ہمارے یہاں انصاف کا عمل اتنا سست اور پیچیدہ ہے کہ مجرم کو خوف ہی نہیں رہتا۔ برسوں مقدمے چلتے ہیں، گواہ بدل جاتے ہیں، ثبوت کمزور پڑ جاتے ہیں اور آخرکار انصاف ایک فائل بن کر رہ جاتا ہے۔
بہار میں حالیہ دنوں پیش آنے والے دو واقعات نے اس سماج کی تہہ میں چھپی ہوئی درندگی اور سیاست کی بے حسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف ریاست کی راجدھانی پٹنہ میں ’ نیٹ‘ امتحان کی تیاری کرنے والی ایک طالبہ کے ساتھ درندگی، تشدد اور بالآخر اس کی موت۔ دوسری طرف شمالی بہار کے دربھنگہ میں چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ اجتماعی ظلم، زنا اور قتل۔ یہ دونوں واقعات اپنی نوعیت میں مختلف نہیں ، صرف متاثرین کی عمر بدل گئی ہے۔ ایک خواب دیکھنے والی نوجوان طالبہ تھی، دوسری زندگی کو ابھی پہچاننا بھی نہیں سیکھ پائی تھی۔ دونوں کے حصے میں جو آیا، وہ اس سماج کا وہ چہرہ ہے جسے ہم عام دنوں میں دیکھنا نہیں چاہتے۔یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ مجرم کون ہیں ، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم سب کہاں کھڑے ہیں ؟ ریاست کہاں ہے؟ سیاست کہاں ہے؟ اور وہ سماج کہاں ہے جو ہر جلسے، ہر تقریر میں اخلاقیات اور تہذیب کے نعرے لگاتا ہے؟
پٹنہ میں نیٹ کی تیاری کرنے والی طالبہ کی کہانی دراصل بہار ہی نہیں ، پورے ملک کے اس تعلیمی ماڈل کی کہانی ہے جسے ہم نے’’کوچنگ کلچر‘‘کا نام دے رکھا ہے۔ ہزاروں نوجوان لڑکیاں اور لڑکے، والدین کی امیدوں کا بوجھ اٹھائے، اپنے شہروں اور گاؤں سے نکل کر بڑے شہروں میں آتے ہیں ۔ کرائے کے کمروں میں رہتے ہیں ، تنگ گلیوں ، غیر محفوظ ماحول اور غیر انسانی دباؤ میں دن رات پڑھتے ہیں ۔ملک کی راجدھانی دہلی اور راجستھان کے شہر کوٹہ کے علاوہ ہر ریاست کے بڑے شہروں میں کوچنگ کا جال بچھ گیاہے ۔بلکہ اب تو دیہی علاقوں میں بھی پرائمری سے لے کر ہائی اسکول ، کالج اور مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے کوچنگ مراکز کھولے جا رہے ہیں اور اب نجی کوچنگ میں بڑی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہو رہی ہیں ۔پٹنہ میں جو اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے کہ مقتولہ طالبہ بھی انہی خوابوں کے ساتھ پٹنہ آئی تھی۔ ڈاکٹر بننے کا خواب، گھر والوں کی قربانیاں ، اور ایک بہتر مستقبل کی امید۔ لیکن جو اس کے ساتھ ہوا، وہ محض ایک فرد کی درندگی نہیں تھی، بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی تھی۔ اس کی شکایتیں ، اس کی چیخیں ، اس کی بے بسی،سب کچھ نظام کی فائلوں میں دفن ہو گیا۔ پولیس کی تاخیر، انتظامیہ کی بے حسی اور سیاسی قیادت کے رسمی بیانات بازی نے ثابت کر دیا کہ ہمارے یہاں طالب علم صرف تب تک اہم ہیں جب تک وہ امتحان میں ٹاپ کریں یا کسی اشتہار کا حصہ بن سکیں ۔اگرچہ حکومت بہار نے اس طالبہ کی موت کی تفتیش کیلئے سی بی آئی کو کیس سپرد کر دیاہے اور مرکزی تفتیش ایجنسی نے اس کی جانچ بھی شروع کردی ہے۔
دوسرا واقعہ دربھنگا میں چھ سالہ بچی کے ساتھ جو ہوا، وہ لفظوں میں بیان کرنا بھی روح کو زخمی کرتا ہے۔ ایک ایسی بچی جسے ابھی یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دنیا میں برائی کیا ہوتی ہے، اس کے جسم پر ظلم کیا گیا اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ جرم صرف ایک خاندان پر نہیں ، پوری انسانیت پر حملہ ہے۔
بہر کیف!ان دونوں واقعات کے بعد سیاسی جماعتوں کا رویہ تقریباً ایک سا رہا۔رسمی مذمت، ٹویٹر پر دو چار جملے، اور پھر خاموشی۔ کوئی طویل مدتی پالیسی نہیں ، کوئی سنجیدہ بحث نہیں ، کوئی اخلاقی جواب دہی نہیں ۔ اپوزیشن حکومت کو گھیرنے میں مصروف، حکومت اپوزیشن کو الزام دینے میں ۔ متاثرین کہیں درمیان میں گم ہو گئے۔سیاست دانوں کی ترجیحات صاف نظر آتی ہیں ۔ الیکشن، اتحاد، ذات پات، جلسے اور جلوس یہ سب اہم ہیں ، مگر ایک طالبہ کی جان یا ایک بچی کی عصمت نہیں ۔ اگر یہی واقعات کسی بڑے سیاسی فائدے کا سبب بن سکتے، تو شاید سڑکوں پر طوفان آ جاتا۔ مگر چونکہ یہاں فائدہ کم اور ذمہ داری زیادہ ہے، اس لیے خاموشی ہی سب کی مشترکہ پالیسی بن گئی۔
سماج کی درندگی اسی خاموشی سے پروان چڑھتی ہے۔ جب محلے میں کوئی مشکوک حرکت ہو اور ہم نظریں چرا لیں ، جب کسی بچی کے رونے کو’’گھریلو معاملہ‘‘ کہہ کر نظرانداز کر دیں ، جب کسی طالبہ کی شکایت کو’’بدنامی‘‘کے خوف سے دبایا جائے تب ہم سب مجرم بن جاتے ہیں ۔ہمارے یہاں قانون موجود ہے، دفعات موجود ہیں ، سزائیں بھی سخت ہیں ، مگر انصاف کا عمل اتنا سست اور پیچیدہ ہے کہ مجرم کو خوف ہی نہیں رہتا۔ برسوں مقدمے چلتے ہیں ، گواہ بدل جاتے ہیں ، ثبوت کمزور پڑ جاتے ہیں اور آخرکار انصاف ایک فائل بن کر رہ جاتا ہے۔جب تک مجرم کو فوری اور یقینی سزا کا احساس نہیں ہوگا، ایسے واقعات رکنے والے نہیں ۔ مگر سزا کے ساتھ ساتھ اصلاح بھی ضروری ہے۔ جیلیں صرف قید خانے نہیں ، اصلاحی ادارے ہونی چاہئیں ۔ اسکولوں میں اخلاقی تعلیم محض کتابی سبق نہ ہو، بلکہ عملی تربیت ہو۔سوال جو ہمیں خود سے پوچھنے ہوں گے۔یہ کالم کسی ایک پارٹی، ایک حکومت یا ایک ادارے پر الزام ڈالنے کے لئے نہیں ، بلکہ خود احتسابی کے لئے ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگاکہ کیا ہم نے عورت اور بچی کو واقعی انسان سمجھا ہے؟کیا ہماری سیاست انسانی جان سے زیادہ ووٹ کو اہمیت دیتی ہے؟کیا ہمارا تعلیمی اور سماجی نظام نوجوانوں کو تحفظ دے رہا ہے؟اور سب سے اہم کہ کیا ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں ۔ہماری سیاست جب لباس اور شناخت کی بدولت پروان چڑھے گی اور مذہب کی بنیاد پر فیصلے لئے جائیں گے تو ہمارے سماج میں اسی طرح کی غیر انسانی اضطرابی کیفیت پیدا ہوگی۔یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے، اس پر صرف سیاست داں کو نہیں بلکہ سماج کے ہر اس فرد کو غوروفکر کرنا ہے اور سماجی برائیوں کو دور کرنے کے تئیں سنجیدہ ہونا ہے کہ زمینی سطح پر سماجی برائیوں کا تدارک صرف حکومت نہیں کرسکتی بلکہ سماج کا ہر ایک فردکو اپنے معاشرے کو انسانی معاشرہ بنائے رکھنے کے لئے بیدار ہونا ہوگا۔
پٹنہ کی طالبہ اور دربھنگا کی معصوم بچیاں اب واپس نہیں آئیں گی۔ مگر ان کی موت ہمیں ایک موقع دیتی ہے آخری موقع کہ ہم اپنے سماج، اپنی سیاست اور اپنے ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں ۔ اگر ہم اب بھی خاموش رہے، اگر ہم نے اسے بھی’’ایک اور خبر‘‘سمجھ کر بھلا دیا، تو یاد رکھیے اگلی باری کسی اور کی نہیں ، کسی اپنے کی بھی ہو سکتی ہے۔یہ وقت آنسو بہانے سے آگے بڑھ کر عمل کا ہے۔ قانون کے نفاذ کا، سیاست کی جواب دہی کا اور سماج کی اخلاقی بیداری کا۔ ورنہ تاریخ ہمیں بھی اسی فہرست میں شامل کرے گی جہاں مجرموں کے ساتھ ساتھ خاموش تماشائیوں کے نام بھی درج ہوتے ہیں ۔