Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال میں نئی سیاسی فضا اور ہندوستان

Updated: March 31, 2026, 11:32 AM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

نیپال کے عوام، خاص طور پر شہری طبقہ، اب فرسودہ سیاسی نظام سے اکتا چکا ہے۔ کرپشن، بدانتظامی اور ترقی کی سست رفتار نے عوام کو ایک ایسے متبادل کی تلاش پر مجبور کیا جو عملی اور جدید سوچ کا حامل ہو۔ بالن شاہ اسی خلا کو پُر کرتے نظر آتے ہیں۔

Nepal Protest.Photo:INN
نیپال میں احتجاج۔ تصویر:آئی این این

جنوبی ایشیاء کی سیاست میں نیپال ہمیشہ ایک اہم مگر نازک مقام رکھتا ہے۔ جغرافیائی طور پر دو بڑی طاقتوں، یعنی ہندوستان اور چین کے درمیان واقع یہ ملک نہ صرف اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے بلکہ داخلی سیاسی اتار چڑھاؤ کے سبب بھی عالمی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ حالیہ سیاسی تبدیلی اور بالن شاہ کی قیادت میں نئی حکومت کا قیام ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف نیپال کی داخلی سیاست بلکہ خطے کے سفارتی توازن پر بھی مرتب ہوں گے۔واضح  رہے کہ ۱۹۹۰ء  کے بعد یہ تاریخی موقع نیپال میں کسی سیاسی جماعت کو ملا ہے کہ وہ اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔کیوں  کہ ۱۹۹۰ء سے اب تک ۳۲؍بار حکومت میں تبدیلی ہوئی تھی اور اس کی واحد وجہ کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہونے کی مجبوری نے اتحادی حکومت بنانے کیلئے طرح طرح کا کھیل ہوتا رہا اور آخر کار گزشتہ ستمبر میں جین زی کی تحریک نے بالن شاہ کی سیاست کو پروان چڑھایا ۔
بالن شاہ کا ابھار نیپال کی روایتی سیاست کیلئے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک غیر روایتی سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ایک انجینئر، نوجوان، اور شہری مسائل سے گہری وابستگی رکھنے والے رہنما۔ انہوں نے اپنی شناخت روایتی سیاسی جماعتوں کے سائے سے باہر قائم کی، جو نیپالی سیاست میں ایک نئی روایت کی ابتدا ہے۔ان کا سیاسی سفر اس بات کی علامت ہے کہ نیپال کے عوام، خاص طور پر شہری طبقہ، اب فرسودہ سیاسی نظام سے اکتا چکا ہے۔ کرپشن، بدانتظامی اور ترقی کی سست رفتار نے عوام کو ایک ایسے متبادل کی تلاش پر مجبور کیا جو عملی اور جدید سوچ کا حامل ہو۔ 
بالن شاہ اسی خلا کو پُر کرتے نظر آتے ہیں بالن شاہ کی قیادت میں بننے والی حکومت کو کئی محاذوں پر چیلنجز درپیش ہیں۔سیاسی استحکام نیپال میں حکومتوں کا بار بار تبدیل ہونا ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ نئی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ پارلیمانی حمایت کو برقرار رکھتے ہوئے پالیسیوں کا تسلسل قائم رکھ سکے۔معاشی بحالی نیپال کی معیشت بڑی حد تک سیاحت، زرعی پیداوار اور بیرون ملک مقیم مزدوروں کی ترسیلات زر پر منحصر ہے۔ کووڈ کے بعد کی صورتحال نے معیشت کو کمزور کیا ہے، اور نئی حکومت کو فوری اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ ادارہ جاتی اصلاحات بدعنوانی اور بیوروکریسی کی پیچیدگی نیپال کے ترقیاتی عمل میں بڑی رکاوٹ رہی ہے۔
 بالن شاہ کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہوگا کہ وہ ادارہ جاتی شفافیت کیسے یقینی بناتے ہیں۔ہندوستان اور نیپال کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کھلی سرحد، عوامی روابط اور اقتصادی تعاون ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔واضح  رہے کہ روزانہ دس ہزار مزدور ہندوستان میں مزدوری کرتے ہیں تاہم، یہ تعلقات ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔ سرحدی تنازعات، سیاسی اختلافات اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے ان تعلقات کو پیچیدہ بنایا ہے بالن شاہ کی قیادت میں نیپال کی خارجہ پالیسی میں درج ذیل رجحانات متوقع ہیں،متوازن سفارت کاری نیپال ممکنہ طور پر ہندوستان اور چین کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرے گا۔
خود مختاری پر زورنئی قیادت قومی خود مختاری اور داخلی فیصلوں میں بیرونی مداخلت سے گریز کو ترجیح دے سکتی ہے۔اقتصادی تعاون میں اضافہ ہوگا ہندوستان کے ساتھ تجارت، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی گنجائش موجود ہے لیکن چین کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ چین نے حالیہ برسوں میں نیپال میں سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے ذریعے اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔بالن شاہ کیلئے سب سے بڑا سفارتی چیلنج یہی ہوگا کہ وہ دونوں طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھتے ہوئے نیپال کے قومی مفاد کو ترجیح دیںنیپال میں حالیہ سیاسی تبدیلی محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ ایک گہری سماجی و سیاسی بیداری کی علامت ہے۔ اس کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیںنوجوان قیادت کا ابھاربالن شاہ کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ نوجوان قیادت اب جنوبی ایشیاء کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
 روایتی سیاست کا زوال خاندانی سیاست اور جماعتی اجارہ داری کو عوام نے مسترد کرنا شروع کر دیا ہے۔شہری مسائل پر توجہ نئی سیاست کا مرکز اب شہری ترقی، شفافیت اور گورننس کے عملی مسائل بن رہے ہیں۔ اگر بالن شاہ اپنی اصلاحاتی ایجنڈا پر عمل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو نیپال ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ تاہم، ناکامی کی صورت میں یہ تجربہ بھی ماضی کی طرح ایک عارضی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یانک سنرنےجیری کو ہرا کر میامی اوپن کا خطاب جیت لیا


ہندوستان کیلئے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ نیپال کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرے۔برابری، احترام اور باہمی مفاد کے اصولوں پر۔نیپال کی موجودہ سیاسی تبدیلی ایک امید افزا مگر نازک مرحلہ ہے۔ بالن شاہ کی قیادت میں نئی حکومت نہ صرف داخلی اصلاحات کا امتحان دے رہی ہے بلکہ اسے علاقائی سفارت کاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اگر یہ حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف نیپال بلکہ پورے جنوبی ایشیا ء کیلئے ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ ایک اور کھویا ہوا موقع بن کر رہ جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے:پارلیمنٹ نے اسرائیلیوں کے قتل کے مرتکب فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کی منظوری دی


شاہ نے حلف برداری کے فو راً  بعد سابق وزیر اعظم کےپی  شرما اولی اور وزیر خارجہ رمیش لیکھک کو گرفتار کرلیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ وہ’ جین زی‘ سے جس وعدہ کے ساتھ حکومت میں آئے ہیں اسے پورا کریں گے ۔ مختصر یہ کہ نیپال اس وقت تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔جہاں سے اس کا ہر قدم اس کے مستقبل کا تعین کرے گا، اور اسی کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت بھی نئی شکل اختیار کرے گی۔اسلئےہندوستان کو بھی نیپال کی سیاست پر گہری دلچسپی کے ساتھ ساتھ سنجیدہ کوشش بھی کرنی ہوگی کہ نیپال چین کے قریب چلا گیا تو ہمارے لئے خسارے کا سودا ہوگا ۔اس لئے کہ وہ ہمارا ایسا پڑوسی ملک ہے جس کی سرحدیں چین سے ملی ہوئی اور کھلی ہوئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK