ڈھاکہ جانے والی ایک مسافر بس راجباڑی کے دولتدیا کے مقام پر دریائے پدما میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم ۲۳؍ افراد ہلاک اور کئی لاپتہ ہو گئے۔ گاڑی کو چھ گھنٹے بعد نکالا گیا جبکہ مشکل حالات میں ریسکیو آپریشن جاری رہا۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 12:02 PM IST | Dhaka
ڈھاکہ جانے والی ایک مسافر بس راجباڑی کے دولتدیا کے مقام پر دریائے پدما میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم ۲۳؍ افراد ہلاک اور کئی لاپتہ ہو گئے۔ گاڑی کو چھ گھنٹے بعد نکالا گیا جبکہ مشکل حالات میں ریسکیو آپریشن جاری رہا۔
ایک افسوسناک واقعے میں، کم از کم ۲۳؍ افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے جب بنگلہ دیش میں ایک بس فیری پر چڑھنے کی کوشش کے دوران دریا میں جا گری۔ حکام کے مطابق، یہ حادثہ جنوب مغربی ضلع راجباڑی میں دولتدیا ٹرمینل پر بدھ کی شام تقریباً سوا۵؍ بجے بجے پیش آیا۔
#WATCH | Dhaka, Bangladesh: Visuals from the spot where a passenger bus fell into the Padma River from a ferry. https://t.co/dRHXTZuZr4 pic.twitter.com/5rnqSsR9vI
— ANI (@ANI) March 25, 2026
یہ بس، جس میں تقریباً ۴۰؍ مسافر سوار تھے، راجباڑی سے ڈھاکہ جا رہی تھی، جو ڈھاکہ سے۱۲۸؍ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس وقت بس فیری پر موجود تھی۔ فائر سروس اور غوطہ خوروں کی ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نمی نے معاون اداکارہ کے طورپر بھی بہترین کام کیا
عینی شاہدین کے مطابق، بس میں کم از کم ۵۰؍ مسافر سوار تھے، جنہیں راستے میں مختلف مقامات سے سوار کیا گیا تھا۔ دھاکہ ٹریبیون کے مطابق، ریسکیو جہاز ’حمزہ‘ نے چھ گھنٹے بعد ڈوبی ہوئی بس کو دریا سے باہر نکالا۔ رات تقریباً سوا ۱۱؍ بجے گاڑی کا کچھ حصہ نظر آیا، اور ساڑھے ۱۱؍ بجے تک جہاز کے کرین کی مدد سے پوری بس کو نکال لیا گیا۔بدھ کی شام راجباڑی کے دولتدیا فیری ٹرمینل پر دریائے پدما کے کنارے رشتہ دار اشکبار آنکھوں کے ساتھ جمع تھے، اور امید لگائے بیٹھے تھے کہ شاید کوئی زندہ بچ جائے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں تلاش جاری رکھے ہوئے تھیں۔
یہ بھی پڑھئے:بھودر گڑھ قلعہ:کولہاپور میں اونچی چٹان پر تعمیر کیا گیا قدیم قلعہ
سرکاری اہلکار نے کیا کہا؟
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس انسپکٹر رسل مولا نے بتایا کہ رات ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اور دن کی روشنی میں دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اب تک ہم ۲۳؍ لاشیں نکال چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اب بھی لاپتہ ہوں، اور چند افراد بچ بھی گئے ہیں۔ چونکہ رات ہو چکی ہے، اس لیے ریسکیو آپریشن کچھ حد تک روکا گیا ہے، لیکن مختلف ادارے—فائر سروس، نیوی، پولیس اور دیگرمشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ اندھیرے کی وجہ سے آپریشن عارضی طور پر معطل ہے، مگر دن کی روشنی میں دوبارہ شروع ہوگا۔‘‘