نشانت کو قریب سے جاننے والے کہتے ہیں کہ بہت شرمیلے ہیں۔ ان کی شخصیت نہ تو سیاسی ہے اور نہ ہی سماجی۔ وہ محدود لوگوں کے ساتھ ہی روابط رکھتے ہیں۔
نتیش کمار اور دیگر۔ تصویر:آئی این این
اپنے قیام کی تقریباً۲۳؍ سالہ تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب جے ڈی یو کے دفتر کے باہر ہاتھیوں، گھوڑوں اور اونٹوں کا جلوس دیکھا گیا ۔ جلوس کے سامنے ایک بینڈ مسلسل دھن بجا رہا تھا۔ ہاتھی کے جسم پر لٹکا ہوا ایک پوسٹر تھا جس پر لکھا تھا’’ نشانت ہیں تو نشچت (یقینی) ہے۔‘‘موقع تھا نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کی بہار کی سیاست میں انٹری کا۔ ایک ایسا واقعہ جس کی باز گشت تقریباً ایک سال سے سنائی دے رہی تھی ۔
ٹھیک دوپہر ایک بجے نشانت کی کار جے ڈی یو کے دفتر پہنچی۔ جیسے ہی وہ پہنچے ،سیکڑوں کارکنوں نے انہیں گھیر لیا اور گلاب کی پتیاں برسائیں۔ ہجوم کے درمیان سےان کی گاڑی کو کرپوری آڈیٹوریم تک لے جایا گیا، جہاں پارٹی کے سینئر لیڈر اور کارکن پہلے سے موجود تھے۔وہ اسٹیج پر جے ڈی یو کے ایگزیکٹیو صدر سنجے کمار جھا، مرکزی وزیر للن سنگھ، ریاستی صدر اُمیش کشواہا، مرکزی وزیر رام ناتھ ٹھاکر اور بہار حکومت کے وزراء وجیندر یادو، وجے چودھری اور شراون کمار کے درمیان بیٹھے تھے۔ نشانت ہچکچاتے ہوئے اسٹیج پر بیٹھے۔ سنجے کمار جھا نے انہیں پارٹی کی رکنیت کی پرچی سونپی۔ جیسے ہی للن سنگھ نے پارٹی کا بیج ان پر لگایا، نشانت نے جھک کر ان کے پاؤں چھوئے اور رسمی طور پر جے ڈی یو میں شامل ہو گئے۔اس موقع پر، امیش کشواہا نے جو ایک دن پہلے پارٹی کے ریاستی صدر کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے تھے، کہا’’نشانت جی کا پارٹی میں شامل ہونا ایک رسمی بات ہے، جے ڈی یو ان کی ہر سانس میں موجود ہے۔‘‘ جب نشانت سے تبصرہ کیلئے کہاگیا توانہوں نے اپنے پہلے خطاب میں صرف اتنا کہا’’میرے والد نے راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور میں اسے قبول کرتا ہوں۔ ہم سب اپنے والد نتیش کمار کی رہنمائی میں کام کریں گے۔ میں پارٹی اور لوگوں کےمجھ پر اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔ میرےپتا جی پر ان برسوں میںآپ نے جو اعتماد کیاہے،میں اسے برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔‘‘
سواسال سے بات چیت جاری تھی
بہار میں جنوری۲۰۲۵ء سے نشانت کمار کے سیاست میں آنے کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی بگڑتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے، ان پر اپنا جانشین منتخب کرنے کیلئے مسلسل دباؤ تھا۔۲۰۲۴ء کے آخری نصف میں، منیش کمار ورما کا نام سب سے پہلے سامنے آیا تھا جو ایک سابق آئی اے ایس افسر اور نتیش کمار کے قریبی ساتھی ہیں۔ انہیں پارٹی کی رکنیت دی گئی، جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا اورپھر وہ بہار کے دورے کرنے لگے۔تاہم۲۰۲۴ء کے آخر تک، یہ اطلاع ملی کہ منیش توقعات پر پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ اس کا دورہ درمیان میں ہی روک دیا گیا، اور نشانت کا نام اس کے بعد جانشین کے طور پر سامنے آیا۔ ان کا نام آگے بڑھانے والوں میں نتیش کی اپنی ذات کے ایک اور وزیر شراون کمار بھی تھے۔
نتیش کمارکے بارے میں جو خود کو لوہیا اور کرپوری ٹھاکر کا نظریاتی شاگرد کہتے ہیں، خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نشانت کو سیاست میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے جب تک کہ وہ خود سیاست میں سرگرم رہیں۔ تاہم، حال ہی میں حالات اچانک بدل گئے۔ نتیش راجیہ سبھا کے لئے انتخاب لڑنے پر راضی ہوگئے، اور اب نشانت کو جے ڈی یو کی رکنیت دی گئی ہے۔ نشانت کے قریبی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نشانت جو اپنے آپ میں محدود رہنے والے شخص ہیں، اس بات سے اتفاق کرنے میں بہت ہچکچا رہے ہیں کہ انہیںسیاست میں کوئی بڑی ذمہ داری دی جائے۔۳؍ مارچ تک وہ اپنے والد سے کہتے رہے کہ ’’آپ مجھے پارٹی میں رکھ سکتے ہیں، لیکن میں ابھی پارٹی اور حکومت کو نہیں سنبھال سکتا۔‘‘ لیکن، نتیش کمار نے سادگی سے جواب دیا کہ فیصلہ ہو چکا ہے۔
نشانت سیاست کے لیے کیوں تیار نہیں؟
نشانت کو قریب سے جاننے والے کہتے ہیں کہ وہ شرمیلے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ روحانیت کی طرف تیزی سے مائل ہوئے ہیں اور انہیں صحت کے کچھ مسائل بھی لاحق ہیں۔ مزید برآں، نشانت کی شخصیت نہ تو سیاسی ہے اور نہ ہی سماجی۔ وہ محدود لوگوں کے ساتھ ہی روابط رکھتے ہیں۔میڈ یا نشانت کی پیدائش کا سال۱۹۷۵ء بتاتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ وہ۲۰؍ جولائی ۱۹۸۰ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ایمرجنسی گزر چکی تھی اور نتیش کمار ایک بار پھر اسمبلی انتخابات ہار گئے تھے۔ وہ مالی مشکلات سے بھی دوچار رہے۔ انہی حالات میں نشانت کا جنم ہوا تھا۔ ایک نرس نے اپنی سمجھ بوجھ سے ان کی جان بچائی تھی جس نشانت کے ننیہال والےکافی وقت تک اظہار تشکر کرتے رہے۔ یہ تمام معلومات نتیش کمار کے قریبی دوست اودے کانت مشرا کی کتاب ’نتیش کمار: تھرو دی آئیز آف انٹیمیٹ فرینڈز‘ میں درج ہیں۔
نشانت جنہیں اپنے خاندان میں ’نشی ‘کے نام سے جانا جاتا ہے، انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی اپنے نانا نانی کے گھر گزاری۔۱۹۸۳ء میں ان کی والدہ منجو کماری کو ٹیچر کی نوکری مل گئی۔ اس دوران نتیش ان سے ملنے آیا کرتے تھے۔
خاندان کے ایک رکن کا کہنا ہے’’نشانت میں کچھ غیر معمولی خوبیاں ہیں۔ وہ ناقابل یقین حد تک ذہین ہے اورچیزوں کو سمجھنے کی ان میں بھرپور صلاحیت ہے۔ انہیں تاریخیں یاد ہیں، وہ بہت خیال رکھنے والا بھی ہے۔ جب خاندان میں کوئی بیمار ہوتا ہے تو وہ رضاکارانہ طور پر مدد کرتا ہے۔ اس نے اپنے چچا کے علاج کا خرچ خود اٹھایا اور اپنی دادی کی بھی دیکھ بھال کی۔‘‘
سوال یہ ہے کہ کیا نشانت اپنی شخصیت کے مثبت ا ور منفی پہلوؤں سے قطع نظر سیاست کیلئے موزوں ہیں اور جے ڈی یو اور حکومت کی ذمہ داری نبھا پائیں گے؟ کیا وہ جے ڈی یو کی موجودہ طاقت کو برقرار رکھ پائے گا؟ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے سابق پروفیسر پشپیندر کہتے ہیں’’نشانت فطری طور پر شرمیلے ہیں۔پارٹی میں اپنی شمولیت کے وقت بھی وہ بے چین دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا نہیں لگتا کہ سیاست کے ساتھ وہ آسانی سے ربط پیدا کرسکیں گے۔ ماہرین کا ایک گروپ انہیں مشورہ دیتا رہے گا لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کب تک چلے گا۔ اپوزیشن ان پر حملے کرے گا اور بی جےپی بھی چاہے گی کہ جے ڈی یو بتدریج کمزورہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے والد کی طرح خود کو کامیاب سیاست داں بنا پاتے ہیں یا تنگ آ کر اسے چھوڑ دیتے ہیں؟