Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ کی وطن واپسی پرخوفزدہ ہونے والوں کی ویزا درخواست رد کرنے کی ہدایت

Updated: April 30, 2026, 4:01 PM IST | Washington

ٹرمپ انتظامیہ نے وطن لوٹنے میں خوف محسوس کرنے والوں کی ویزا درخواست رد کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، عارضی ویزا کے خواہشمند تمام درخواست دہندگان کو قونصلر افسر کو بتانا ہوگا کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ اپنے ملک واپس جانے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ نے منگل کو ویزا اسکریننگ کے نئے اور سخت قوانین جاری کیے، جن کے تحت مظلوم یا ستائے گئے  افراد کو امریکی سفری دستاویزات حاصل کرنے سے روکا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، عارضی ویزا کے خواہشمند تمام درخواست دہندگان کو قونصلر افسر کو بتانا ہوگا کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ اپنے ملک واپس جانے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ’’ہاں‘‘ کا جواب دینے یا جواب دینے سے انکار کرنے پر ویزا مسترد ہونے کا امکان بہت بڑھ جائے گا۔واضح رہے کہ یہ ہدایت نامہ مارکو روبیو کے اختیار میں جاری کیا گیا، جس میں قونصلر افسران پر غیر امیگرنٹ ویزا کے تمام درخواست دہندگان سے دو سوالات پوچھنے کی پابندی عائد کی گئی ہے، ایک کیا آپ کو اپنے ملک یا مستقل رہائش میں نقصان یا زیادتی کا سامنا ہوا ہے؟ دوم یہ کہ کیا آپ اپنے ملک واپسی پر نقصان یا زیادتی سے خوفزدہ ہیں؟ تاہم درخواست دہندگان کو لازمی طور پر زبانی طور پر دونوں سوالوں کا ’’نہیں‘‘ میں جواب دینا ہوگا۔ جبکہ ہاں‘‘ کہنے یا جواب سے انکار کرنے پر ویزا یقینی طور پر مسترد کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۵۰؍ واں یوم آزادی، امریکہ ٹرمپ کی تصویر والے محدود پاسپورٹ بنارہا ہے

بعد ازاں ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی درخواست دہندہ اپنے وطن واپسی سے خوف ظاہر کرتا ہے، تو اس سے اس کے سفر کے مقصد پر شک پیدا ہوتا ہے اور ممکنہ ترک وطن کے  ارادے کی نشاندہی ہوتی ہے۔یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے پناہ کے دعووں کو دراندازی قرار دینے کو غیر قانونی کہا تھا۔دریں اثنا، ہدایت میں دعوی کیا گیا ہے کہ نیا طریقہ ویزہ کے عمل کے دوران لوگوں کو غلط بیانی سے روکنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنے والے غیر ملکیوں کی زیادہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہت سے غیر ملکی ویزا درخواست کے عمل اور داخلے کی امریکی بندرگاہوں پر قونصلر افسروں کے سامنے اس ارادے کو غلط طور پر بیان کرتے ہیں، اور موجودہ رہنمائی کے تحت ویزا درخواست دہندگان سے جمع کی گئی معلومات ان درخواست دہندگان کی شناخت کے لیے ناکافی ہے جنہیں وطن واپسی میں نقصان یا بدسلوکی کا خدشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK