Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے!

Updated: April 13, 2026, 1:30 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

زندگی اتنی تیز رفتار ہوگئی ہے کہ انسان ٹھہر کر کچھ سوچنے کے قابل ہی نہیں رہ گیا ہے مگر زندگی کا لطف جتنا چلنے میں ہے اُتنا ہی ٹھہرنے میں بھی ہے۔ اس سے بھی زیادہ ٹھہر کر سوچنے اور کچھ محسوس کرنے میں ہے۔

INN
آئی این این
حسرت جے پوری نے فلم’’شری ۴۲۰‘‘ کیلئے جو نغمہ لکھا تھا، اس پر ایک زمانہ بیت گیا ہے مگر وہ کشور کی آواز میں   آج بھی جادو جگا رہا ہے۔ فلم ۱۹۵۵ء میں   آئی تھی۔اس کی کہانی خواجہ احمد عباس نے لکھی تھی، ڈائریکٹ اور پروڈیوس راج کپور نے کیا تھا۔ اسے کلاسک فلم کا درجہ بھی حاصل ہے۔ اس کی کلاسیکیت میں   نرگس اور نادرہ کی اداکاری کی ایک خاص اہمیت ہے۔فلم کی کہانی اور نغموں   میں   عمو ماً ایک فطری رشتہ ہوا کرتا ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی نغمہ کہانی سے نکل کر زندگی کی بڑی کہانی بن جاتا ہے۔وہ نغمے بھی جن پر اداسی کی فضا چھائی ہوئی ہے نوجوانوں   کو اچھے لگتے ہیں  ۔اس کی وجہ اداسی ہے جو دھیرے دھیرے اور وقتی طور پر زندگی کی ایک سچائی معلوم ہوتی ہے۔ ایک عمر کے بعد اداسی ضرورت معلوم ہوتی ہے مگر اداسی کی ضرورت کا تعلق حساس ذہن سے ہے۔ اداسی کا کوئی سبب ہوا کرتا ہے اور وہ سبب اداس آدمی کو کبھی معلوم ہوتا ہے اور کبھی معلوم نہیں   ہوتا ہے۔ رومانٹک ہونا بھی اداس ہو جانا ہے۔ ہم اس وقت بھی اداس ہو جاتے ہیں   جب کوئی مطلوبہ شے مل جاتی ہے۔ اس کیفیت کو اپنے انداز میں   فراق نے گرفت میں   لینے کی کوشش کی تھی:
 ’’فضا تبسم صبح بہار تھی لیکن = پہنچ کے منزل جاناں   پہ آنکھ بھر آئی‘‘۔  
 
 
مگر وہ اداسی بڑی اداسی ہے جو مسلسل جدوجہد کے باوجود ناکامی کو سامنے لاتی ہے۔ یہ اداسی اپنی زمینی سچائی کے ساتھ ہوتی ہے اور کبھی یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ دنیا میں   اداسی کا سب سے بڑا وسیلہ عوام کی زندگی کی پریشاں   حالی ہے۔ اداسی کی سطح اور صورت کہنے کو تو الگ الگ ہوتی ہے لیکن ایک لہر ہے جو یکساں   طور پر ہر سطح اور ہر صورت میں   موجود ہے۔ زیر بحث فلم کا یہ نغمہ کشور کی آواز میں   ہمارے دلوں   کی دھڑکنوں   کو تیز نہیں   کرتا بلکہ زندگی کی آہستہ روی کی تہذیب سکھاتا ہے۔ اب ہم تیز تیز چلتے ہیں  ، تیز تیز بولتے ہیں   اور تیز تیز سوچتے ہیں  ۔ اسی میں   کبھی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، کبھی دل ڈوبنے لگتا ہے اور کبھی آنکھیں   خشک تو کبھی اشکبار ہو جاتی ہیں  ۔ ایسے عالم میں   کوئی حال دریافت کر لے یا مسکرا دے،تو زندگی گنگنانے لگتی ہے۔ گرتے پڑتے ہوئے صبح تا شام زندگی کتنی تیز اور کتنی اداس ہے۔ اس اداسی کو بڑی گاڑیوں   میں   بھی محسوس کرنے والے لوگ موجود ہیں  ، اور وہ لوگ بھی جو فٹ پاتھ پر پیدل چل رہے ہیں   اور فٹ پاتھ پر سو رہے ہیں  ۔ کشور کمار کی آواز نہ ہوتی تو حسرت جے پوری کی زبان میں   بلکہ عام زبان میں   لکھا جانے والا نغمہ دلوں   کو اس قدر نہ چھوتا۔ اداسی کا ایک دن ڈھلتا بھی نہیں   کہ اداسی کا دوسرا دن آ جاتا ہے۔ ایک شخص کی اداسی ایک بڑی آبادی کی اداسی بھی ہو سکتی ہے مگر ہماری اداسی اور اداسی کی تنہائی کہاں   جا کر خود کو ظاہر کرے۔ اس اداسی کا سبب ہماری فطرت اور طبیعت بھی ہو سکتی ہے مگر ایک ایسے وقت میں   جبکہ زندگی لہو لہان ہو، ایک شخص کی اداسی کیا معنی رکھتی ہے۔ اداس ہو جانا بھی کیا اداس ہو جانا ہے۔ پہلے بھی کشور کی آواز میں   یہ نغمہ سن چکا ہوں   مگر آج اسے سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ جیسے ہمارا وقت اس میں   موجود ہے۔ یہ وقت اس فلم کا بھی ہے جب وہ بنی تھی اور وہ وقت ہمارا بھی ہے جو گزرے ہوئے وقت کے ساتھ ایک رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ کشور کی آواز اٹھتے ہوئے اور گرتے ہوئے سر کے ساتھ اداسی کو بھی فعال بنا دیتی ہے مگر اداسی  شور کی آواز میں   بھی تو ہے۔ کئی بار سننے کے بعد میں   اسی نتیجے پر پہنچا ہوں   کہ نغمے کی اداسی شور کی آواز میں   کچھ اور گہری ہو گئی ہے۔ لگتا ہے کہ جیسے کوئی وقت کو سمجھا رہا ہے اور وقت بھی اسے سمجھا رہا ہے۔
کہاں   تک یہ من کے اندھیرے جلیں   گے 
   اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں   گے 
ان مصرعوں   کے ساتھ زمانے نے زندگیاں   گزار دی ہیں  ۔ دن اداسی کے ڈھلے بھی ہیں   ۔   ایک امید سی ہے کہ اندھیرے ختم ہو جائینگے۔  اس میں   کچھ ایسے اندھیرے بھی شامل ہو گئے ہیں  ،جو اس نغمے کے اندھیرے سے مختلف ہیں  ۔لہٰذا ہمارے وقت کو جن اندھیروں   کا سامنا ہے وہ کچھ زیادہ بھی ہیں   اور کچھ مختلف بھی۔ کتنے پت جھڑ کے موسم آئے اور گزر گئے، یہ پت جھڑ کے موسم اندھیروں   کی طرح تھے۔ مگر پت جھڑ کا موسم اس موسم کی یاد دلاتا ہے جس میں   تازگی اور شادابی ہے۔ کسی بس اور آٹو رکشہ پر سوار ہو کر اس گانے کو سنتے ہوئے لگتا ہے کہ جیسے زندگی اب سنبھل جائے گی، نکھر جائے گی۔ ایک رکشہ ڈرائیور کو یہ نغمہ مکمل طور پر یاد ہے، اور وہ کشور کی آواز میں   آپ کو سنا سکتا ہے۔ یہ نغمہ مجھے بھی یاد ہے اور میں   بھی کشور کی آواز میں   گا کر سنانے کی کوشش کر سکتا ہوں   مگر رکشہ والے کی آواز میں   جو سر مستی ہے وہ میری آواز میں   کہاں  ۔ رکشہ والے کی آواز میں   سننے کے بعد جب کشور کی آواز میں   اس نغمے کو سنا ہے تو یقین جانیے کہ یوں   لگا جیسے کشور کی آواز کو بھی ایک آواز مل گئی ہے۔ ہماری عام زندگی میں   زندگی کا یہی رخ ہے اور اسی سے اس کی فوری طاقت بھی۔ ’’کبھی دکھ کبھی سکھ یہی زندگی ہے‘‘ اب اس لائن کو پڑھتے ہوئے زندگی کا فرق مٹ جاتا ہے مگر جو پھول ڈگر میں   کھلے ہیں   انہیں   ہم کتنا کم جانتے ہیں  ۔ ذرا زمینی سطح پر آ کر ڈگر پر کھلنے والے پھولوں   کو دیکھیے اور یہ بھی دیکھیے کہ زندگی اس طرح بھی مسافروں   کا استقبال کرتی ہے۔ ڈگر کے پھول پر کسی کا اختیار نہیں   ہے۔ خوشبو پر ویسے بھی کسی کا اختیار نہیں  ۔ یہ ڈگر عام سی ڈگر ہے، یہ دور تک جانے والی ڈگر ہماری تنگ نظری کی وجہ سے تنگ ہو جاتی ہے۔ یہ ذہنی تنگنائی انسانی زندگی کیلئے کتنی خطرناک ہے۔ زمین لہو لہان ہو جاتی ہے اور زندگی شرمندہ۔ برداشت کی قوت ڈگر سے سیکھنی چاہئے جو اپنی تھوڑی سی وسعت کے ساتھ مسافروں   کو گزارتی ہے اور شکوہ نہیں   کرتی۔ اسی ڈگر پر زندگی کا لہو لہان ہو جانا نئے اندھیرے کو بلانا ہے۔ اس کے بعد تو اداسی بھی اپنی معنویت کھو بیٹھتی ہے۔ رونے اور چلا ّنے کی آوازیں   پہلے بھی سنائی دیتی تھیں   مگر اب لگتا ہے کہ جیسے ڈگر اور راستے کی چیخ بھی ان میں   شامل ہو گئی ہے۔ پھر بھی کسی اور کی آواز میں   رکشہ والے کا گنگنانا ایک امید جگاتا ہے۔ رکشہ جس راستے پر چل رہا ہے، اس کا پھول تو رکشہ پلر کی آواز ہے۔ مختصر فاصلے کی یہ سواری کتنی دور تک جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کشور کی آواز میں  ۔ ’’جو بچھڑے سفر میں   تجھے پھر ملیں   گے‘‘ میں   امید اور یقین ہماری تہذیب کا حصہ ہے لیکن اب بچھڑنے والے لوگ بھی پہلے جیسے کہاں   ہیں  ۔ پہلے جیسا تو بہت کچھ نہیں   ہے مگر پرانے اور نئے کے درمیان کوئی رشتہ تو قائم ہو سکتا ہے۔ یہ رشتہ ایک رکشہ والا بھی اپنے طور پر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور اس کا وجود رقص کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہ رقص جاری تھا کہ منزل آگئی۔؎کہے کوئی کچھ بھی مگر سچ یہی ہے /لہر پیار کی جو کہیں   اٹھ رہی ہے /   اسے ایک دن تو کنارے ملیں   گے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK