Inquilab Logo Happiest Places to Work

خلیجی ملکوں میں ہندوستانیوں کی مشکلات اور حکومتی رویہ

Updated: April 19, 2026, 2:02 PM IST | Aakar Patel | mumbai

ہم جنگ کرنے والے ملکوں پر اثر انداز ہوسکتے تھے مگر ہماری حکومت نے اس کی کوشش بھی نہیں کی۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ اہم سوال ہے اور اس کے پس پشت کئی وجوہ ہیں:

INN
آئی این این
کیا ہم عالمی اُمور میں  کوئی کردار ادا کررہے ہیں ؟ یہ سوال اکثر ذہنوں  میں  بار بار اُبھرتا ہے۔ ہماری احتیاط آمیز خاموشی یا عالمی اُمور میں  کوئی کردار ادا نہ کرپانے کی معذوری کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟ دُنیا کے بہت سے ملکوں  کی طرح ہندوستان بھی حالیہ جنگ سے منفی طور پر متاثر ہے مگر کوئی بھی دوسرا ملک اتنا متاثر نہیں  ہے جتنا کہ ہم ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے اتنے شہری خلیجی ملکوں  میں  نہیں  ہیں  جتنے ہندوستان کے شہری ہیں ۔ گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) میں  شامل چھ ملکوں  کی مجموعی آبادی اتنی نہیں  ہے جتنی کہ خلیجی ملکوں  میں  ہندوستانیوں  کی (کم و بیش ایک کروڑ)۔ ان ہندوستانیوں  کی زندگی اور روزگار دونوں  پر خطرہ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ وہ غیریقینی حالات سے جوجھ رہے ہیں  بالخصوص وہ لوگ جن کی معاشی حالت اتنی اچھی نہیں  جتنی کہ دوسروں  کی ہے۔ وہ لوگ زیادہ متاثر ہیں  جن کا تعلق ورکنگ کلاس سے ہے۔ 
اس حقیقت سے انکار نہیں  کیا جاسکتا کہ جی سی سی کے ملکوں  کی معاشی سمت و رفتار کا تعین نہیں  کیا جاسکتا کیونکہ جنگ نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ ان ملکوں  میں  موجود ہندوستانیوں  کا مستقبل کیا ہوگا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہاں  سے اِن ملکوں  کا معاشی سفر کیا رُخ اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک جتنا اس جنگ سے متاثر ہے، اُتنا بہت سے دوسرے ممالک نہیں  ہیں ۔ اندرونِ ملک بھی کچھ ایسے ہی حالات میں  کہ بڑی آبادی گیس اور تیل کی قلت سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں  یہ سوال بہت اہم ہوجاتا ہے کہ آخر ہم جنگ مسلط کرنے والے ملکوں  (امریکہ اور اسرائیل) پر اثر انداز ہونے یا اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے سے کیوں  باز رہے؟ 
سوائے یہ کہنے کے کہ جہاز وں  کی آمد و رفت بحال ہونی چاہئے، ہماری حکومت نہ تو کچھ کہہ سکی نہ ہی مسئلہ کے ساتھ جڑ سکی۔ جہازوں  کو کیوں  روکا گیا؟ ہم نے اس پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں  کی۔ آمد و رفت بحال کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سوال پر بھی ہم نے کوئی پیش رفت نہیں  کی۔ ’’جہازوں  کو کیوں  روکا گیا؟‘‘ اور ’’آمد و رفت کی بحالی کیسے ہوسکتی ہے؟‘‘ جیسے سوالات سے جڑے بغیر ہمارا یہ کہنا کہ ’’جہازوں  کی آمد و رفت بحال ہونی چاہئے‘‘ کوئی اہمیت نہیں  رکھتا۔ آپ اسے گزارش کہیں  یا مطالبہ، وہ جو بھی تھا، اس کے خالی خولی ہونے میں  کوئی شک نہیں  تھا۔ نوٹ کرنا چاہئے کہ ہندوستان نے شاید نہ چاہتے ہوئے خود کو یورپ کے اُن ملکوں  کے موقف سے وابستہ کرلیا، جو سامراجی طاقتوں  کے ساتھ کھڑے تھے اور جنگ کے کسی بھی فریق کے بارے میں  کچھ نہیں  کہہ رہے تھے۔ اُنہوں  نے نہ تو کوئی کردار ادا کیا نہ ہی جنگ میں  شامل ملکوں  کا کوئی حوالہ دیا، وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ اُن کے مال بردار جہازوں  کو آنے جانے دیا جائے۔
مگر ہندوستان کیوں  امریکہ اور اسرائیل پر اثر انداز نہیں  ہوا؟ یا اس نے کوئی کوشش کیوں  نہیں  کی؟ دراصل ہمارے اس طرز عمل کی کئی وجوہات ہیں جس کی بناء پر حکومت نے خاموشی کو ترجیح دی اور حرکت و عمل کو نہیں ۔ درج ذیل وجوہات ملاحظہ کیجئے:
ہماری خارجہ پالیسی غیر مربوط ہوگئی ہے۔ اس کی مثال میں  ایک سوال پر غور کیجئے کہ ہم کیوں  یہ طے نہیں  کرسکے کہ چین ہمارا دشمن ہے یا دوست ہے؟ اس سے تجارتی تعلقات جاری رکھے جائیں  یا منقطع کردیئے جائیں ؟ خارجہ پالیسی میں  ربط اس لئے نہیں  ہے کہ ہمارا کوئی فلسفہ نہیں  ہے جسے انگریزی میں  ’’ڈاکٹرِن‘‘ کہا جاتا ہے۔  ہم نے اپنی پالیسی کو ہندوستانیوں  پر مرکوز رکھا ہے اور اب جبکہ  وشو گرو ہونے کے دعوے کی قلعی کھل چکی ہے، ہم پریشان اور متذبذب ہوئے اور گردن پھیر کی دوسری طرف دیکھنے لگے۔
دوسری وجہ یہ سمجھ میں  آتی ہے کہ خارجہ پالیسی ’’ذاتی پالیسی‘‘ بنا کر رکھ دی گئی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ نے ہمیں  دھوکہ دیا اور نیتن یاہو نے ہمیں  استعمال کیا۔ ہندوستان کو جنگ کا جوخمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے وہ اُن ’’دوست ملکوں ‘‘ کی وجہ سے ہے جنہوں  نے جنگ شروع کی اور ایران پر حملہ کیا۔ اگر خارجہ پالیسی ذاتی پالیسی نہ بنی ہوتی تو ممکن تھا کہ ہم بحیثیت ملک، ان ملکوں  پر اثر انداز ہوتے!
تیسری وجہ یہ سمجھ میں  آتی ہے کہ چونکہ ثالثی کرنے میں  وہ لوگ پیش پیش ہوئے جنہیں  ہم پسند نہیں  کرتے اس لئے ہم نے کسی پیش رفت سے دور رہنے کا فیصلہ کیا  جس کی وجہ سے اپنے ہی ملک کے لوگ پریشان ہوتے رہے۔ یہ طرز عمل بالکل بھی ٹھیک نہیں  ہے مگر ہم نے ایسا کیا ہے۔ ہم یا تو بڑی بڑی باتیں  کررہے تھے (ماضی میں ) یا ہم نے خاموشی اختیار کرلی (حال میں )۔ 
چوتھی وجہ ہمارا رویہ ہے جس کی تفہیم کیلئے اُردو کا محاورہ ’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘ بہترین ہے۔ یہاں  ملا ّسے مراد وہ شخص ہے جو اُتنا ہی کرتا ہے جتنا اس کا علم ہے، اُتنا ہی بروئے کار لاتا ہے جتنے اُس کے وسائل ہیں  اور اسی چیز میں  دلچسپی لیتا ہے جس سے اس کی رغبت ہے۔ محاورہ میں  ملا کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اُس کی ساری سرگرمیاں  ایک مخصوص دائرہ میں  رہتی ہیں  اس سے باہر نہیں  جاتیں ۔ اب جہاں  تک نیو انڈیا کا تعلق ہے تو ہم آپ، سب دیکھ رہے ہیں  کہ ہماری قوم پرستی اندر دیکھنے کی عادی ہے۔ وہ باہر نہیں  دیکھتی۔ آپ اخبارات کا مطالعہ کریں  یا ٹی وی  آن کریں ، ایک ہی طرح کی خبریں  اور بیانیہ پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے جس میں  اقلیتوں  کو ہر چیز کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جو لبرل لوگ ہیں  وہ  ہمیں  اپنے عہد زریں  کی طرف لے جانے والے راستے میں  حائل ہوجاتے ہیں ۔ اس نوعیت کی خبروں  اور بیانیوں  کا مقصد یہ سمجھانا ہوتا ہے کہ پہلے ان رکاوٹوں  کو دور کرنا ہوگا تب ہی ہم ’’ترقی‘‘ کی راہ پر گامزن ہوں  گے۔ جب اس قدر اندر دیکھنے کی عادت ہو تو باہر کی دُنیا دور ہوجاتی ہے۔ ہمارا خیال ہوتا ہے کہ حالات خود بہ خود سازگار ہوجائینگے۔ کبھی تو ہوجاتے ہیں  مگر کبھی نہیں  ہوتے۔ جنگ سے پیدا شدہ صورتحال میں  یہ دوسرا معاملہ ہوا کہ حالات سازگار نہیں  ہوئے۔ 
 
 
جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں  وزارت خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ ’’ٹرمپ، عاصم منیر کی تعریف کررہے ہیں ، انہوں  نے  پاکستان جانے کا اعلان کیا ہے، اگر وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں  جگہ گئے تو کیا یہ ٹھیک ہوگا؟ اس کے جواب میں  ترجمان نے کہا: ’’ہم مغربی ایشیاء  واقعات پر نظر بنائے ہوئے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ We are closely following میں    Followingکا اتنا اچھا استعمال اس سے پہلے کبھی نہیں  ہوا۔
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK