Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُردو مترجمین کی تقرری کا فیصلہ قابلِ تحسین

Updated: March 05, 2026, 11:31 AM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

بہار میں اردو کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مترجمین اور معاونین کی بڑی تعداد میں تقرری ایک تاریخی موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر اس موقع سے صحیح فائدہ اٹھایا گیا تواردو کا دفتری وقار بحال ہوگا،شہریوں کو لسانی انصاف ملے گا۔

Selection Process.Photo:INN
انتخاب کیلئے قطار۔ تصویر:آئی این این
 ہندوستان میں بہار اُن ریاستوں میں شامل ہے جہاں اردو کو باقاعدہ دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ یہ محض ایک علامتی اعزاز نہیں بلکہ آئینی اور انتظامی ذمہ داری بھی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمۂ راج بھاشا کےتحت ۱۵۵؍ مترجم،۱۹۵۱، نائب مترجم اور ۱۴؍ معاونین کی تقرری کا فیصلہ اسی آئینی وعدے کی تکمیل کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یہ فیصلہ اگر مؤثر انداز میں نافذ ہو تو نہ صرف اردو زبان کے دفتری استعمال کو تقویت ملے گی بلکہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان لسانی فاصلے بھی کم ہوں گے ۔
واضح رہے کہ بہار میں اردو کو ۱۹۸۰ء کی دہائی میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ ریاست میں اردو بولنے اور سمجھنے والے شہریوں کو سرکاری دفاتر، عدالتوں اور تعلیمی اداروں میں اپنی زبان میں سہولت میسر ہو۔ سرکاری احکامات، نوٹیفکیشن، عرضیاں اور عوامی خدمات اردو میں بھی دستیاب ہوں تاکہ زبان کسی شہری کے حقوق میں رکاوٹ نہ بنے۔یہ قدم ہندوستانی آئین کی اُس روح سے ہم آہنگ ہے جو لسانی تنوع اور تکثیریت کو قومی طاقت سمجھتی ہے۔ بہار جیسے کثیرالثقافتی صوبے میں اردو کی موجودگی صرف ایک لسانی حقیقت نہیں بلکہ تہذیبی ورثہ محکمۂ راج بھاشا، بہار کے تحت مترجمین اور معاونین کی اتنی بڑی تعداد میں تقرری کا فیصلہ کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ۱۵۵؍ مترجمین کا تقرر اعلیٰ سطحی دفتری اور قانونی دستاویزات کے ترجمے میں مددگار ہوگا، جبکہ ۱۹۵۱؍ نائب مترجمین ضلعی اور مقامی سطح پر اردو کے عملی نفاذ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔۱۴؍ معاونین انتظامی و تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔یہ تقرریاں اگر شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں تو اردو کے دفتری نفاذ میں ایک انقلابی پیش رفت ممکن ہے۔
اردو دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود عملی سطح پر اکثر دفاتر میں اس کا استعمال محدود رہا ہے۔ کئی سرکاری اعلانات اور فارم صرف ہندی یا انگریزی میں دستیاب ہوتے ہیں، جس سے اردو داں طبقہ مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ مترجمین کی کمی اور تربیت یافتہ عملے کا فقدان اس مسئلے کی بنیادی وجوہات میں شامل رہا ہے۔نئی تقرریاں اس خلا کو پُر کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اگر ہر ضلع اور سب ڈویژن کی سطح پر اردو مترجم موجود ہوں توسرکاری خطوط و کتابت دو لسانی شکل اختیار کریں گے،عوامی شکایات اور درخواستیں اردو میں بھی قابلِ قبول ہوں گی اقلیتی برادری کو انتظامی شمولیت کا احساس ہوگا،انتظامی شفافیت اور عوامی اعتماد،لسانی انصاف دراصل انتظامی انصاف کا حصہ ہے۔ جب کوئی شہری اپنی مادری زبان میں درخواست دیتا ہے اور اسے اسی زبان میں جواب ملتا ہے تو اس کا ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ مترجمین کی تقرری سے یہ پیغام جائے گا کہ حکومت لسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے۔
بہر کیف!اس نئی تقرری کے فیصلے کا ایک اہم پہلو روزگار کے مواقع کی فراہمی بھی ہے۔ اردو کے طلبہ اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کے باوجود ملازمت کے مواقع محدود ہیں۔ مترجمین اور نائب مترجمین کی تقرری اردو گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس کے لئے ایک امید کی کرن ہے۔اس سے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اردو تعلیم کی افادیت بھی واضح ہوگی اور طلبہ میں پیشہ ورانہ امکانات کا شعور بڑھے گا۔ہر مثبت اقدام کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہوتے ہیں۔(۱) تربیت کا فقدان: صرف زبان جاننا کافی نہیں،سرکاری اصطلاحات، قانونی متن اور دفتری اسلوب سے واقفیت بھی ضروری ہے۔(۲)ڈیجیٹل مہارت: جدید دفتری نظام کمپیوٹرائزڈ ہے، اس لئے مترجمین کو یونیکوڈ، ٹائپنگ اور سافٹ ویئر کے استعمال میں مہارت ہونی چاہئے۔ا(۳)نگرانی کا نظام:  اگر مترجمین کو مناسب کام نہ دیا جائے یا ان کی خدمات مؤثر طریقے سے استعمال نہ ہوں تو تقرری بے اثر ہو سکتی ہے۔(۴) سیاسی مداخلت:  تقرری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
آج سرکاری محکمے ای۔گورننس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر اردو کو واقعی دوسری سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنا ہے توسرکاری ویب سائٹس پر اردو ورژن لازمی ہو،آن لائن فارم اور خدمات اردو میں دستیاب ہوں،موبائل ایپس میں اردو انٹرفیس شامل کیا جائے۔ مترجمین کی نئی کھیپ اس ڈیجیٹل منتقلی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
اردو بہار کی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ زبان ہے۔ اس کا فروغ کسی ایک طبقے کا مفاد نہیں بلکہ ریاست کی ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔ مترجمین کی تقرری سے یہ پیغام جائے گا کہ حکومت لسانی تنوع کو قومی طاقت سمجھتی ہے، نہ کہ تقسیم کا ذریعہ۔یہ قدم فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کو بھی مضبوط کرے گا، کیونکہ زبان کو اکثر غلط فہمیوں کا شکار بنایا جاتا رہا ہے۔اس اقدام کو مؤثر بنانے کیلئےدرج ذیل تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں۔مترجمین کیلئے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس،سرکاری اصطلاحات کی مستند دو لسانی لغت کی تیاری،ضلعی سطح پر اردو سیل کا قیام، کارکردگی کی سالانہ جانچ،عوامی آگاہی مہم کہ اردو میں بھی درخواست دی جا سکتی۔مختصر یہ کہ بہار میں اردو کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مترجمین اور معاونین کی بڑی تعداد میں تقرری ایک تاریخی موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر اس موقع سے صحیح فائدہ اٹھایا گیا تواردو کا دفتری وقار بحال ہوگا،شہریوں کو لسانی انصاف ملے گا،تعلیمی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے،ریاستی انتظامیہ زیادہ شمولیت بنے گی۔یہ اقدام محض تقرریوں کا اعلان نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے کہ بہار اپنی کثیر لسانی شناخت کو عزت اور وقار کے ساتھ آگے بڑھائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فیصلے کو سنجیدگی، شفافیت اور مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا جائے تاکہ اردو کی سرکاری حیثیت کاغذی دعویٰ نہیں بلکہ عملی حقیقت بن سکے۔اس نئے عہدے کی حکومت سے منظوری دلانے میں اردو ڈائرکٹوریٹ کا اہم کردار رہاہے اور بالخصوص موجودہ ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے جو مستعدی اور اردو نوازی کا ثبوت دیاہے اس کیلئے وہ قابلِ مبارکباد ہیں کہ انہوں نے اردو آبادی کیلئے اتنی تعداد میں روزگار کے مواقع فراہم کرائے ہیں ۔ظاہر ہے کہ کسی بھی زبان کی ترقی کیلئے اس کا روزگار سے جڑنا بھی ضروری ہے۔ اس لئے مترجم ، نائب مترجم اور معاون کی تقرری کا راستہ ہموار ہونا ریاست میں اردو زبان کی تعلیم کے تئیں ایک نئی بیداری کا بھی سبب ہوگا کہ اردو طلبہ کو اردو کی وجہ سے روزگار مل رہاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK