عدالت نے ریاستی حکومت کے ذریعے ایک طرف مراٹھی کوفروغ دینے اور دوسری طرف مراٹھی اسکولوں کو بند کرنے کے فیصلہ پر شدید تنقید کی۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 3:58 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
عدالت نے ریاستی حکومت کے ذریعے ایک طرف مراٹھی کوفروغ دینے اور دوسری طرف مراٹھی اسکولوں کو بند کرنے کے فیصلہ پر شدید تنقید کی۔
ایک طرف ریاستی حکومت مراٹھی کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے حتیٰ کہ حال ہی میں رکشا ، ٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی لکھنا ، پڑھنا اور بولنا لازمی قراردیا ہے۔ وہیں دوسری طرف شہرو ریاست میں موجود ۷؍ سو سے زائد مراٹھی سرکاری اور ایڈیڈ اسکولوں کو جلد ہی بند کرنے کا فرمان جاری کرتے ہوئے جی آر جاری کیا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں کئی عرضداشتیں داخل کی گئی ہیں ۔ تاہم کورٹ نے مراٹھی اسکولوں کے بند ہونے سے سیکڑوں طلبہ کو ہونے والے تعلیمی نقصان اور اسکول بند کرنے کے تعلق سے کوئی ٹھوس وجہ پیش نہ کئے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی محکمہ تعلیم اور حکومت کی سرزنش کی ۔ بامبےہائیکورٹ کی ناگپوربنچ کے جسٹس مادھو جامدار اور جسٹس پروین پاٹل کے روبرو داخل کردہ درخواستوں کے ذریعہ بتایاگیا کہ حکومت نے اپریل میں شہر اور ریاست میں موجود ۷۶۷؍ مراٹھی اسکولوں جس میں سرکاری اسکولوں کے علاوہ ایڈیڈ اسکولیں بھی شامل ہیں ،بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں حکومت کے ذریعے گزشتہ ماہ اپریل میں منظور کردہ قرار داد کو چیلنج کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ مراٹھی ایڈیڈ اسکولوں کو ایڈ دینا بند کر دیا گیا ہے ۔ عرضداشت کے ذریعے یہ اطلاع بھی فراہم کی گئی کہ شہر و ریاست میں ۳۲۴؍ پرائمری اور ۴۳۳؍ سکینڈری اسکول موجود ہیں اور ان میں اکثر اسکول دیہی علاقوں میں آباد ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے : شدید گرمی سے سبزیوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ
کورٹ کو بتایا گیا کہ دیہی علاقو ںمیں پڑھنے والے غریب طلبہ کے سرپرست نہ تو پرائیویٹ اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس فیس ادا کرنے کے پیسے ہیں ۔ عرضداشت گزاروں نے مراٹھی اسکولوں کو بند کرنے کی ضمن میں جاری کردہ جی آر کو منسوخ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا ’’حکومت اور محکمہ تعلیم کے اس فیصلہ سے نہ صرف دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کا مستقبل تاریک ہوجائے گا اور بلکہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے اپنے بنیادی اور آئینی حقوق سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔ ‘‘ وہیں بامبے ہائیکورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس مادھو جامدار اور جسٹس پروین پاٹل نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ حکومت ایک طرف تو مراٹھی کو فروغ دینے کا دعویٰ کررہی ہے اور شہریوں کو مراٹھی پڑھنے ، بولنے اور لکھنے پر آمادہ کررہی ہے اور دوسری طرف طلبہ کو مراٹھی اسکول سے ہی محروم کر رہی ہے ۔ حکومت کا یہ دوہرا رویہ قابل قبول نہیں۔‘‘ کورٹ نے مزید کہا کہ ’’ ۷؍ سو سے زائد پرائمری اور سکینڈری مراٹھی اسکولوں کو نہ تو بند کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس میں زیر تعلیم طلبہ کو تعلیم سے محروم کیا جاسکتا ہے ۔ کورٹ نے اس ضمن میں حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اسکولوں کو بند نہ کرنے کا فرمان جاری کیا۔