Inquilab Logo Happiest Places to Work

دُنیا کے سب سے بڑے ایل این جی پلانٹ پر ایران کا حملہ

Updated: March 20, 2026, 1:26 AM IST | Tehran

ایران کے سب سے بڑے گیس ذخیرے ’جنوبی پارس گیس فیلڈ‘ پر اسرائیل کےحملے کے بعد تہران کی ناقابل یقین جوابی کارروائی سے پوری دنیا دہل گئی ،قطر کا گیس پلانٹ دنیا بھر میں گیس سپلائی کرتا ہے

Smoke can be seen rising from a gas field in the Ras Laffan industrial area of ​​Qatar.
قطر کے راس لفان صنعتی علاقے میں واقع گیس فیلڈ سے اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جاسکتا ہے

 ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کےحملوں کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ شب دیر رات اسرائیلی فوج نے ایران کی سب سے بڑی ساحلی جنوبی پارس فیلڈ میں گیس تنصیبات پر حملہ کیا تھا اس کے بعد حالات انتہائی دھماکہ خیز ہو گئے ہیں کیوں کہ ایران نے پورے خلیجی خطے میں موجود تیل و گیس کی مختلف تنصیبات کو جم کر نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا جوابی حملہ اس قدر زوردار اور شدید ہے کہ اب اس کی وجہ سے پوری دنیا کےاس سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ایران پر اسرائیل کے تازہ حملے کے بعد۲۵؍ ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ساؤتھ پارس فیلڈ ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے ۔ایران نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور ریفائنری پر حملے کا فی الفور جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے خطے کی ان تمام تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیر انتظام چلائی جارہی ہیں۔
 اسی سلسلے میں ایران نے قطر کی راس لفان گیس فیلڈ پر حملہ کردیا ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پلانٹ ہے اور یہاں سے دنیا بھر کیلئے گیس سپلائی ہوتی ہے۔ اس حملے سے پوری دنیا ششدر رہ گئی ہے کیوں کہ اب کئی ممالک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسکے علاوہ ایران نے   سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جُبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا۔ متحدہ عرب امارات کی الحصن گیس فیلڈ اور قطر کے مسيعيد پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانے پر لیا۔قطر کے راس الفان صنعتی شہر پر حملے کے بعد تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی اورشدید نقصان پہنچا۔ راس لفان پر حملے کے بعد ایل این جی سپلائی متاثرہونے کاخدشہ ہے۔ اندازہ ہے کہ اس حملے کے بعد اس یونٹ کو دوبارہ پوری طرح فعال ہونے میں ۲؍ سے ۵؍ سال لگ سکتے ہیں۔ جوابی کارروائی کے بارے میںایران کے صدر مسعودپزشکیان کاکہناہےکہ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے صرف پیچیدگیاں پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ دنیاکے  لئے صورتحال قابو سے باہر ہو جائےگی کیوں کہ ہم اس کا اتنا بھرپور جواب دیں گے کہ جس کی توقع نہ امریکہ کو ہو گی اور نہ اس کے حواری اسرائیل کو۔ 
  دریں اثناء قطر نے ایران کی توانائی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قراردیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی جنوبی پارس فیلڈ سے منسلک توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو قطر کے نارتھ فیلڈ کی توسیع ہے۔ اپنے بیان میں قطری وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی توانائی کے تحفظ کیلئے خطرہ ہے۔متحدہ عرب امارات نے بھی ایران اور قطر کی مشترکہ پارس گیس فیلڈ پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا۔اس نے  کہاکہ ایران میں واقع پارس جنوبی فیلڈ قطر کے شمالی میدان سے منسلک ہے ۔اسرائیل کا اس فیلڈ کو نشانے بنانا عالمی توانائی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔  
  اسرائیل کی جارحیت اور اس کے جواب میں ایران کے حملےکے بعد خلیجی ممالک میں صورتحال کشیدہ ہے۔ جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے وہیں قطر نے حملوں کے بعد ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK