Inquilab Logo Happiest Places to Work

جذبۂ مزاحمت بن کے زندہ ہیں آیت اللہ خامنہ ای

Updated: March 20, 2026, 3:09 PM IST | shamim Tariq | mumbai

مولانا خمینی یمنی نے جس انداز سے سامراج مخالف ہونے کا تیور دکھایا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہی تیور محمود احمدی نژاد سے ہوتا ہوا خامنہ ای تک منتقل ہوا تو دُنیا حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔

INN
آئی این این
عالم اسلام میں  جو سامراج مخالف شخصیتیں  تھیں  ان میں  جمال عبدالناصر، شاہ فیصل اور صدام حسین بہت اہم ہیں ، اگرچہ فکر و طبیعت کے اعتبار سے یہ شخصیات ایک دوسرے سے مختلف تھیں  اور تینوں  نے دُنیا کی بڑی طاقتوں  کو للکارا اور پھر اس للکار کی قیمت بھی چکائی لیکن ۱۹۷۹ء میں  برسراقتدار آنے کے بعد مولانا خمینی یمنی نے جس انداز سے سامراج مخالف ہونے کا تیور دکھایا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہی تیور محمود احمدی نژاد سے ہوتا ہوا خامنہ ای تک منتقل ہوا تو دُنیا حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔ مگر اس دوران سوشل میڈیا پر خامنہ ای کو جن لفظوں  میں  اور جس انداز سے پکارا جاتا رہا وہ سوہان روح بنا رہا۔ ایسا کرنے والوں  میں  ان کے ہم مسلک سمجھے جانے والے بھی ہیں  مثلاً ان کیخلاف مخبری کرنے والوں  میں  ایرانی فوج کا جنرل بھی پکڑا گیا ہے اور گالی دینے والوں  میں  حسن اللہ یاری جیسے بھی ہیں ۔ دوسری طرف ایک طبقے نے خامنہ ای کو ایک خاص مسلک اور طبقے کا لیڈر ثابت کرکے ان کی شخصیت اور حیثیت کو محدود کرنے کی کوشش کی حالانکہ وہ بیک وقت ایک خاص مسلک کے ماننے والوں ، دنیا کے مظلوموں  اور ظلم و ناانصافی کیخلاف مزاحمت کرنے والوں  کے عظیم لیڈر تھے۔ میں  تو سمجھتا ہوں  کہ جذبۂ مزاحمت بن کر ہمیشہ زندہ رہیں  گے آیت اللہ خامنہ ای۔ کالم نگار کو دکھ ہے تو یہ کہ ہر سامراج مخالف شخصیت کی راہ روکی انہوں  نے جنہیں  دوغلے اور غدار کے علاوہ کچھ کہا ہی نہیں  جاسکتا مگر ملت نے ان غداروں  کو اس وقت پہچانا جب پانی بہت اونچا ہوچکا تھا۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ میں  ہتھیاروں  نے جو کردار ادا کیا سو تو کیا ہی، افواہوں  اور اڑائی گئی جھوٹی خبروں  نے بھی بڑی تباہی مچائی مثلاً ایک صاحب ایران کی اس عمارت پر جہاں  خامنہ ای جاں  بحق ہوئے بمباری کی تفصیل یوں  بیان کر رہے تھے جیسے آنکھوں  دیکھا حال بیان کر رہے ہوں ۔ اسی دوران انہوں  نے ایک خاص ملک کے نائب حکمراں  کا نام لے کر کہا کہ ان کے بار بار اصرار کرنے پر امریکہ نے حملہ کیا ورنہ وہ حملہ کرنے کیلئے راضی نہیں  تھا۔ یہ خبر ان تک کیسے پہنچی؟ انہوں  نے یہ بات تو نہیں  بتائی البتہ دو ملکوں  بلکہ دو ملکوں  کے درمیان نفرت کے بیج بونے کی کوشش کی۔ اس بے سر پیر کی بات کے مقابلے انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ میں  شائع ہونے والے ہندوستان میں  اسرائیلی سفیر کے جو پورے جنوبی ایشیاء کیلئے سفیر ہیں  انٹرویو کو پیش کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم کے اسرائیلی دورہ سے واپس آنے کے بعد ہی امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا۔ یہاں  کے اندھ بھکتوں  سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ جب حقیقت یہ ہے تو تھوڑے سے فائدے کیلئے ظالم کیلئے مخبری کرنے کا مقصد؟ یہ روش کیا انہیں  جنت میں  لے جائے گی؟ یہ بھی قابل افسوس ہے کہ حملے کے ابتدائی دنوں  میں  ایران میں  ہوئے اظہار خوشی کو بعض لوگوں  نے مسلک سے جوڑا ہے۔ یہ صحیح نہیں  ہے۔ بعض لوگوں  کو یہ شکایت ضرور ہے کہ ایران خلیج عرب کے ملکوں  کو نشانہ بنا رہا ہے مگر یہ شکایت اس لئے درست نہیں  ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے علاوہ ایران، خلیج کے امریکی فوجی اڈوں  پر بھی حملے کر رہا ہے اور اس کا یہ کرنا شاید یہ جتانے کیلئے ہے کہ اگر تم نے سمجھ رکھا ہے کہ امریکہ تمہیں  مرنے نہیں  دے گا تو سمجھ لو ہم تمہیں  جینے نہیں  دیں  گے۔
ایرانی حملے امریکہ، اسرائیل اور ان کے فوجی اڈوں  پر کئے جا رہے ہیں  کسی خاص ملک پر نہیں ۔ جھوٹی خبروں  نے اسی دوران یہ بھی کیا کہ ایرانی رہنما کے روحانی جانشین کے فوت ہونے کی خبریں  بھی پھیلا دیں  حالانکہ تب تک یہ فیصلہ بھی نہیں  ہوا تھا کہ ایران کا روحانی یا مذہبی رہنما کون ہوگا۔ ٹرمپ کا یہ بیان بعد میں  آیا کہ ایران کے روحانی قائد کے طور پر آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے کا نام ان کو منظور نہیں  ہے۔ میری اطلاع ہے کہ اگر ٹرمپ ایسا بیان نہ دیتے تو شاید مجتبیٰ خامنہ ای صاحب کا انتخاب نہ ہوتا۔ یہاں  کھل کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایران تو امریکہ کی منشاء کے خلاف کام کر ہی رہا ہے بشمول سعودی عرب خلیجی ممالک بھی امریکی مفاد و منشاء کے خلاف سرگرم ہیں ۔ مثال یہ ہے کہ امریکہ چاہتا تھا کہ خلیجی ممالک ایران پر حملہ کریں ، کرد خلیجی ملکوں  میں  مزاحمت شروع کریں  اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ کریں  مگر سب نے امریکی منشاء کو پورا نہیں  ہونے دیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ امریکہ کے سنیٹر اور بعض سیاستداں  سعودی عرب پر بھڑک اٹھے ہیں  اور سعودی میں  امریکہ اپنا سفارتخانہ بند کروا رہا ہے۔ ایران نے اپنی فوجی طاقت کا جس طرح مظاہرہ کیا ہے اس نے بھی دنیا کو حیرت میں  ڈال دیا ہے۔ امریکہ و اسرائیل ایران پر اور ایران ان دونوں  ملکوں  پر حملے کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی سراغ لگا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل خلیج کے ملکوں ، ان کے اڈوں  اور پیٹرولیم کے ذخیروں  پر اس طرح حملے کر رہے ہیں  کہ الزام ایران پر آئے۔ یہ ان کی حکمت عملی ہے۔ ادھر ایران نے خلیج کے کچھ ملکوں  سے معافی مانگی ہے۔ یہ اس کی حکمت عملی ہے۔ امریکہ اس حکمت عملی کو ایران کی کمزوری سمجھ رہا ہے۔ یہ اس کی غلط فہمی ہی نہیں  کمزوری بھی ہے۔ اصل میں  امریکہ سمجھے ہوا تھا کہ چند گھنٹوں  میں  جنگ ختم ہوجائے گی۔ مگر پہلی ناکامی تو اس کو اس وقت ہوئی جب اس کے تمام حلیف حملے میں  شریک نہیں  ہوئے اور ایران نے خلیج میں  اس کے فوجی اڈوں  کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کو اس وقت بھی جھٹکا لگا جب ان کے حملوں  اور خامنہ ای کی موت کے بعد بھی ایران میں  حکومت نہیں  بدلی۔ الٹے اسرائیل کے شہریوں  کی نیند حرام ہوگئی اور ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار کے خلاف امریکہ میں  ہی مظاہرے شروع ہوگئے۔
امریکہ نے دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ایران کمزور ہوچکا ہے اس لئے صلح اور جنگ بندی کی باتیں  کر رہا ہے مگر ایران جو پہلے ہی اعلان کرچکا تھا کہ جنگ انہوں  نے شروع کی تھی مگر جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا، اس نے جنگ بندی کے لئے ایسی شرائط رکھ دی ہیں  کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے حلیفوں  کے یا ان کے اشاروں  پر کام کرنے والوں  کے ہوش ٹھکانے لگ گئے ہیں ۔ شرائط سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کو یقین ہے کہ جنگ میں  اس کو بالادستی حاصل ہے۔ یوں  بھی ان کی نظر میں  ہے کہ ایران کے مسلسل حملوں  نے تل ابیب کو تباہ کر دیا ہے۔ 
یہاں  ان لوگوں  کے رویے کی مذمت ضروری ہے جو امریکہ کی فتح کی تمنا میں  اپنے ملک کے ظالم حکمرانوں  کو ہموار کرنے بلکہ ملت کیخلاف اکسانے میں  لگے ہوئے ہیں ۔ خدا انہیں  اسی حشر سے دو چار کرے جو ہر زمانے کے غداروں  کا مقدر ہے۔
iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK