امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو فوجی طور پر شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے سے مشروط قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 12:00 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو فوجی طور پر شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے سے مشروط قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو فوجی طور پر شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے سے مشروط قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس حوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اخبار سے معافی کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور کوئی بھی معاہدہ اسی بنیادی شرط پر ہوگا۔ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی مقررہ مدت تک کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو صورتحال ایران کے لیے مزید خراب ہو سکتی ہے اور کشیدگی برقرار رہے گی۔
انہوں نے اس سے قبل بھی انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر ایران کی تیز رفتار کشتیاں امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کریں گی تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور متعدد جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکی افواج سمندر میں سخت نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور ایک دن میں ۳۴؍جہازوں کا گزر اس بات کا ثبوت ہے کہ راستہ فعال ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کنٹرول بڑھایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شمشاد بیگم کی آواز کی کھنک آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے
ادھر امریکی کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ کے مطابق ٹرمپ نے چین کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو دوبارہ مسلح نہ کرے۔ دریں اثنا امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا، جبکہ ایران نے اسے سمندری قزاقی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایلون مسک کے بیان سے کووڈ ویکسین پر نئی بحث، ماہرین کا ردعمل
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج خلیج عمان اور بحر عرب میں، آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں بحری کنٹرول نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت بغیر اجازت داخل ہونے والے جہازوں کو روکا، موڑا یا حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء لے جانے والے جہازوں کو مکمل جانچ پڑتال کے بعد گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔