جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی کو امید ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت بڑھتی رہے گی،ان کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیائی تعاون فلسطینی اداروں کو مضبوط بنا سکتا ہے، جبکہ ٹوکیو دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 10:02 PM IST | Tokyo
جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی کو امید ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت بڑھتی رہے گی،ان کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیائی تعاون فلسطینی اداروں کو مضبوط بنا سکتا ہے، جبکہ ٹوکیو دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے فلسطین کے لیے بین الاقوامی حمایت میں مزید اضافے کی ’’پختہ‘‘ امید ظاہر کی ہے، اور کہا ہے کہ ’’دو ریاستی حل کے حصول کے لیے فلسطین کی قابلِ عمل حیثیت انتہائی ضروری ہے۔‘‘موتیگی نے یہ بات بدھ کو فلپائن کے شہر منیلا میں منعقدہ “مشرقی ایشیائی ممالک کی فلسطینی ترقی کے لیے تعاون کانفرنس (CEAPAD) کی وزارتی سطح کے اجلاس میں شریک صدارت کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھئے: قطر کا ڈچ اور بیلجیم کی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات درآمد پر پابندی کا خیر مقدم
تعاون کانفرنس کا فریم ورک جاپان کی قیادت میں۲۰۱۳ء میں فلسطین کے لیے امداد پر گفت و شنید کے لیے شروع کیا گیا تھا۔اس اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔موتیگی نے تعاون کانفرنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک درمیانی تا طویل مدتی انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے فلسطینی ریاست سازی کی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے صحت، تعلیم، زراعت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں ہنرمندی کی ترقی کا ذکر کیا۔ بعد ازاں موتیگی نے سہ فریقی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جس میں شریک ممالک اپنی اپنی طاقتوں سے فائدہ اٹھا کر فلسطین کی حمایت کے لیے تعاون کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ جاپان فلسطین کے مسلسل دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن اس نے ابھی تک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، اور کہا ہے کہ وہ تسلیم کرنے کے مناسب وقت اور طریقے کا جائزہ لے رہا ہے۔علاوہ ازیں ٹوکیو نے۱۹۹۳ء سے اب تک فلسطینیوں کو ۲؍ اعشاریہ ۸؍ بلین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، جس میں اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک تقریباً۴۱۰؍ ملین ڈالر کی انسانی ہمدردی امداد اور سامان شامل ہے۔