Updated: March 05, 2026, 12:59 PM IST
| Moscow
روس امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو روکنے کے لیے ثالثی کے لیے تیار ہے۔ ویانا میں قائم بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو روس ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔
ایران جنگ۔ تصویر:پی ٹی آئی
روس امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو روکنے کے لیے ثالثی کے لیے تیار ہے۔ ویانا میں قائم بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو روس ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے روسی اخبار ازویسٹیا کو بتایاکہ ’’یقیناً روس ضرورت پڑنے پر ثالثی کے لیے تیار ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ فی الوقت امریکہ ایران مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا مشکل نظر آرہا ہے لیکن فوجی طاقت کے ذریعے دونوں فریقوں کے بنیادی مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔
اولیانوف کے مطابق ایران روسی ثالثی کا خیر مقدم کرے گا۔ روسی سفارت کار نے کہا کہ امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ اسے ثالثی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ خود ہی صورتحال کو سنبھال سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’امریکی دراصل اس کو بہت خراب طریقے سے ہینڈل کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:دنیا کے۱۶۰؍ ممالک میں ایک لاکھ سے زیادہ امریکی فوجی تعینات
قطر، دوحہ میں امریکی سفارت خانے کے قریب رہنے والے لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کر رہا ہے
قطر نے احتیاطی اقدام کے طور پر دوحہ میں امریکی سفارت خانے کے قریب رہنے والے لوگوں کو عارضی طور پردوسرے مقام پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ قطری وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہاکہ ’’انہیں ضروری امدادی اقدامات کے تحت مناسب رہائش فراہم کی گئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں۴؍ کروڑ سے زیادہ بچے موٹاپے کا شکار، ملک دنیا میں دوسرے نمبر پر
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد رواں ہفتے سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارت خانوں پر کئی ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مشرق وسطیٰ سے نکل جائیں۔ امریکی حکومت متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اردن میں اپنے شہریوں کے لیے چارٹر پروازوں کا انتظام کر رہی ہے۔ دوسری جگہوں پر پھنسے ہوئے لوگوں کو کمرشیل پروازوں کے ٹکٹ بک کرنے میں مدد کرنے کے کی کوشش کررہی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ۲۸؍ فروری سے اب تک تقریباً۱۷۵۰۰؍ امریکی شہری مغربی ایشیا سے واپس آ چکے ہیں۔