Updated: May 05, 2026, 10:06 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی مزید دو سے تین ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے، جبکہ انہوں نے جنگ بندی کی صورتحال پر واضح مؤقف دینے سے گریز کیا۔ ایک ریڈیو انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ فوجی لحاظ سے پہلے ہی برتری حاصل کر چکا ہے۔ خلیج میں جھڑپوں اور آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ سفارتی کوششیں تاحال کسی مستقل حل تک نہیں پہنچ سکیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک تازہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ فوری طور پر ختم ہونے کے آثار نہیں دکھا رہا اور یہ مزید دو سے تین ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ کے ساتھ ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہی، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ وقت امریکہ کے لیے کوئی اہم عنصر نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اس بات سے بھی گریز کیا کہ آیا حالیہ جھڑپوں کے بعد جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اور آئندہ دنوں میں اس کا رخ واضح ہوگا۔ تاہم انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی نہ کسی طرح ہم جیتیں گے‘‘، اور یہ کہ امریکہ یا تو ایک بہتر معاہدہ حاصل کرے گا یا عسکری لحاظ سے اپنی برتری برقرار رکھے گا۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نےایران کےخلاف جنگ شروع کردی، یہ نہیں جانتا کہ امریکہ، اسرائیل کیلئےنتائج کیسےہوگے: اوبامہ
امریکی صدر نے اپنے دعوؤں میں مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں ایرانی بحری اثاثوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے متعدد جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور حالیہ کارروائی میں آٹھ تیز رفتار کشتیوں کو بھی ختم کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ٹرمپ نے ایک اہم بیان دیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں بحری آمدورفت کے لیے خطرات بدستور موجود ہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں کسی بھی وقت کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں نئی مساوات شکل اختیار کر رہی ہے: ایرانی اسپیکر
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے اندرونی حالات میں بھی تبدیلی آ رہی ہے اور بعض شہری حکومت کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ یہ تمام بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کے ردعمل میں ایران نے بھی اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ۸؍ اپریل کو جنگ بندی نافذ کی گئی تھی، جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہوئے، تاہم یہ کوششیں کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں۔ بعد ازاں جنگ بندی میں توسیع کی گئی، لیکن حالیہ جھڑپوں نے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔