Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کا آندولن چاروں طرف کیوں پھیل گیا؟

Updated: July 26, 2026, 11:32 AM IST | Aakar Patel | New Delhi

یہ سوال بہت سوں کے ذہن میں ہے۔ آندولن کو ملنے والا سپورٹ واقعی غیر معمولی اور غیر متوقع تھا۔ اس کی کوئی تو وجہ ہوگی؟ اس مضمون میں ایک ایسا زاویہ پیش کیا گیا ہے جس پر کم ہی لوگوں کا ذہن گیا ہوگا۔

Students.Photo:INN
طلبہ۔ تصویر:آئی این این
بہتسے لوگ طلبہ کے آندولن سےحیران ہیں کہ یہ آندولن کتنی تیزی سے پھیلا اور کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ایسا کیوں ہوا یہ جاننے اور ڈر کے ماحول سے غم و غصہ کے ماحول تک کی صورت حال کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ نوجوانوں کے اُس ایک مسئلہ (پیپر لیک) کو فی الحال بالائے طاق رکھ کر وسیع تر تصویر کو پیش نظر رکھا جائے۔ اس وسیع تر تصویر کو دیکھنے کیلئے سب سے پہلے اس سوال پر غور کرنا ہوگا۔ حکومت سے عوام کا تعلق یا رشتہ کیا ہے؟ حکومت ریاست کی بھی ہوسکتی ہے اور مرکز کی بھی۔ حکومت ہماری زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے اس پر غور کیجئے اور اس پر بھی غور کیجئے کہ ملک میں چونکہ صرف ۳؍ فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں جس کا معنی یہ ہے کہ یہاں مالدار طبقہ (اَپر کلاس) اتنا ہی ہے۔ مڈل کلاس رہ نہیں گیا ہے لہٰذا اَپر کلاس کے علاوہ جو ہیں وہ سب معاشی طور پر کمزور لوگ ہیں۔ 
 
 
پیشہ جاتی طور پر یہ کلاس (اَپر کلاس) انگریزی بولتا ہے اور شہروں میں رہتا ہے۔ وہ انگریزی، جو دس میں سے نو ہندوستانی بول نہیں سکتے، ہمیں موقع دیتی ہے کہ گلوبل (عالمی) بن کر اپنی خدمات انجام دیں۔ثقافتی اور پیشہ جاتی طریقے سے بھی ہم یعنی اپر کلاس کے لوگ وسیع تر دُنیا کے شہری ہیں۔ یہ حیثیت ملک کے بیشتر لوگوں کو حاصل نہیںہے۔ ہم سرکاری اسکولوں میں اور ہمارے بچے آنگن واڑیوں میں نہیں گئے۔ طبی معاملات میں ہم نجی سیکٹر سے رجوع کرتے ہیں جہاں ڈاکٹر اور اسپتال اعلیٰ معیاری ہیں۔ ہمیں طبی خدمات اور سہولت فراہم کرنے پر وہ دس لاکھ خواتین مامور نہیں ہیں جو سند یافتہ سماجی صحت کارکن (ایکریڈیٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹ) کہلاتی ہیں۔ عوامی تقسیم کاری نظام (پی ڈی ایس) پر ہمارا انحصار نہیں ہے۔ ہو بھی تو بہت معمولی ہوگا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم راشن کی قطاروں میں نہیں کھڑے ہوتے۔ اس نظام سے دو تہائی آبادی (۸۰؍ کروڑ لوگ) پانچ کلو چاول اور گیہوں ہر ماہ حاصل کرتے ہیں۔ ملک میں ۲۰؍ کروڑ سے زیادہ ہندوستانی اس لئے تغذیہ کی کمی کا شکار ہیں کیونکہ اُنہیں حکومت سے جو مدد ملتی ہے وہ یا تو ناکافی ہے یا ملتی ہی نہیں ہے۔ جس فلیٹ میں ہم رہتے ہیں اس میں بیت الخلاء حکومت امداد سے نہیں بنی۔ ہم عوامی ٹرانسپورٹ نظام کا حصہ نہیں ہیں۔ نہ تو بسوں میں سفر کرتے ہیں نہ ٹرینوں میں۔ بیرونی شہروں کے سفر کیلئے ہم نے ٹرینوں کو ترک کردیا اور ہوائی جہازوں میں جانے لگے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ ریلوے نظام کی خامیوں سے ہم متاثر نہیں ہیں اسی لئے واقف بھی نہیں ہیں۔ جب مرکزی حکومت نے پہلی مرتبہ کووڈ ۱۹؍ کی پابندیوں کو کم کیا تھا تب اس نے ایئر لائنوں کو جہاز بھر کر مسافر لے جانے کی اجازت دی تھی لیکن کئی مہینوں تک تین سو سے بھی کم ٹرینیں چلنے دیں جبکہ عام دنوں میں ۱۶؍ ہزار ٹرینیں چلتی ہیں۔ کم تعداد میں ٹرینوں کا چلنا کئی ماہ تک جاری رہا۔ 
آبادی کے ایک طبقے اور بقیہ طبقات کے فرق کو سمجھنے کیلئے نوٹ بندی کے دور کو یاد کیجئے جس میں اَپر کلاس کے لوگ اتنے متاثر نہیں تھے جتنے ملک کے کروڑوں خاندان جو لگاتار زحمت اٹھا رہے تھے۔ 
سرکار سے تعلق کی کمی کے کچھ منفی نکات بھی ہیں۔ یہاں بھی، ہمارا گروہ (اپر کلاس) ضابطہ ٔ فوجداری اور تعزیتی نظام سے اتنا متاثر نہیں ہے جتنا کہ ہمارے دیگر ہم وطن ہیں۔ ملک کے تعزیری نظام سے ہمارا کوئی خاص سروکار نہیں ہے۔ ہم میں سے اکثر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ’’انتظامی حراست‘‘ کس کو کہتے ہیں (ایڈمنسٹریٹیو ڈٹینشن) جبکہ اس نظام کے تحت حکومت بہت سے لوگوں کو محض شبہ کی بنیاد پر حراست میں لیتی ہے ۔ یا تو اُن کا کوئی جرم نہیں ہوتا یا اُن پر مقدمہ نہیں چلتا۔ اگر انہیں آزاد کیا گیا تو محض اس لئے کہ آئندہ پھر کسی معاملے میں گرفتار کیا جاسکے۔ جرم کے بغیر سزا کے بارے میں ہم میں سے بہت لوگ واقف تک نہیں ہیں۔
البتہ حکومت یا حکومتی اداروں سے ہمارا کوئی تعلق بنتا ہے یا رابطہ ہوتا ہے تو وہ مذکورہ حالات سے مختلف معاملات میں ہوتا ہے۔ مثلاً ہمیں بجلی کا کنکشن بحال کروانے کیلئے حکومتی کارندوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ایسے معاملات میں جب سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں تو ہمیں پریشانی محسوس ہوتی ہے (یہ الگ بات کہ ہر محلے میں ایسے ایجنٹ ہوتے ہیں جو ہمارا کام آسان بنا دیتے ہیں)۔ اگر کبھی ہم نے سرکاری محکموں کی غیر فعالیت کا شکوہ کیا بھی تو اپنے تجربے کی بنیاد پر کرتے ہیں اُن لوگوں کے تجربے اور پریشانی کی بنیاد پر نہیں جو آئے دن ایسی پریشانی سے گزرتے ہیں۔ہماری غذا، طبی اُمور، رہائش اور تعلیم وغیرہ معاملات میں ہمارا انحصار حکومت پر نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں سرکاری محکموں کی فعالیت اور غیر فعالیت کا علم نہیں ہے۔ تاہم ہمیں اس سلسلے کی اتنی معلومات نہیں ہوتی جتنی کہ عام لوگوں کو ہوتی ہے۔ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم یعنی اَپر کلاس والوں کو حکومتی کاموں کے طور طریقوں کا زیادہ تجربہ اور علم نہیں ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ملک کا طرز حکمرانی کیسا ہے اور مختلف محکمے کیسا کام کررہے ہیں۔ 
انتخابات ہی وہ موقع ہوتا ہے جب ہم سیاسی طور پر  حکومت اور اس کے نظام کے رابطے میں آتے ہیں مگر یہ رابطہ بھی ووٹ دینے تک محدود رہتا ہے۔ ہم میں بہت کم لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ وہ کبھی علاقے کے نمائندے سے ملے ہیں جو انتخابات میں جیتا تھا۔ اگر ہم انتخابی منشور کا مطالعہ کربھی لیتے ہیں تو ہماری دلچسپی اُن باتوں سے نہیں ہوتی جن باتوں سے ملک کے بیشتر عوام کی ہوتی ہے۔ ہمارے لئے شناخت، قوم پرستی، اقوام متحدہ میں ہماری نمائندگی اور عالمی جدولوں میں ملک کو کیا مقام ملا ہے وغیرہ سے ہوتی ہے۔ 
 
 
اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب آئیے بنیادی سوال کی طرف کہ طلبہ کے آندولن کو غیر معمولی حمایت کیسے ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسا مسئلہ آیا جس کا ہماری یعنی اپر کلاس سے بھی تعلق نکل آیا۔ وہ ہے امتحانی نظام کا بدعنوانیوں میں دھنسا ہونا۔ حکومت صاف ستھرے امتحانات منعقد کروانے میں ناکام ہوئی۔ اس ایک مسئلہ کو سامنے رکھ کر سوچئے کہ حکومت ایسے بہت سے مسائل میں ملک کی بہت بڑی آبادی کو ناکام کرتی ہے اور ہمیں اس کا علم تک نہیں ہوتا، احساس ہونا تو دور کی بات ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK