ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیر نو کے لئے ۲۵؍ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیاہے۔ جب چھ سال قبل فلسطینیوں نے ۵۰؍ارب ڈالر کی رشوت ٹھکرادی تھی تو کیا آج ۲۵؍ ارب ڈالر کا نذرانہ انہیں رجھا سکے گا؟
غزہ پٹی میں دو سال تک نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے اور غزہ کو کھنڈرات کے ڈھیر میں تبدیل کردینے کے بعداب تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نوکے لئے انہی لوگوں نے ایک بورڈ آف پیس بنایا ہے جواس تباہی کے ذمہ دار ہیں ۔ پچھلے ہفتے ڈاووس میں ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے یہودی داماد جیرڈ کشنر نے جب بڑے دھوم دھام سے غزہ کی تعمیر نو کیلئے مجوزہ بورڈ آف پیس کا افتتاح کیا تو وہاں امریکی صدر، امریکی وزیر خارجہ، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیرکے علاوہ انیس دیگر ممالک کے نمائندے موجود تھے۔ ستم ظریفی دیکھئے وہاں کوئی فلسطینی نمائندہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی کسی فلسطینی لیڈر کو مجوزہ بورڈ میں جگہ دی گئی ہے۔بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نمائندہLyse Doucet نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں امن قائم کرنے کیلئے بنائے گئے بورڈکے چارٹر میں غزہ کا ذکر تک نہیں ہے۔
ایک بار پھر فلسطینیوں کی تقدیر کا فیصلہ ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھا ایک سفیدفام سامراج کررہا ہے۔ پچھلی صدی میں فلسطین کے سینے میں خنجر برطانوی سامراج نے گھونپا تھا اس بار یہ کرم فرمائی امریکی سامراج کررہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک قراردارکو ہائی جیک کرکے ٹرمپ اسے ارض فلسطین پر اپنی دائمی جاگیر داری قائم کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں ۔انہوں نے خودکو اس بورڈ کا تاحیات چیئرمین مقررکرلیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس سے رخصت ہو جانے کے بعدبھی ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ اپناجانشین منتخب کرنے کا اختیار بھی انہوں نے خود کو ہی دے رکھا ہے۔ اور ہاں !ٹرمپ نے خود کوویٹو پاور سے بھی لیس کرلیا ہے۔ بورڈ میں کون کون ملک شامل ہوسکتا ہے اس کا فیصلہ بھی ٹرمپ ہی کریں گے۔ بورڈ کی رکنیت ٹرمپ ایک ارب ڈالر میں بیچ رہے ہیں ۔ یہ بورڈ ٹرمپ اینڈ فیملی اینڈ فرینڈس کا ذاتی بورڈ ہے۔
ٹرمپ کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے کردار دونوں کو چیلنج کررہا بلکہ ان سے متصادم ہے۔دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد گزشتہ اسی برسوں سے قائم بین الاقوامی نظام کو منہدم کرکے اس کی جگہ نیا ادارہ قائم کرنے کی کوشش ہے۔ ظاہر ہے اس نئے ادارہ کی باگ ڈور ٹرمپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ اگر آسان الفاظ میں کہا جائے تو ٹرمپ اقوام متحدہ کی طرز پراپنا ایک ذاتی مگر چھوٹا اقوام متحدہ تعمیر کررہے ہیں ۔
چونکہ ٹرمپ ایک عیار سیاستداں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گھاگ بزنس مین بھی ہیں اسی لئے انہوں نے اس پورے سیاسی اور سفارتی ڈرامہ سے موٹامنافع کمانے کا منصوبہ بھی تیار کررکھا ہے۔ ٹرمپ کامرکزی کاروبار رئیل اسٹیٹ کا ہے اسی لئے پوری غزہ پٹی میں انہیں ایک نفع بخش رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ نظر آرہاہے۔ ٹرمپ نے برملا یہ اعلان کیا کہ وہ بنیادی طور پر رئیل اسٹیٹ کے آدمی ہیں ۔ بحیرہ روم کے کنارے واقع غزہ ٹرمپ کے الفاظ میں beautiful pieace of property کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔
بورڈ آف پیس کے افتتاح کے بعد ٹرمپ کے دامادنے ’’نیا غزہ‘‘کا جو ماسٹر پلان پیش کیا اس سے بھی صاف ظاہر تھا کہ یہ لوگ غزہ کے کھنڈرات پر ایک جدیدمیگاسٹی کی تعمیر کے لئے بے قرار ہیں ۔ ایک ایسا میگا سٹی جہاں فلک بوس عمارتیں ، پرتعیش ہوٹل اور ساحل سمندر پر عیش کدے بنائے جائیں گے۔ دو سال تک چلی اسرائیلی بمباری میں غزہ کی نوے فی صد رہائشی عمارتیں تباہ و برباد ہوگئیں ۔ہسپتال، اسکول، کالج، دفاتر، بازار کچھ نہیں بچا۔ رگوں میں لہو منجمد کردینے والی سردی میں گھروں سے اجاڑے گئے چوبیس لاکھ بدنصیب لوگ خیموں میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔یہ بھوکے اور پیاسے ہیں ۔ یہ لاغر اور نڈھال ہیں ۔ یہ زخمی اور لاچار ہیں ۔ انہیں خوراک اور دواؤں کی فوری ضرورت ہے۔ ان کے بچوں کو دودھ اور علاج کی فوری ضرورت ہے۔ ابھی پوری توجہ اورتوانائی ان بدنصیب خانماں برباد فلسطینیوں کی بازآبادکاری پر ہونی چاہئے۔ ٹرمپ اور ان کے داماد کے ماسٹر پلان میں جن عالیشان چمچماتی لکژری عمارتوں اور ساحل سمندر کی تفریح گاہوں کا ذکر ہے وہ تو امریکہ، یورپ اور اسرائیل کے ارب پتی سیاحوں کے لئے تعمیر کی جائیں گی۔
جہاں تک بورڑ آف پیس کا تعلق ہے اس کا مقصد غزہ کی تعمیر نو کے نام پر اسے ایک نئی نوآبادیاتی کالونی میں تبدیل کرنا ہے۔گذشتہ انیس برسوں سے غزہ اسرائیلی فوج کے محاصرے میں تھا اور اس کے پہلے وہاں اسرائیل کا براہ راست فوجی تسلط تھا جیسا مغربی کنارے میں ہے۔ اب اس پر امریکی استعماریت بھی مسلط کی جارہی ہے۔ فلسطینی پہلے اسرائیل کے محکوم تھے اب انہیں امریکہ کی محکومی کے لئے بھی تیار کیا جارہا ہے۔
ٹرمپ اور ان کے حواریوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو اس وقت تک شروع نہیں کی جاسکتی ہے جب تک پورے علاقے کا demilitarizationنہ ہوجائے لیکن بندوق پھینک دینے کا مطالبہ صرف فلسطینیوں سے کیا گیا ہے اسرائیل فوج سے نہیں جو ابھی بھی غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے پر قابض ہے۔
ٹرمپ اور کشنر نے جس غزہ کا وژن پیش کیا ہے اس کے کسی کونے میں غزہ کے حقیقی باشندوں کے لئے کوئی جگہ ہوگی یا نہیں یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جاسکتی ہے۔ فلسطینیوں کی خود مختاری اور خود ارادیت کو تو آپ بھول ہی جائیں ۔علیحدہ فلسطینی ریاست کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار میں بھی کشنر نے غزہ اور مغربی کنارہ کے فلسطینیوں کو ایک سنہرے مستقبل کا خواب دکھایا تھا۔ اس خواب کا پرفریب نام’’ڈیل آف دی سینچری‘‘ رکھا گیا تھا۔ کشنر کے ۲۰۱۹ء کے اس پلان میں فلسطینی علاقوں کی ترقی و ترویج کے لئے ۵۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پر کشش تجویز تھی۔ فلسطینیوں کو یہ سمجھانے کی ناکام کوشش کی گئی کہ’’خوشحالی سے امن‘‘ کی راہ نکلے گی اسی لئے انہیں رفیوجیوں کی واپسی، حق خود ارادیت اور آزاد ریاست جیسے اپنے گھسے پٹے مطالبات ترک کردینے چاہئیں ۔ لیکن فلسطینیوں نے رشوت لے کر اپنی عزت نفس کا سودا کرنے سے انکار کردیا۔
بورڈ آف پیس میں ایک اہم عہدہ عطا کرکے ٹرمپ اپنے دوسرے دور حکومت میں اپنے لاڈلے داماد کو ایک بار پھرعالمی سیاست کے اسٹیج پر اپنا جلوہ دکھانے کا موقع فراہم کررہے ہیں ۔ اس بار انہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لئے ۲۵؍ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیاہے۔ جب چھ سال قبل فلسطینیوں نے ۵۰؍ارب ڈالر کی رشوت ٹھکرادی تھی تو کیا آج ۲۵؍ ارب ڈالر کا نذرانہ انہیں رجھا سکے گا؟ لگتا تو نہیں ہے۔