Updated: January 27, 2026, 2:30 PM IST
| Tehran
ایران میں جاری احتجاج اور امریکی دباؤ کے درمیان صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران مذاکرات اور کسی ممکنہ معاہدے کیلئے تیار ہے۔ تاہم، خطے میں امریکی جنگی تیاریوں اور ایران کے اندر شدید کریک ڈاؤن کے باوجود واشنگٹن کے اگلے قدم کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این۔
ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر (۲۶؍ جنوری) کو کہا کہ ایران مظاہرین کے خلاف اپنے وحشیانہ کریک ڈاؤن کو جاری رکھنے کے باوجود کسی معاہدے پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایران کی صورتحال پر ان کی تذبذب پر مبنی پالیسی کا تازہ ترین ثبوت ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ایران کے قریب امریکی جنگی جہاز تعینات کئے ہیں، تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا واشنگٹن آنے والے دنوں میں کسی حملے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ ایران کی صورتحال کو’’غیر یقینی‘‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ تہران بات چیت کرنا اور کوئی معاہدہ طے کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کس معاہدے کی بات کر رہے تھے۔
ٹرمپ نے کہا ’’ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کے قریب موجود ہے۔ وینزویلا سے بھی بڑا۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے اس کا علم ہے۔ انہوں نے کئی بار رابطہ کیا ہے۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘ٹرمپ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ایران کے حوالے سے ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ اگر وہ ہم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں، اور وہ شرائط جانتے ہیں، تو ہم بات چیت کریں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: دنیا میں قانون کی حکمرانی کے بجائے جنگل راج عام ہو رہا ہے: انتونیو غطریس
ایران پر ٹرمپ کا یو ٹرن
ایران میں احتجاج شروع ہونے کے بعد، ٹرمپ نے کھل کر ایرانی عوام کی حمایت کی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں موجود حکام کو خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا گیا تو اس کے نتائج ہوں گے۔ اس کے بعد واشنگٹن کی جانب سے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کی حمایت کے اشارے ملے، تاہم، ٹرمپ نے ان کی کھل کر تائید نہیں کی اور کہا کہ شاید وہ زمینی سطح پر حمایت حاصل نہ کر سکیں۔ بعد ازاں امریکہ نے تہران پر حملے کا اشارہ دیا، مگر روس کی جانب سے ’’سنگین نتائج‘‘ کی وارننگ کے بعد یہ قدم روک لیا گیا۔ اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے ایک بڑا یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ ایران مظاہرین کو پھانسی نہیں دے گا، اس لئے وہ حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ کہہ کر نظام کی تبدیلی کی بحث کو بھی ہوا دی کہ ’’ایران میں نئی قیادت پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک کا مسک کے ایکس کے مقابلے ’ڈبلیو‘ لانچ کرنے کا منصوبہ
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھا دی، یو ایس ایس ابراہام لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ تعینات
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے’ایکس‘پر بتایا کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کرتے ہوئے یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کو پیر کو خطے میں تعینات کر دیا۔ نِمٹز کلاس طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں ’’علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ‘‘کیلئے داخل ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچرکو کہا کہ ایک امریکی’’آرمادا‘‘خطے کی جانب بڑھ رہی ہے اور واشنگٹن ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے خلاف کسی بھی حملے کیلئے اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے د یا جائے گا: یو اے ای کا اعلان
متحدہ عرب امارات نے پیر کو اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ’’جارحانہ فوجی کارروائی‘‘کیلئے اپنی فضائی حدود، سرزمین یا سمندری پانی کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ایک بیان میں، یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ وہ تہران کے خلاف کسی بھی حملے کیلئے کسی قسم کی لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کا بھی پابند نہیں ہے۔وزارت نے کہا کہ یو اے ای کا یقین ہے کہ ’’مکالمہ، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کیلئے سب سے مؤثر بنیادیں ہیں‘‘ اور یہ کہ خلیجی ملک کا مؤقف تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر مبنی ہے۔