Inquilab Logo Happiest Places to Work

رگھورائے: ایک بار جب میں کیمرہ اٹھا لیتا ہوں

Updated: May 18, 2026, 1:31 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

فوٹوگرافی اپنی روشنی اور سائے کے ساتھ جس توازن،ٹھہراؤ اور دیر پائی کا تاثر پیش کرتی ہے اسے سمجھنے اور دیکھنے کیلئے رگھو رائے جیسے فنکار کی فوٹوگرافی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

INN
آئی این این
۲۶؍اپریل ۲۰۲۶ء کومشہور فوٹوگرافر رگھو رائے اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ وہ ۱۸؍ دسمبر۱۹۲۴ءکو پیدا ہوئے تھے۔ انہیں ۸۳؍ سال کی زندگی ملی اورکم و بیش ۶۰؍ سال فوٹوگرافی کے ہیں ۔ یہ سال اور دن کیلنڈرکی روشنی میں  بہت روشن دکھائی دیتے ہیں  لیکن جو تصویریں  انہوں  نے بنائی ہیں  وہ بظاہر دھندلی ہیں ۔ان تصویروں  میں  جو دن اور سال پوشیدہ ہیں  انہیں  کیلنڈر کی تاریخوں  کی روشنی میں  ضرور دیکھا جانا چاہئےمگر تصویروں  میں  پوشیدہ جو زندگی سے ایماندارانہ وابستگی ہے وہ تاریخ کی زنجیروں  سے نکل آتی ہے۔ رگھورائے کی فوٹوگرافی کا آغاز ۱۹۶۵ء میں  ہوا جب ان کی۲۳؍ سال تھی۔ اسٹیٹس  مین (۱۹۷۶۔۱۹۶۶ء)  چیف فوٹوگرافر کے طور پر کام کیا اور کلکتہ سے شائع ہونے والا ہفتہ وار’’سنڈے‘‘ (۱۹۸۰۔ ۱۹۷۷) کے پکچر ایڈیٹر بھی رہے۔ انڈیا ٹوڈے کے ابتدائی برسوں  میں  بھی انہوں  نے مدیر فوٹوگرافر کے طور پر خدمات انجام دی ۔ ۱۹۷۱ءمیں  پیرس کی گیلری ڈیلپائر میں  تصویروں  کی نمائش سے متاثر ہو کر عظیم فوٹوگرافر ہینری ماٹیئر بریسن نے انہیں  میگنم فوٹوز کیلئے نامزد کیا۔ یہ ادارہ دنیا کا سب سے بڑا فوٹوگرافی سے متعلق ادارہ  ہے۔
۱۹۹۲ء میں  رگھو رائے کا ایک مضمون نیشنل جیوگرافک میں  شائع ہوا جس کا موضوع ہندوستان میں  جنگل کی زندگی تھا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد فوٹوگرافی سے متعلق امریکہ کا سب سے بڑا ایوارڈ ملا۔یہ بات بھی بڑی حد تک رگھو رائے سے وابستہ ہے کہ انہوں  نے فوٹوگرافی کے تعلق سے مضامین لکھے۔ان کی کتابوں  کے مطالعہ سے ان کی تاریخی اور تہذیبی نظر اور بصیرت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ رگھو رائے کے انٹرویوز بھی سنے اور دیکھے جا سکتے ہیں  جن میں  وہی ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ ہے جو ان کے ذریعہ کھینچی گئی تصویروں  کا حصہ ہے۔ رگھو رائے کو ہندوستانی فوٹو صحافت کے ایک بنیاد گزار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔انہیں  فوٹو صحافت کا موجد بھی کہا گیا جس نے صرف مناظر کو قید نہیں  کیا بلکہ مناظر کی روح کو فوٹوگرافی میں  منتقل کرنے کی کوشش کی۔ یہ روح ہندوستان کی تہذیبی زندگی کی روح ہے جس کے بارے میں  انہوں  نے ایک انٹرویو میں  کہا تھا کہ ہندوستان میرے لئے ایک دنیا ہے جس میں  تہذیبی زندگی کی رنگا رنگی موجود ہے۔
فوٹوگرافی تاریخ کو دستاویز بنانے کی ایک کوشش ہے جس کی دنیا بھر میں  روایت رہی ہے۔مگر فوٹوگرافی کو انسانی درد مندی سے وابستہ کرنے کی مثال بہت کم رہی ہے۔ رگھو رائے کی فوٹوگرافی انسانی دردمندی کی روشن مثال بھی ہے۔ فوٹوگرافی اپنی روشنی اور سائے کے ساتھ جس توازن، ٹھہراؤ اور دیرپائی کا تاثر پیش کرتی ہے اسے  سمجھنے اور دیکھنے کیلئے رگھو رائے کی فوٹوگرافی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ فور گراؤنڈ اور بیک گراؤنڈ یہ دو ایسی اصطلاحیں  ہیں  جو فوٹوگرافی کو نظریاتی اور عملی طور پر سمجھنے میں  معاون ہیں ۔ رگھو رائے کی تصویروں  میں  کہانی کی دونوں  سطحیں  ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ ان کی تصویریں  یہ بھی بتاتی ہیں  کہ وہ لمحہ مجھ میں  موجود ہے جو منظر یا صورتحال کا اہم ترین لمحہ تھا۔ اگر فوٹوگرافر اس لمحے کو پہچان نہیں  پاتا یا اس کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتا تو تصویریں  اتنی اہم نہیں  ہو سکتی تھیں ۔ کوئی منظر جو بہت غیر اہم دکھائی دیتا ہے، اسے فوٹوگرافر کیمرے کی آنکھ سے اس طرح دیکھتا اور قید کرتا ہے کہ وہ منظر اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔اس کالم کا عنوان یعنی ’’جب میں  کیمرہ اٹھا لیتا ہوں ‘‘ رگھو رائے کی ایک گفتگو سے ماخوذ ہے جس میں  انہوں  نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے بعد زندگی اور فطرت کی مسلسل بدلتی ہوئی توانائی مجھے متاثر کرتی ہے۔ کیمرے کا اٹھا لینا دراصل ایک فطری عمل ہے جو فوٹوگرافر کی فوٹوگرافی سے گہری دلچسپی کا اظہار ہے۔ اسی لئے فوٹوگرافی رگھو رائے کیلئے روحانی قدر بن جاتی ہے۔ انہوں  نے یہ بھی کہا ہے کہ’’میں  اپنے کیمرے کے ذریعے اپنے خدا سے ملتا ہوں ۔‘‘ رگھو رائے کی فوٹوگرافی کے نمونے ’’رگھو رائے فاؤنڈیشن‘‘  میں  محفوظ ہیں  اور انہیں  آن لائن بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹوگرافی کے تعلق سے جس انسانی درد مندی کی بات آئی ہے، اس کا اظہار بھوپال گیس سانحہ سے وابستہ تصویروں  سے بھی ہوتا ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں  نے تین دسمبر۱۹۸۴ء کا ذکر کیا ہے جب حمیدیہ ہسپتال میں  تصویروں  کو کھینچنے کے بعد انہوں   نے شمشان گھاٹ اور قبرستان کی طرف جانا ضروری سمجھا۔’’وہاں  ایک بچہ دفنایا جا رہا تھا، اس کا بھولا سا چہرہ تھا آنکھیں  کھلی سی تھیں ۔ میں  نے جلدی سے تصویر کھینچی پھر اس پر مٹی ڈالنے لگے۔‘‘میں  نے یہ تصویر آج ہی دیکھی ہے، سچ یہ ہے کہ تصویر دیکھنے کی ہمت نہیں  ہوتی۔ بھوپال گیس سانحہ میں  اپنی زندگی کو کھونے والے اور زندگی کی جنگ لڑنے والے،ان سب کی تصویریں  آج بہت کچھ کہتی ہیں ۔ رگھو رائےکے کیمرے سے اگر یہ تصویریں  نہ کھینچی جاتیں  تو تاریخ کا یہ اندوہناک حادثہ دھیرے دھیرے حافظے سے محو ہو جاتا۔
 
 
ایک انٹرویو میں  ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی فوٹوگرافی کی بہت تعریف ہوتی ہے۔ انہوں  نے کہا تھا کہ تصویر حقیقت کا روپ ہے جب اسے زندگی کی طرف پھینکا جائے تو زندگی چلنے لگے۔ان کا اشارہ اس حقیقت کی طرف تھا کہ کسی تصویر کی تعریف یا مقبولیت سے فوٹوگرافر کو اتنا متاثر نہیں  ہونا چاہئے کہ اس کی فوٹوگرافی وہیں  فکر و احساس کی سطح پر رک جائے۔
رگھو رائے کی فوٹوگرافی فوٹوگرافی کی صحافت کو ایک ایسی زبان دینے میں  کامیاب ہوئی جسے دیکھتے ہوئے سنا جا سکتا ہے،سنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ،دیکھنے سننے اور محسوس کرنے کا عمل شاید فوٹوگرافی کی تاریخ میں  پہلی مرتبہ رگھو رائے کے وسیلے سے ہماری تہذیبی زندگی کا حصہ بنا۔ناسخ نے کہا تھا؎
تیری صورت سے نہیں  ملتی کسی کی صورت
 ہم جہاں  میں  تری تصویر لیے پھرتے ہیں 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK