Inquilab Logo Happiest Places to Work

اِک’’فسانہ‘‘ تھا الٰہ آباد کا

Updated: May 04, 2026, 1:54 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

’’فسانہ‘‘کے مدیر بلونت سنگھ ہیں اور نائب مدیر ولی شاہ جہاں پوری ہیں۔جولائی ۱۹۴۸ءسے صدیقہ بیگم اور محمود احمد ہنر، نے ادارت کی ذمہ داری سنبھالی اور ان دونوں کے نام کے ساتھ لفظ ادارہ لکھا ہوا ہے۔جو شمارے بلونت سنگھ اور ولی شاہ جہاں پوری کی ادارت میں شائع ہوئے ہیں،ان کا اداریہ ولی شاہ جہاں پوری نے قلم بند کیا ہے۔

INN
آئی این این
’’فسانہ‘‘کے چند شمارے میرے پیشِ نظر ہیں ۔انہیں  دیکھتے ہوئے کئی برس ہو گئے۔مظہر امام صاحب نے چند دوسرے قدیم رسالوں  کے ساتھ فسانہ کے یہ شمارے بھی عنایت کئے تھے۔ اکتوبر۱۹۴۷ء یکم جنوری ۱۹۴۸ء، فروری ۱۹۴۸ء ، اپریل ۱۹۴۸ء مئی ۱۹۴۸ء، جولائی ۱۹۴۸ء۔یہ ۶؍ شمارے تاریخی اور ادبی اعتبار سے دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اگر شماروں  کی تاریخوں  پر نظر ڈالی جائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ شمارے اس وقت کی سیاسی،سماجی اور تہذیبی صورتحال کے سیاق میں  کتنےاہم ہیں ۔’’فسانہ‘‘ کا پہلا شمارہ نہیں  مل سکا۔دوسرا شمارہ (اکتوبر ۱۹۴۸ء میں  منظر عام پر آیا ۔گمان یہ ہے کہ پہلا شمارہ اگست یا ستمبر میں  شائع ہوا ہوگا۔’’فسانہ‘‘کے مدیر بلونت سنگھ ہیں  اور نائب مدیر ولی شاہ جہاں  پوری ہیں ۔جولائی ۱۹۴۸ء سے صدیقہ بیگم اور محمود احمد ہنرنے ادارت کی ذمہ داری سنبھالی اور ان دونوں  کے نام کے ساتھ لفظ ادارہ لکھا ہوا ہے۔جو شمارے بلونت سنگھ اور ولی شاہ جہاں  پوری کی ادارت میں  شائع ہوئے ہیں ،ان کا اداریہ ولی شاہ جہاں  پوری لکھا کرتے تھے۔ آزادی اور تقسیم کے سانحے کے سیاق میں  ’’فسانہ‘‘ کی اشاعت صرف ادبی ضرورت نہیں  رہ جاتی۔’’فسانہ‘‘لفظ خود ہی بہت پرکشش ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسالے کا مزاج افسانوی رہا ہوگا۔ فسانہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس وقت کے اہم ترین افسانہ نگاروں  نے ’’میں  اور میرے افسانے‘‘کے عنوان سے مضامین قلم بند کئے ۔ ان میں  ممتاز شیریں  ،قرۃ العین حیدر،علی عباس حسینی،صدیقہ بیگم اورسہیل عظیم آبادی کے نام شامل ہیں ۔’’میں  اور میرے افسانے‘‘کے ساتھ ساتھ ایک اور افسانہ بھی شامل ہے، جس کی پیشانی پر ۱۰؍ یا ۱۵؍ منٹ کا وقت درج ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان دنوں  افسانہ یا فسانہ کے تعلق سے وقت کی کیا اہمیت تھی۔ گویا کوئی افسانہ ۱۰؍ سے ۱۵؍منٹ کے اندر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اداریہ، افسانے، خاکہ، شراب کہنہ، اعتراف، جائزہ، یہ چند عنوانات ہیں  جن کے تحت فسانہ میں  تحریریں  شائع ہوا کرتی تھیں ۔
 
 
فسانہ کا دوسرا شمارہ جو اکتوبر ۱۹۴۷ء میں  شائع ہوا تھا،اس کا اداریہ آزادی اور تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی انسانی زندگی کی پامالی کابیان صرف بیان ہی نہیں  بلکہ بے بسی کا اظہار بھی ہے۔مذہب کے نام پر انسان کتنا بے درد ہو سکتا ہے کہ اسے یہ خیال ہی نہ رہے کہ وہ کس تنگ نظری کے ساتھ نہ صرف جی رہا ہے بلکہ انسانیت کو شرمندہ بھی کر رہا ہے۔مذہب کے نام پر یہ سفاکی اور بربریت نہ صرف صحافت کا موضوع ہے بلکہ ادب بھی اس کے بغیر اس زمانے کا ادب نہیں  کہلا سکتا۔اس وقت کے اخبارات کی پیشانیاں  بے گناہ انسانوں  کے خون سے رنگین ہیں  ،کچھ چھینٹے فسانہ کے اوراق میں  بھی دیکھے اور محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔گو کہ’’فسانہ‘‘کےصفحات کچھ پیلے اور میلے ہو گئے ہیں  مگر ان میں  کہیں  کہیں  وہ روشنی بھی ہے جو انسانیت پر ہمارے یقین کو نہ صرف بحال کرتی ہے بلکہ استحکام بھی بخشتی ہے۔اکتوبر ۱۹۴۷ء کا اداریہ کچھ یوں  شروع ہوتا ہے۔’’فسانہ کا دوسرا شمارہ پیش کرتے ہوئے ہم اس مسرت کا اظہار کئے بغیر نہیں  رہ سکتے جن کا موقع ان بے شمار خطوط نے دیا جو ہماری پہلی پیشکش کے متعلق موصول ہوئے۔ادب نواز حضرات نے جن الفاظ میں  ہماری کوششوں  کو سراہاہے اور ہماری کاوشوں  کی داد دی ان سے یقینا ًہماری حوصلہ افزائی ہوئی اور ہمارے عزائم بلند سے بلند تر ہو گئے۔‘‘ مدیر نے فسانہ نواز ارباب علم،اور شائقین فسانہ،جیسے الفاظ کے ذریعے ایک حسن پیدا کرنے کی کوشش بھی کی تھی مگر اس کے بعد مدیر کا قلم جس موضوع کی طرف سفر کرتا ہے وہ بہت ہی حوصلہ شکن ہے۔ اداریہ کے الفاظ ملاحظہ کیجئے:’’ہمارا بد نصیب ملک جو حیوانی نظارے پیش کر رہا ہے اس سے کم و بیش ہر صاحب دل متاثر ہے۔ایک جگہ ہندو مسلمان کے گلے پرچھری پھیر رہا ہے تو دوسری جگہ مسلمان ہندو کی گردن کاٹ رہا ہے۔کہیں  دکانیں  لوٹی جا رہی ہیں  تو کسی جگہ گھروں  کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔یہاں  رعایا راعی کو گدی سے اتارنے کی فکر میں  ہے تو وہاں  راجہ پرجا پر گولیوں  کی بوچھار کر رہا ہے۔غرض کہ  ہر طرف ایک قیامت کا سماں  ہے۔اگر ہندوستان اور پاکستان میں  ہندو مسلم اورسکھ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں  تو ریاستوں  میں  دوسری قسم کی شورش برپا ہے۔ان حالات میں  کس کے ہوش بجا رہتے ہیں ؟ لیکن عزم و استقلال کے آگے سب ہیچ ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے تقاضوں  سے ممتاز شیریں  صاحبہ فسانہ نوازی سے اس وقت بھی باز نہ رہ سکیں  جبکہ بنگلور میں  کرفیو،ہڑتالیں ، لاٹھی چارج اور گولیوں  کی بوچھار سے سارا شہر پریشان تھا اور رسل و رسائل کے ذرائع منقطع سے ہو گئے تھے۔ محمد یونس احمر بھی کلکتہ کی اسی مسموم فضا میں  گھرے ہوئے تھے جس میں  گاندھی جی کو اپنی جان کی بازی لگا دینی پڑی تھی پھر بھی آپ نے ہم سے کئے ہوئے وعدے کو فراموش نہیں  کیا۔‘‘ اس اقتباس پر ایک عرصہ بیت گیا ہے مگر لگتا ہے کہ جیسے کل کی بات ہے بلکہ کوئی اسے آج کی بات بھی کہہ سکتا ہے۔اس کی وجہ وہ نفرت ہے جس نے اعتماد کی فضا کو حد درجہ خراب کر دیا ہے۔ ’’فسانہ‘‘ کے ایسے اقتباسات ادبی صحافت کی روشن مثال ہیں ۔ اگست ۱۹۴۷ء اوراکتوبر ۱۹۴۷ء کے درمیان کتنا کم فاصلہ ہے۔یہ فاصلہ تاریخ ہی کا نہیں  بلکہ انسانیت کا بھی ہے۔ اب تو وقت کے ساتھ یہ فاصلہ بڑھتا ہی جا رہا ہےمگر ’’فسانہ‘‘کا اداریہ اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش  کر رہا ہے۔ فسانہ کے مدیروں نے اس وقت شاید یہ سوچا نہیں  ہوگا کہ ایک قاری اپنے مشکل وقت کے ساتھ اداریہ کو پڑھتے ہوئے اداریہ میں  اپنا اور اپنے زمانے کا چہرہ بھی دیکھ رہا ہوگا۔اسی اداریے میں  مدیر نے لکھا ہے۔’’ملک کے طول اور عرض میں  جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اس نے ہمیں  بعض بلند پایہ ادیبوں  کے تعاون سے محروم کر دیا ہے۔جن اصحاب نے ہمیں  اپنے تعاون کا یقین دلایا ان میں  سے بیشتر ایسی جگہ ہیں  جہاں  رسل و رسائل کی دشواریاں  سد راہ ہیں ۔ ہمارے نزدیک’’ مایوسی کفر ہے۔‘‘ طوفان بدتمیزی کی ترکیب اب پہلے سے زیادہ روشن ہو گئی ہے مگر یہ روشنی کس قدر تاریکی لئے ہوئے ہے۔جو صف اول کے اچھے لکھنے والے ہیں  وہ ہمیشہ کم رہے ہیں  مگر فسانہ کے مدیر کو شکوہ ہے کہ جو اچھا لکھ سکتے تھے وہ ایسے مقامات پر ہیں  جہاں  رسل و رسائل کی سہولت نہیں  اور جو لکھ رہے ہیں  وہ خراب لکھ رہے ہیں ۔صحافت اور ادبی صحافت دونوں  پر مشکل وقت آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK