Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۰؍ سال میں ایک لاکھ سرکاری اسکول بند، ۲۶ء۲؍ کروڑ بچوں کا داخلہ کم: رپورٹ

Updated: May 18, 2026, 4:03 PM IST | New Delhi

نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان ہندوستان میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہو گئے، جبکہ اسی عرصے میں اسکولی بچوں کے داخلے میں ۲۶ء۲؍ کروڑ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں کے انضمام، آبادیاتی تبدیلیوں، کم ہوتی شرحِ پیدائش اور ثانوی سطح پر بڑھتے ڈراپ آؤٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

نیتی آیوگ کی ایک نئی رپورٹ نے ہندوستانی تعلیمی نظام کے بارے میں تشویشناک تصویر پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہو گئے، جبکہ اسکولوں میں بچوں کے داخلے میں ۲۶ء۲؍ کروڑ کی بڑی کمی درج کی گئی۔ رپورٹ، جس کا عنوانSchool Education System in India: Temporal Analysis and Policy Roadmap for Quality Enhancement ہے، کے مطابق ۲۰۱۴ء کے مالی سال میں ہندوستان بھر میں اسکولوں میں داخل طلبہ کی تعداد ۹۵ء۲۶؍ کروڑ تھی، جو ۲۰۲۴ء کے مالی سال تک کم ہو کر ۶۹ء۲۴؍ کروڑ رہ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران سرکاری اسکولوں کی تعداد ۰۷ء۱۱؍ لاکھ سے گھٹ کر ۱۳ء۱۰؍  لاکھ رہ گئی، یعنی تقریباً ۹۴؍ ہزار اسکول ختم یا ضم ہو گئے۔ اسی عرصے میں سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کی تعداد بھی ۸۳؍ ہزار سے کم ہو کر ۷۹؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس نجی اسکولوں کی تعداد ۸۸ء۲؍ لاکھ سے بڑھ کر ۳۹ء۳؍ لاکھ ہو گئی، جسے ماہرین  ’’تعلیم کی نجکاری‘‘ کے بڑھتے رجحان سے جوڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’عدالتی فیصلوں میں شواہد اور حقائق کی جگہ عقیدے پر انحصار تشویشناک ہے‘‘

رپورٹ کے مطابق حکومتوں کی جانب سے ’’اسکول کنسولیڈیشن‘‘ یا کم طلبہ والے اسکولوں کو قریبی اداروں میں ضم کرنے کی پالیسی اس تبدیلی کی بڑی وجہ بنی۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے وسائل کے ’’بہتر استعمال‘‘ کے نام پر ہزاروں چھوٹے اسکول بند کیے۔ تعلیمی کارکن اور رائٹ ٹو ایجوکیشن فورم کے کوآرڈینیٹر رنجن مترا نے اس پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسکولوں کے انضمام کے بعد کئی بچوں نے تعلیم ہی چھوڑ دی کیونکہ ان کے آس پاس کوئی اسکول باقی نہیں رہا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صرف اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں تقریباً ۴۰؍ 0 ہزار اسکول ضم کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی دیہی اور غریب خاندانوں کے بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے، کیونکہ دور دراز اسکولوں تک پہنچنا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں سب سے زیادہ تشویش ثانوی تعلیم یعنی نویں اور دسویں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح پر ظاہر کی گئی، جہاں یہ شرح ۵ء۱۱؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں پرائمری سطح پر ڈراپ آؤٹ صرف ۳ء۰؍ فیصد رہا، جبکہ اپر پرائمری مرحلے میں یہ ۵ء۳؍ فیصد تھا۔ نیتی آیوگ کے مطابق اپر پرائمری سے سیکنڈری مرحلے میں منتقلی کی شرح ۲۰۱۴ء میں ۵۸ء۹۱؍ فیصد تھی، جو ۲۰۲۴ء میں کم ہو کر ۶ء۸۶؍ فیصد رہ گئی۔ ریاستی سطح پر کیرالا اور پدوچیری نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی، جہاں منتقلی کی شرح تقریباً ۶ء۹۹؍ فیصد رہی۔ دوسری جانب میگھالیہ، جھارکھنڈ، بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش جیسے علاقوں میں صورتحال کافی خراب پائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپرلیک تنازع کے درمیان این ٹی اے میں انتظامی رد وبدل

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ثانوی سطح کے طلبہ بنیادی ریاضی تک میں مشکلات کا شکار ہیں۔ نویں کے طلبہ فیصد، کسر، تناسب اور الجبرا جیسے بنیادی تصورات سمجھنے میں جدوجہد کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں سیکھنے کے خسارے دور نہیں کیے جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق’’طلبہ جیسے جیسے اگلی جماعتوں میں جا رہے ہیں، ابتدائی تعلیمی کمزوریاں ان کے ساتھ منتقل ہو رہی ہیں۔‘‘ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو ہندوستان کے لیے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت ۲۰۳۰ء تک ’’سب کے لیے معیاری تعلیم‘‘ کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تعلیمی حلقوں میں یہ بحث بھی تیز ہو گئی ہے کہ آیا ’’وسائل کی بچت‘‘ کے نام پر اسکول بند کرنا واقعی مؤثر حکمت عملی ہے یا یہ دیہی اور غریب بچوں کو تعلیم سے دور دھکیلنے کا سبب بن رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK