اس قابل احترام گلوکارہ نے اپنے دور کی صف اول کی گلوکاراؤں میں جگہ بنائی اس سے بڑا اعزاز اورکیا ہوسکتا ہے۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی اور وقار تو تھا ہی، ان کا ظرف بھی بلند تھا۔ سخت مقابلہ آرائی کے باوجود انہوں نے کبھی کسی کے بارے میں کوئی متنازع بات نہیں کہی۔
سمن کلیانپور ۸۹؍ سال کی عمر میں رخصت ہو گئیں ۔ اخباروں میں ان کی زندگی اور آواز کے تعلق سے خبریں شایع ہوئیں ۔ ہر خبر تاریخ نہیں بن سکتی، اور یہی بات تاریخ کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ زندگی آواز بن جائے اور آواز زندگی تو زندگی طویل ہو جاتی ہے۔ سمن کلیانپور کے انتقال کی خبر سے آواز کی دنیا میں سناٹا چھا گیا۔ یہ سناٹا اس آواز کا بھی ہے،جو موسیقی کی صورت میں ہم تک پہنچی تھی۔ ہر طرف ان کے گانوں کو سنا جانے لگا، لوگوں نے گنگنایا بھی ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں جب زندگی تنگنائیوں کی زد میں ہو، سمن کو سننا دل کی دھڑکن کو تیز کرنا ہے جو یاد دلاتی ہے کہ زندگی مختصر بھی ہے لیکن اسے خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔
مختلف تصویروں کو دیکھنے اور مختلف گانوں کو سننے کے بعد اخبار کی خبریں سمن کے تعلق سے تہذیبی وحدت کا تاثر پیش کرتی ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ سمن کے انتقال سے ہماری تہذیبی تاریخ کا ایک دور نگاہ سے اوجھل ہو گیا۔ لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کے بعد یہ تیسری آواز تھی جس نے ہندوستان کی مختلف زبانوں کی آوازوں کو دور دراز علاقوں تک پہنچایا بلکہ ان سب کے درمیان اس خاموشی کو بھی دریافت کرنے کی کوشش کی جو نغموں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مختلف صوبوں اور علاقوں کی زبانیں اپنے تلفظ کے ساتھ سمن کی موسیقی اور سنگیت کا حصہ بنیں لیکن اکثر یہ محسوس ہوا کہ جیسے ایک ہی دھن اور سر ہے جس میں تمام آوازیں اپنی داخلی وحدت کا خاموشی کے ساتھ اعلان کر رہی ہیں ۔ ہندی کے علاوہ گجراتی، مراٹھی اور آسامی زبانوں کے نغموں کو جس گمبھیرتا کے ساتھ سمن نے گایا وہ سنگیت کے تئیں ان کی ریاضت، اخلاص اور جذبے کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میں لفظوں کو دہراتی تھی تاکہ صحیح تلفظ کے ساتھ انہیں گایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بار جب کوئی گانا سن لیتی تھی تو پھر وہ ذہن میں نقش ہو جاتا اور یاد ہو جاتا تھا۔ ۲۰۲۳ء میں انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے بعد ایک ٹی وی چینل پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کئی اہم باتیں اپنے سنگیت اور گانے کے تعلق سے بتائی تھیں ۔ ایک مسکراتا ہوا چہرہ جو موسیقی کے فن سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود زندگی کے دکھوں سے بھی آ شنا تھا۔ گھریلو زندگی ان کی نگاہ میں بہت اہم تھی اسی لیے گھر اور خاندان کے تعلق سے نہ صرف وہ حساس تھیں ، بلکہ کھل کر اس خیال کا اظہار کیا کہ میں گھر کے کاموں پر توجہ دیتی تھی اور فلم نہیں دیکھتی تھی۔ گانا گانے کے بعد سنتی ضرور تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اپنی ان فلموں کو دیکھنا ضروری نہیں سمجھا جن میں ان کے گیت شامل تھے۔ بلکہ یہ ایک طرح کی تخلیقی بےنیازی ہے جو مشکل سے پیدا ہوتی ہے۔
ابتدا میں ان کی دلچسپی ڈرائنگ اور پینٹنگ سے تھی۔اسکول آف آ رٹ میں داخلہ بھی لیا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پینٹنگ کی زبان موسیقی کی زبان سے داخلی طور پر کتنی قریب ہے، اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اور احساس الگ الگ وقتوں میں ہوتا ہے۔ ڈرائنگ کی لکیریں مختلف رنگوں کے ساتھ جو کچھ کہتی ہیں ، انہیں موسیقی کا حصہ بنانا کتنا آسان اور کتنا دشوار ہے۔ دنیا میں بہت سی ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہیں شروع میں پینٹنگ سے دلچسپی تھی اور دھیرے دھیرے موسیقی نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ موسیقی کی گرفت پینٹنگ کی گرفت سے زیادہ پائیدار ہے یا کمزور، اس سوال کا جواب سمن کلیان کلیانپور کے نغموں کو سن کر مل سکتا ہے۔ موسیقی اپنے مختلف سروں کے ساتھ الگ الگ وقتوں میں الگ الگ تا ثر قائم کرتی ہے۔ سمن صاحبہ نے اپنے گانوں کے بارے میں کوئی ایسی بات کبھی نہیں کہی جس سے اندازہ ہو کہ یہ دنیا ان کے لیے الگ سی ہے یا دوسری دنیا کے مقابلے میں الگ تھلگ ہے۔ ان کے الفاظ کو میں یاد کر رہا ہوں تو وہ یہ ہیں کہ بس میں گانے لگتی تھی، گاتی جاتی تھی۔ اور اس طرح وقت گزرتا رہا۔ موسیقی کی باریکیاں چاہے جتنی بھی انہوں نے سیکھی ہوں اصل تو وہ سُر ہے جو قدرت نے انہیں عطا کیا تھا۔ آواز کی کھنک اکثر ملائمت اور کشش کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ کھنک اگر دیر تک باقی رہے تو اس کی طاقت کم ہونے لگتی ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اسے اپنی داخلی خاموشی کی طرف بھی جانا ہے۔خاموشی سے بڑی موسیقی کیا ہو سکتی ہے۔
سمن کلیانپور کی شخصیت میں جو رکھ رکھاؤ تھا اس کا ایک رشتہ ان کی موسیقیت سے بھی ہے۔ انہیں اور ان کے سننے والوں کو اس بات کا تھوڑا ملال بھی تھا کہ اکثر ان کی آواز پر لتا منگیشکر کا گمان ہوتا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ لتا کی آواز کا سایہ ان کی آواز کے ساتھ لگا رہا۔ یہ قدرت کا نظام اور انتظام تھا لہٰذا سمن کے چاہنے والوں نے اسی صورت میں انہیں قبول بھی کیا۔ بول چاہے الگ الگ ہوں لیکن آواز کسی ایک دنیا سے نکلتی اور آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ کبھی ایک دنیا تھوڑے وقت کے ساتھ الگ الگ سمتوں میں جاتی ہوئی دکھائی دیتی مگر لتا منگیشکر اور سمن کلیانپور کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ کئی مرتبہ تو لوگوں کو کہنا پڑا کہ یہ گانا سمن نے گایا ہے لتا نے نہیں ۔ ادب کی دنیا میں اگر ایسا ہوتا تو شاید تہذیبی زندگی کی فضا بہت بہتر ہو جاتی یا بہت خراب۔ یہ ایک ایسی مماثلت ہے جو موسیقی میں تو ہو سکتی ہے لسانی اور فکری اظہار میں نہیں ۔ پھر بھی آواز کی اس مماثلت پر غور کرتے ہوئے خیال اس ادبی دنیا کا آتا ہے جس میں منافقت ہی نہیں بلکہ کردار کشی تک کا رویہ شامل ہے۔ ایک ایسی کینہ پروری جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔
سمن کلیانپور نے تہذیبی زندگی کے رکھ رکھاؤ کے ساتھ اس صورتحال کا نہ صرف سامنا کیا بلکہ ایک خاموش پیغام بھی دیا۔ دینک بھاسکر کے مطابق جب ایم ایچ وی نے پچاس گانوں کی ریکارڈنگ پیش کی تو اس میں سب سے زیادہ گانے سمن کے تھے مگر اس کے کور پر صرف محمد رفیع، طلعت محمود اور کشور کمار کی تصویریں تھیں ۔ امین سایانی نے ۴۵؍ سال تک ایک انٹرویو کیلئے انتظار کیا۔ ۲۰۰۵ء میں وہ اس شرط کیساتھ انٹرویو کیلئے تیار ہوئیں کہ ان کی تصویر نہ کھینچی جائے۔