Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران پر حملے کیلئے امریکہ و اسرائیل کو اپنی زمین دینے ولاے ممالک سے مطاوضے کا مطالبہ

Updated: March 19, 2026, 10:38 PM IST | Tehran

ایران نے متحدہ عرب امارات اور بحرین سے امریکہ و اسرائیل کو ایران پر حملے کیلئے اپنی سرزمین دینے پر معاوضہ کا مطالبہ کیا ہے، ایران کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک کی سرزمین کو فوجی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

Photo: INN
تصویر: ایکس

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے جمعرات کو بحرین اور متحدہ عرب امارات سے معاوضے کا مطالبہ کیا، الزام لگایا کہ ان کی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا۔نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکرٹریٹ اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے بحرین اور متحدہ عرب امارات کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں میں استعمال کرنے کا ذکر کیا۔رپورٹ کے مطابق خط میں کہا گیا کہ دوسرے ممالک کی سرزمین کو فوجی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا ’’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بوشہر جوہری پلانٹ اور قطر گیس مرکز پر نشانہ، ٹرمپ نے مزید حملوں کی مخالفت کی

ایجنسی نے مزید کہا کہ ،’’بحرین کے حکام کو اس معاملے کے بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا،اور یہ معاملہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں درج ہے۔‘‘ایروانی نے خط میں کہا کہ امریکہ اسرائیل کے حملوں نے ایران میں شہریوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا اور یہ کہ اس طرح کی کارروائیاں ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اور باہمی احترام کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ بحرین اور یو اے ای ’’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں‘‘کی بین الاقوامی ذمہ داری قبول کریں اور ایران کو تمام مالی اور اخلاقی نقصانات کا معاوضہ ادا کریں۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب کا انتباہ، عرب ممالک کا مطالبہ: ایران فوری حملے بند کرے

تاہم ایران کے اس مطالبے پر بحرین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔بعد ازاں اس سے قبل ایران دعویٰ کر چکا ہے کہ امریکہ نے بحرین اور متحدہ عرب امارات کےفوجی اڈوں سے میزائل حملے کیے تھے۔
واضح رہے کہعلاقائی کشیدگی اس وقت سے بھڑک رہی ہے جب۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں اب تک تقریباً۱۳۰۰؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔جبکہ ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرنے والے خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں سے جوابی کارروائی کی ہے، جس سے ہلاکتیں ہوئیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، اس کے نتیجے میںعالمی منڈیوں اور ہوا بازی میں خلل پڑا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK