Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو کا دعویٰ: ایران جنگ بندی کی کوششیں جلد ناکام ہوجائیں گی

Updated: April 13, 2026, 9:59 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کی کوششیں ’’بہت جلد‘‘ ناکام ہوسکتی ہیں خاص طور پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد۔ انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کی حمایت بھی کی، جو ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب جے ڈی وینس نے جوہری افزودگی روکنے کو کلیدی مسئلہ قرار دیا۔ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

Netanyahu. Photo: INN
نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کے مستقبل پر سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی ’’بہت ہی مختصر وقت میں‘‘ ناکام سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئے تھے، جن کا مقصد ۲۸؍ فروری سے جاری تنازع کو ختم کرنا تھا۔ تاہم کئی دور کی بات چیت کے باوجود دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے اور مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی پوپ لیو پر تنقید، انہیں ’انتہا پسند‘ قرار دیا، کارڈینلز نے امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنایا

نیتن یاہو نے اس صورتحال میں امریکہ کے ساتھ قریبی رابطے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جے ڈی وینس سے بات چیت کی، جنہوں نے واضح کیا کہ بنیادی مسئلہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنا اور مستقبل میں افزودگی کو روکنا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق یہ مطالبہ نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسے خطے کی سیکوریٹی سے براہ راست جوڑا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک ممکنہ معاہدے کے تحت امریکہ اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں روک سکتے تھے، بشرطیکہ ایران اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دے اور شفافیت یقینی بنائے۔ تاہم ان کے مطابق تہران نے اس حوالے سے تعاون نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا الزام: امریکہ نے اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کیا، کشیدگی بڑھ گئی

اس دوران اسرائیل نے امریکی اقدام، یعنی ایرانی بندرگاہوں پر مجوزہ بحری ناکہ بندی، کی کھل کر حمایت کی ہے، جو پیر سے نافذ العمل ہوگئی ہے۔ اس اقدام کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مذاکرات کی ناکامی اور سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر جنگ بندی ٹوٹتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک نازک مرحلے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں سفارت کاری اور فوجی حکمت عملی دونوں ایک دوسرے کے متوازی چل رہی ہیں، اور آنے والے دن اس تنازع کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK