Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہماری خارجہ پالیسی کا المیہ، یہ پالیسی ہی نہیں ہے!

Updated: March 15, 2026, 1:55 PM IST | Aakar Patel | mumbai

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی موضوع بحث اور ہدف تنقید بنی ہوئی ہے۔ کیا یہ تنقید درست ہے؟ اس مضمون میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

INN
آئی این این
۴؍ نومبر ۲۰۱۳ء کو اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے ہندوستانی سفارتی عملوں  کے ۱۲۰؍ سے زائد سربراہان سے خطاب کیا اور ہندوستانی خارجہ پالیسی کے پانچ اہم نکات پر روشنی ڈالی تھی:
(۱) یہ اعتراف کیا جانا ضروری ہے کہ دُنیا کی بڑی طاقتوں  اور ایشیا کے پڑوسی ملکوں  سے تعلقات کی تشکیل ترقیاتی ترجیحات کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد ایسا عالمی ماحول تیار کرنا ہے جو ہمارے عظیم ملک کیلئے نافع ہو۔ (۲) عالمی معیشت سے ہمارا زیادہ سے زیادہ تعامل اور ارتباط ملک کو فائدہ پہنچائے گا اور ہندوستانی شہریوں  کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں  کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کریگا۔ (۳) دُنیا کی تمام بڑی طاقتوں  کے ساتھ مضبوط، طویل مدتی اور باہمی فائدہ پر مبنی تعلقات ہمارا ہدف ہونا چاہئے۔ ہمیں  بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا  چاہئے تاکہ دُنیا میں  ایسی معاشی و حفاظتی فضا قائم ہو جو تمام ملکوں  کیلئے فائدہ مند ہو۔ (۴) ہمیں  یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ برصغیر کی مشترکہ تقدیر مؤثر علاقائی تعاون اور تعامل میں  مضمر ہے۔ (۵) ایک ایسی فارین پالیسی جو مفادات ہی پر مبنی نہ ہو بلکہ اس میں  وہ قدریں  بھی شامل ہوں  جو ہندوستان کو ہمیشہ سے عزیز رہی ہیں ۔ منموہن سنگھ کا جملہ تھا: ’’کثیر جہتی، سیکولر اور لچکدار جمہوریت کے ہندوستانی تجربے نے ایک عالم کو متاثر کیا ہے۔ ہمیں  اس تجربہ کو جاری رکھنا چاہئے۔‘‘
اس سے صاف ظاہر تھاکہ منموہن حکومت کی خارجہ پالیسی واضح تھی اور یہ واضح تھا کہ ہم اس کے ذریعہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ہمارا ملک اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعہ معاشی ترقی کو مہمیز کرنا چاہتا تھا، اس کی خواہش تھی کہ عالمی طاقتوں  اور پڑوسیوں  سے اس کے تعلقات دوستانہ ہوں  اور ہم ان اہداف کو اپنی کثیر جہتی اور سیکولر جمہوریت کو قائم رکھتے ہوئے حاصل کریں ۔ 
اس کے مقابلے میں ، مَیں  موجودہ حکومت کی خاجہ پالیسی کے اُصولوں  سے بحث نہیں  کرنا چاہوں  گا کیونکہ موجودہ خارجہ پالیسی کے سامنے کوئی ہدف نہیں  ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی رہ ہی نہیں  گئی ہے۔یہ کوئی سرسری تبصرہ نہیں  ہے بلکہ مَیں  نے اپنی کتاب میں  اس پر پورا ایک باب لکھا ہے کہ ایسا کیوں  ہوا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں  ہونی چاہئے کہ ہمارے وزیر خارجہ یہ تسلیم کرتے ہیں  کہ متعلقہ پالیسی کا کوئی اُصول نہیں  ہے۔ وہ کہہ چکے ہیں  کہ اُصولوں  کی کمی ہی ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ 
وزیر خارجہ (ایس جے شنکر) اپنے مضامین اور تقاریر پر مبنی کتاب میں  اس کی وضاحت بھی کرچکے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہندوستان ایک کثیر قطبی ایشیاء کا خواہشمند ہے جس کا معنی ایسا ایشیاء ہے جس میں  ہندوستان اور چین کو مساوی اہمیت حاصل ہو۔ اُنہوں  نے یہ بات کہہ تو دی مگر یہ نہیں  بتایا کہ ایسا ہونا کس طرح ممکن ہے۔ کیا ان کا مطمح نظر یہ ہے کہ چونکہ ہم ایسا چاہ رہے ہیں  اس لئے ایسا ہونا ممکن ہے؟ کتاب میں  اُن کے اس نظریہ سے بھی آشنائی ہوتی ہے کہ ’’ہمیں  بہت سی گیندیں  فضا میں  اُچھالے رکھنی چاہئیں  (جے شنکر کو اسٹاک مارکیٹ کے محاوروں  کا استعمال بہت اچھا لگتا ہے) جن کے ساتھ ہندوستان پوری مہارت سے کھیل سکتا ہے۔ یہ نظریہ موقع پرستی کا مظہر ہے مگر اس پر تبصرہ نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ ہندوستان کو موقع پرستی ہی عزیز ہے۔ کتاب میں  ایس جے شنکر نے لکھا ہے کہ مہابھارت سے ہمیں  یہ سبق ملتا ہے کہ دھوکہ دہی اور اخلاق سے عاری طریق کار کا معنی کھیل میں  اُصولوں  کی پاسداری نہ کرنے کے سوا کچھ نہیں  ہے۔ دروناچاریہ کے ذریعہ اکلویہ کا انگوٹھا مانگنا، کرن کے اسلحہ کی اندرا کے ذریعہ تعریف و ستائش، ارجن کا انسانی ڈھال کے طور پر شکھنڈی کو استعمال کرنا کیا ہے؟  خارجہ پالیسی میں  غیر مستقل مزاجی ٹھیک ہی نہیں  بلکہ مطلوب بھی ہے کیونکہ بدلتے حالات میں  مستقل مزاجی کی دھن سوار رکھنادانشمندی نہیں ۔ 
مذکورہ تحریر کے خالق کو آپ ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتے ہیں  جو کسی غیر ضروری یا کم ضروری بات کو اس طرح بیان کرتا ہے جیسے وہ بہت اہم ہو۔ اگر یہ کوئی نظریہ اور فلسفہ (ڈاکٹرین) ہے تو اس کو کیا نام دیا جائے؟ اپنی ایک تقریر میں  اُنہوں  نے موقع پرستی اور غیر مستقل مزاجی کے اس نظریہ کی وضاحت کی تھی اور کہا تھا کہ اس کو کوئی نام دینا مشکل ہے۔ وہ ایک اصطلاح  ملٹی الائنمنٹ (کثیر رابطے) کو یہ کہتے ہوئے مسترد کرتے ہیں  کہ اس سے ’’بڑی موقع پرستی‘‘جھلکتی ہے۔ اُن کے مطابق ’’انڈیا فرسٹ‘‘ کہنا خود پسندی کی علامت ہے۔ ایسی اصطلاحات کو مسترد کرکے وہ جس اصطلاح کا سہارا لیتے ہیں  وہ ہے ’’خوشحالی اور اثر پزیری کو بڑھانا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے کہ یہ اصطلاح جامع ہے بھلے ہی پُرکشش نہ ہو، وہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں  کہ ’’وقت کے ساتھ یہ رائج ہوجائیگی مگر مشکل یہ ہے کہ ہم اب بھی کسی بڑی تبدیلی کے ابتدائی مرحلے میں  ہیں ۔
 
 
ایس جے شنکر کی یہ کتاب کچھ عرصہ قبل شائع ہوئی تھی جب یہ حکومت اپنے اقتدار کے دوسرے دور میں  تھی۔ تب سے لے کر اب تک دُنیا کافی بدل گئی ہے اور عالمی حالات غیر یقینی ہوگئے ہیں ۔ اتنا غیر یقینی کہ کوئی بات یقین کے ساتھ نہیں  کہی جاسکتی۔اس کے ساتھ ہی یہ دُنیا پہلے سے زیادہ خطرناک بھی ہوگئی ہے خاص طور پر اُن ملکوں  کے لئے جو دیگر ملکوں  پر انحصار کرتے ہیں  جیسے ہمارا ملک جو ایندھن اور ملازمتوں  کے لئے خلیجی ملکوں  پر منحصر ہے۔ 
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ جنگ شروع کرنے کی کوئی وجہ نہیں  بتائی۔ یہ بھی نہیں  بتایا کہ وہ اس جنگ کے ذریعہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ صحافیوں  سے اپنی ملاقاتوں  میں  امریکہ کی وزارت دفاع بالکل ہی نااہل معلوم پڑتی ہے۔ کوئی نہیں  جانتا کہ جنگ کیسے ختم ہوگی کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے میں  اُس کا کلیدی کردار ہوگا۔جنگ کے اس ماحول میں  ہمارے ملک کا کردار بھی قطعی غیر واضح ہے۔ ہم قیام امن کی یا اُصولوں  پر مبنی سیاسی نظام کی وکالت کیو ں کریں  گے جب ہمارے وزیر خارجہ موقع پرستی کو اہم قرار دیتے ہیں ؟ یہ بڑی افسوسناک صورت حال ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK