بہت سے الفاظ کے بارے میں ہماری رائے یہ ہوتی ہے کہ ہم اُن کے معنی سے واقف ہیں مگر کوئی کہے کہ ذرا بیان فرما دیجئے تو ہاتھوں کے طوطے اُڑنے لگتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لفظ ہے ’’فکر‘‘۔ بہت آسان مگر بہت مشکل۔
لیفٹننٹ جنرل سر جان باگٹ گلب بنیادی طور پر برطانوی تھے مگر اُن کی عملی زندگی کا بیشتر حصہ عالم عرب میں گزرا جہاں وہ برطانوی فوج کی ملازمت کے دوران تعینات تھے۔ سماج میں عموماً دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنا ذہن اور نظریہ لے کر دیارِ غیر میں خدمات انجام دیتے ہیں ۔ ایسے لوگ دس پندرہ برس مقیم رہیں تب بھی اُن کا نہ تو ذہن بدلتا ہے نہ نظریہ تبدیل ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف بعض لوگ جو سنجیدہ فکر کے حامل ہوتے ہیں ، کسی راسخ نظریہ کے بغیر دیارِ غیر میں قیام کرتے ہیں اور نئے ماحول سے کچھ سیکھنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں ۔ سر جان باگٹ گلب، جن کا نام عربی دانوں نے کلوب باشا لکھا ہے، دوسری قسم کے لوگوں میں سے تھے۔ اُنہوں نے عالم عرب کو ایک برطانوی شہری یا انگریز کے نظریہ و عقیدہ سے نہیں دیکھا بلکہ وہاں کے ماحول سے اکتساب کیا جس کا نتیجہ ہے کہ کئی کتابیں عربوں کی تاریخ، عظیم فتوحاتِ عرب، بحرانِ مشرق وسطیٰ اور صحرائی جنگوں سے متعلق تصنیف کیں ۔
ان کتابوں کے مشمولات کا علم نہ ہونے کے سبب ان کی بابت کچھ لکھنا دشوار ہے مگر ایک نظر میں کلوب باشا سلیم الفطرت اور صحیح الذہن معلوم ہوتے ہیں ۔ اس کا اشارہ اُن کی کتابوں کے ناموں سے بھی ملتا ہے جن کی نوعیت نہ تو جنگی روزنامچوں کی ہے نہ ہی برطانوی فتوحات کی۔ اس کالم میں اُن کا نام اس لئے آیا کہ جب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ موضوع بحث بنی ہے، صرف چالیس دن میں امریکہ کی پسپائی کا نقشہ واضح ہوا ہے اَور امریکہ کی ناقابل تسخیر ہونے کی اصل حقیقت کھلی ہے، تب سے کلوب باشا کے ایک مقالہ کا کافی شہر ہ ہے۔ ۱۹۷۶ء میں یہ مقالہ ’’عظیم سلطنتوں کا انجام اور بقاء کی جدوجہد‘‘ (The Fate of Empires & Search for Survival) کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں اُنہوں نے عظیم سلطنتوں کے زوال کی سات نشانیاں بیان کی ہیں ۔ پہلا، اُن کے بانی بعد کے ادوار میں کتنے مقبول رہے، دوسرا، اُن سلطنتوں کی فتوحات کتنی وسیع تھیں ، تیسرا، تجارتی لین دین فائدہ کا سبب تھا یا نقصان کا، چوتھا سلطنتوں میں کتنی خوشحالی تھی، پانچواں علم و دانش کا ماحول کیسا تھا، چھٹا، اخلاقی و تہذیبی کیفیت کیا تھی اور ساتواں زوال یعنی جب تمام چھ معاملات میں سلطنتیں اپنی ساکھ کمزور کر بیٹھتی ہیں تو اُن کا چراغ بجھنے لگتا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سوویت یونین کے انتشار کے بعد واحد سپرپاور کے طور پر خود کو متعارف کرانے والے امریکہ میں زوال کی سات میں سے کم و بیش پانچ وجوہات بآسانی دیکھی جاسکتی ہیں ۔ پورے پچاس سال بعد کسی مقالہ کا تذکرہ اُس کے جاندار ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔
عربی اور فارسی کی طرح اُردو زبان کو بھی یہ امتیاز حاصل ہے کہ بعض اوقات صرف دو مصرعے ضخیم کتابوں کا ماحصل پیش کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ سلطنتوں اور قوموں کے زوال پر اُردو میں ایک شعر بہت مشہور ہوا اور ہر اچھے شعر کی طرح یہ بھی علامہ اقبال کے نام سے شہرت پا گیا جبکہ اقبال کے کسی دیوان میں غالباً یہ شعر نہیں ہے جو آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ’’قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے= تب کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے‘‘۔ کلوب باشا جیسا مصنف ایک مقالہ لکھے یا پوری کتاب تصنیف کردے، ایک تھیوری پیش کرے یا ایک سے زائد فلسفے بیان کرے، بات گھوم پھر کر قوت فکر وعمل ہی پر آکر رُکے گی جو مذکورہ بالا سچے شعر میں کہی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فکر وعمل کا وہی مفہوم ہے جو شعر کو سنتے اور سر دھنتے وقت ہمارے ذہنوں میں ہوتا ہے یا یہ اصطلاح وسیع تر معنی کی حامل ہے؟
اس پر غور کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اُن سوالات پر غور کرنے کا سلسلہ موقوف کردیا جائے جو خارجی ہیں مثلاً کیا امریکہ واقعی ڈوب رہا ہے؟ کیا اس کی سپرپاوری کو اندر اور باہر سے خطرات لاحق ہیں ؟ کیا موجودہ صدر نے اس کے زوال کی داستان کا ابتدائیہ قلمبند کر دیا ہے؟ کیا اس کی سپرپاوری ڈھکوسلہ تھی؟ وغیرہ۔ ان سوالوں پرغور کرنا اس لئے بے سود ہے کہ جب انسان باہر دیکھنے لگتا ہے تو اندر دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا خواہ ’’باہر‘‘ کے محرکات ’’اندر‘‘ کے لئے بھی خطرہ ہوں ۔ ’’عظیم سلطنتوں کی شوکت پر کیوں زوال آیا‘‘ سے زیادہ اہم یہ سوچنا ہے کہ قوت فکروعمل کیا ہے اور اس کی پختگی کیلئے کیا کیا جاسکتا ہے کیونکہ امریکہ جیسی طاقت روبہ زوال ہو یا رو بہ ارتقاء، اس سے آپ کا کچھ بنتا بگڑتا نہیں ہے۔ آپ کا کچھ بنے گا تو فکر وعمل کی پختگی سے اور آپ کا کچھ بگڑے گا تو اس قوت کے انحطاط سے۔ اس کی مثال پڑوسی کے مکان سے دی جاسکتی ہے کہ اس میں چاہے جتنے کمرے ہوں اور کمرے چاہے جتنے عالی شان ہوں اور ان میں چاہے جتنی سہولتیں ہوں ، ان سب سے آپ کے مکان کی ایک اینٹ کو بھی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ آپ کا مکان کسی قابل تب ہی ہوگا جب اس پر آپ کی قوت، محنت اور دولت صرف ہوگی۔
آگے بڑھنے سے قبل اس ستم ظریفی کو محسوس کیجئے کہ عموماً قوت فکر و عمل کے فنا ہونے پر افسوس نہیں کیا جاتا، اس کے احیاء کا عزم نہیں کیا جاتا بلکہ شعر پر داد دے کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ فرض ادا ہوگیا۔ بلاشبہ عمل کی اہمیت ہے مگر فکر کی پختگی کے بعد کیونکہ فکر پختہ نہ ہوئی تو عمل ناپختہ ہی رہے گا کبھی پختہ نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ خود کو اسی سوال پر مرکوز کیجئے کہ فکر کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ چاٹ مسالہ نہیں ہے کہ بازار گئے اور خرید لائے۔ فکر انسانی شخصیت کا وصف خاص ہے جو اُسے گہرائی و گیرائی عطا کرتا ہے۔ ا س کے معنی میں بہت کچھ شامل ہے مثلاً کسی موضوع یا مسئلہ پر ہمہ جہتی غور کرنا، غور کیلئے تحصیل علم کرنا، حالات کا صحیح تجزیہ کرنا، اپنی غلطی ہے تو تسلیم کرنا، اپنا محاسبہ کرنا، خود پر تنقید کی عادت ڈالنا، دوسروں کی تنقید کا صحتمندانہ جائزہ لینا، کسی اور کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنا پلہ جھاڑ نے سے گریز کرنا اور اپنے ہر تجزیئے سے درست نتائج اخذ کرنا۔ جو قوم سمجھتی ہے کہ اُس کے زوال میں بیرونی طاقتیں کارفرما ہیں اور اس کا کوئی قصور نہیں ہے، اُس کی فکر کا دائرہ محدود مانا جائیگا کیونکہ زوال، جنگ میں شکست کھانے جیسا نہیں ہے۔ زوال ایک دم نہیں آتا کہ سحر کو عروج تھا، شام کو زوال ہے۔ زوال بتدریج رونما ہوتا ہے اور متعلقہ اسباب سے نمٹنے میں ناکامی کے باعث اپنا دائرہ وسیع کرتا ہے تاوقتیکہ مکمل نہ ہو جائے۔