• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالی سال ۲۰۲۷ء میں ۷ء۶؍ فیصد شرح نمو کے ساتھ ہندوستان ترقی کرے گا

Updated: September 22, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف )کی چیف اکانومسٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ہندوستان مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء میں ۷ء۶؍ فیصد جی ڈی پی نمو کے ساتھ بڑی معیشتوں میں مضبوط ترین ترقی کے امکانات رکھنے والا ملک بنا ہوا ہے۔

Indian Economy.Photo:INN
ہندوستانی معیشت۔ تصویر:آئی این این

ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف )کی چیف اکانومسٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ہندوستان مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء میں ۷ء۶؍ فیصد جی ڈی پی نمو کے ساتھ بڑی معیشتوں میں مضبوط ترین ترقی کے امکانات رکھنے والا ملک بنا ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی معیشت کی سب سے بڑی طاقت اس کی مضبوط داخلی طلب ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی چیف اکانومسٹ آؤٹ لک رپورٹ عالمی اور علاقائی اقتصادی امکانات کا جائزہ لینے کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے معروف ماہرین اقتصادیات کی آرا پر مبنی ہوتی ہے۔ 
ستمبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ میں امریکہ، یورپ، چین، جاپان، ہندوستان، جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ و کیریبین، مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ، وسطی ایشیا اور سب صحارا افریقہ سمیت  ۱۰؍ بڑے خطوں  کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سروے میں سرکاری اور نجی شعبے سے وابستہ  ۹۲؍ چیف اکانومسٹس  کی رائے شامل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ۷۴؍ فیصد چیف اکانومسٹس ہندوستان میں مضبوط یا بہت مضبوط معاشی نمو کی توقع کر رہے ہیں، جبکہ مئی میں یہ شرح ۵۲؍ فیصد تھی۔ اس طرح ہندوستان کے معاشی امکانات کے بارے میں ماہرین کا اعتماد چند ماہ میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ مزید برآں،۹۸؍ فیصد ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ ۱۲؍ ماہ کے دوران ہندوستان کی اقتصادی نمو کم از کم معتدل یا اس سے بہتر سطح پر رہے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے:اللو ارجن اور ایٹلی کی ’’راکا‘‘نے ۳۷؍ فنکاروں کے موشن کیپچر کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا لیا

روزگار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۷۰؍ فیصد ماہرین  کو آئندہ ایک سال کے دوران بھارت کی بے روزگاری کی شرح میں کوئی بڑا اتار چڑھاؤ نظر نہیں آتا۔ تاہم، ۱۷؍ فیصد ماہرین نے بے روزگاری بڑھنے جبکہ ۱۳؍فیصد نے اس میں کمی کی توقع ظاہر کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۱۵؍ سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح جولائی کے  ۱ء۵؍فیصد  سے کم ہو کر اگست میں ۵؍ فیصد  رہ گئی۔ اسی عرصے میں لیبر فورس پارٹیسپیشن ریٹ بھی ۴ء۵۵؍ فیصد سے بڑھ کر ۶ء۵۵؍ فیصد ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مضبوط معاشی سرگرمیوں کے درمیان ہندوستان کی لیبر مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم ہے، تاہم روزگار پیدا کرنے کی رفتار کو برقرار رکھنا اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز: ۶۸؍ سال بعد فلپائن نے مردوں کی فٹبال میں پہلی کامیابی حاصل کی

مہنگائی کے حوالے سے بھی ماہرین کا نقطۂ نظر پہلے کے مقابلے میں قدرے بہتر ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی کے مقابلے میں ہندوستان میں مہنگائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں۔ ۵۵؍فیصد چیف اکانومسٹس  نے آئندہ ۱۲؍ ماہ کے دوران معتدل مہنگائی کی توقع ظاہر کی، جبکہ ۴۵؍ فیصد نے بلند مہنگائی کا امکان ظاہر کیا۔ مئی میں ۶۱؍فیصد ماہرین نے بلند یا بہت بلند مہنگائی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اگست میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی )  پر مبنی مہنگائی بڑھ کر۸ء۴؍ فیصد  ہوگئی۔ یہ ریزرو بینک آف انڈیا کے۴؍ فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے زیادہ ہے، تاہم۲؍سے ۶؍ فیصد کے قابل قبول دائرے کے اندر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK