران جنگ کے دوران امریکہ کی سڑکوں پر جنگ کے خلاف متعدد مظاہرے ہوتے رہے۔ جنگ بندی اور امن معاہدہ کیلئے ٹرمپ کی والہانہ بے قراری کی بنیادی وجہ امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی جنگ مخالفت تھی۔امریکہ میں حکومت یا صدر کو برا بھلا کہنے یا ان کا مذاق اڑانے سے کوئی غدار نہیں بن جاتا ہے۔ ابھی ۴؍ جولائی کو امریکہ نے اپنا ۲۵۰؍واں واں یوم آزادی منایا۔ اس موقع پر بھی واشنگٹن سمیت مختلف شہروں میں ٹرمپ مخالف مظاہرے منعقد کئے گئے، انہیں فاشسٹ کہا گیا اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹرمپ کے بڑھتے آمرانہ طرز عمل کے خلاف پورے امریکہ میں چند ماہ قبل بڑے پیمانے پر No Kings مظاہرے کئے گئے۔نہ کسی کو امریکہ دشمن قرار دیا گیا اور نہ ہی تخریب کار کہا گیا۔
سپریم کورٹ کے جج صاحبان مسلسل کہ رہے ہیں کہ ملزمان کو ضمانت ضرور ملنی چاہئے اس کے باوجود ضمانت کی درخواستیں مسلسل مسترد کی جارہی ہیں۔ بھیما کورے گاؤں کیس میں ملک کے ۱۶؍ باعزت لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں ۷۰؍ اور ۸۰؍سال کے بزرگ بھی شامل تھے۔ ان لوگوں کا قصور صر ف اتنا تھا کہ یہ غریب آدیباسی اور دلتوں کے حق اور انصاف کی خاطر آواز اٹھاتے تھے اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ ان میں بری طرح بیمار اور معذور ۸۳؍ سالہ بزرگ پادری اسٹین سوامی بھی تھے جن کی ضمانت کی درخواست بار بار مسترد کی گئی اور وہ جیل میں ہی سسک سسک کر دم توڑ گئے۔زانیوں اور قاتلوں کو ضمانت پر ضمانت مل رہی ہے لیکن عمر خالد اور شرجیل امام جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پچھلے چھ برسوں سے جیل میں سڑ رہے ہیں صرف اس لئے کیونکہ انہوں نے متعصبانہ شہریت قانون سی اے اے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان جیسے نہ جانے کتنے لوگ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔تصور کیجئے کسی شخص کو گرفتاری کے سات آٹھ سال بعد بے گناہ قرار دے کر عدالت باعزت بری کردے لیکن سات آٹھ سال تک اس کا ٹرائل شروع ہی نہ ہو اور اسے ضمانت بھی نہ ملے۔ اس بدنصیب شخص کی زندگی کے یہ بیش قیمت سال اسے کون لوٹائے گا؟
یہ بھی پڑھئے:سنجو سیمسن کو ٹیم سے ڈراپ نہیں کیا گیا ہے
جسٹس جامدارکے حالیہ فیصلہ اور ان کے مشاہدات سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ حکومت کے کسی فیصلے یا پالیسی کے خلاف پر امن مظاہرے ملک کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں حصہ لینے والے لوگ ملک دشمن ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک سو پچاس کروڑ کی آبادی والے ہندوستان میں ایک ہی جسٹس جامدار کیوں ہیں۔ہمیں تو ملک کی ہر عدالت میں جسٹس جامدار جیسے ججوں کی ضرورت ہے جو صاحبان اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کڑوا سچ بولنے کی ہمت دکھا سکیں جویہ اعلان کرسکیں کہ ملک کے شہری حکومت کے غلام نہیں ہیں اور پولیس حکمرانوں کی نہیں عوام کی خادم ہے۔