• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی امیگریشن جج نے فلسطینی طالب محسن مہدوی کی ملک بدری روکنے کا حکم دیا

Updated: February 18, 2026, 6:02 PM IST | Washington

امریکی امیگریشن جج نے فلسطینی طالب محسن مہدوی کی ملک بدری روکنے کا حکم دیا ، محسن مہدوی،جو کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، کو گزشتہ سال آئی سی ای ایجنٹس نے گرفتار کر کے۱۶؍ دنوں تک حراست میں رکھا تھا۔

Palestinian Student Mohsen Mahdawi. Photo: X
فلسطینی طالب علم محسن مہدوی۔ تصویر: ایکس
 امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) کی خبر کے مطابق ایک امریکی امیگریشن جج نے فلسطینی طالب علم محسن مہدوی کے خلاف ملک بدری کی کارروائی ختم کر دی ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کی انہیں ملک بدر کرنے کی کوششوں کا خاتمہ ہو گیاہے۔مہدوی، جو کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین نواز مظاہروں کی قیادت کر چکے ہیں اور ایک دہائی سے زائد عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں، کو گزشتہ سال اپریل میں شہریت کے انٹرویو کے دوران امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنٹس نے گرفتار کر لیا تھا اور۱۶؍ دن آئی سی ای کی حراست میںرکھا۔ بعد ازاں انہیں ۳۰؍اپریل کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا، اس سے پہلے انہوں نے ورمونٹ کے لیے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ انہیں غلط طریقے سے حراست میں لیا گیا۔
 
 
دریں اثناء مہدوی کے وکلاء نے دوم سرکٹ کے لیے امریکی اپیلز کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ ملک بدری کی کارروائی ختم کر دی گئی ہے، جو اس مقدمے میں ایک اہم پیش رفت ہے جس نے قانونی کارروائی کے حق اور آزادی اظہار کے تحفظات کے تعلق سے خدشات کو جنم دیا تھا۔عدالت میں دائر ایک خط کے مطابق، امیگریشن جج نے کارروائی اس وقت ختم کی جب وزیر خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے مبینہ طور پر جاری کردہ ایک میمورنڈم کی تصدیق فراہم کرنے میں ناکام رہی۔یہ دستاویز، جس میں مہدوی پر خارجہ پالیسی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا گیا تھا، ۲۰۲۵ءمیں ان کی حراست اور ملک بدری کیس کی بنیاد تھی۔عدالتی فیصلے کے بعد مہدوی نے کہا، ’’میں قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے اور حکومت کی قانونی کارروائی کے حق کو روندنے کی کوششوں کو ناکام کرنے پر عدالت کا شکرگزار ہوں۔ یہ فیصلہ اس چیز کو برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے جسے خوف نے تباہ کرنے کی کوشش کی تھی، امن اور انصاف کے لیے بولنے کا حق۔‘ ‘ امریکن سول لبرٹیز یونینکے سنٹر فار ڈیموکریسی کے سینئر وکیل بریٹ میکس کافمین نے کہا کہ یہ فیصلہ امیگریشن معاملے میں عدالتی نگرانی کی اہمیت کوظاہر کرتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK