اسرائیلی وزیر اعظم نے نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی پر یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے، اس سے قبل ظہران ممدانی نے نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم ‘‘ اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ’’ہولناک نسل کشی کا معمار‘ قرار دیا تھا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 10:04 PM IST | New York
اسرائیلی وزیر اعظم نے نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی پر یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے، اس سے قبل ظہران ممدانی نے نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم ‘‘ اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ’’ہولناک نسل کشی کا معمار‘ قرار دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کونیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر سخت تنقید کی، جب میئر نے انہیں ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیا۔نیتن یاہو نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا، ’’شرم کرو مسٹر ممدانی۔ شرم کرو کہ تم حماس کی حمایت کرتے ہو۔‘‘ ساتھ ہی نیتن یاہو نے ممدانی پر ’’نیویارک کے یہودیوں کے خلاف فسادات بھڑکانے‘‘کا بھی الزام لگایا۔ واضح رہے کہ ممدانی ۲۰۲۵ء کے انتخابات جیت کر نیویارک شہر کے پہلے مسلمان میئر بنے۔ انہوں نے یہود دشمنی کے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ ان کے حامیوں میں نیویارک کے یہودیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔دراصل ممدانی کے برعکس، نیویارک کے سابق میئر جو امریکہ کی سب سے بڑی یہودی آبادی والے شہر پر حکومت کرتے رہے ،روایتی طور پر اسرائیل کے مضبوط حامی اور اکثر اسرائیل کا دورہ کرتے رہے ہیں۔
بعد ازاں نیتن یاہو نے کہا، ’میں اقوام متحدہ آ رہا ہوں۔ میں ہمارے بہادر سپاہیوں کے بارے میں سچ بتاؤں گا۔ میں تمہارے بارے میں سچ بتاؤں گا۔‘‘منگل کے روز اس سے قبل، ممدانی نے نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ اور فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے سی این این کو بتایا، ’’نیتن یاہو کے بارے میں، میں نے انہیں ویسا ہی بیان کیا ہے جیسا میں سمجھتا ہوں ایک جنگی مجرم اور فلسطینی عوام کے خلاف ہولناک نسل کشی کا معمار۔‘‘ انہوں نے پوچھا، ’’اگر بین الاقوامی فوجداری عدالت کسی کو ان قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتاری کے قابل سمجھتی ہے، تو ہم کون ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی اس سے بالاتر ہو؟ممدانی نے مزید کہا، ’’میرے خیال میں بالکل واضح ہے کہ سب کو اس کا جوابدہ ہونا چاہیے،‘‘جبکہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ نیویارک شہر کو نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے گرفتاری وارنٹ نافذ کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔ حالانکہ ممدانی نے پہلے کہا تھا کہ نیتن یاہو کا نیویارک میں خیر مقدم نہیں ہے، اور امریکی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کرے۔
یہ بھی پڑھئے: میکلمور تنازع: گریٹا تھنبرگ کا رد عمل، بااثر افراد پر دباؤ برقرار رکھنے پر زور
یا د رہے کہ نہ اسرائیل اور نہ ہی اس کا اتحادی امریکہ آئی سی سی کا رکن ہے۔ واشنگٹن نے نیتن یاہو کے تعاقب پر عدالت کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔اقوام متحدہ کا بنیادی عدالتی ادارہ، بین الاقوامی عدالت انصاف، بھی جنوبی افریقہ کی طرف سے دائر اور کئی دیگر ممالک کی جانب سے شامل کیے گئے مقدمے پر غور کر رہا ہے جس میں اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔ بعد ازاں پیر کو اسرائیلی اخبار یدیوت اہرونوت نے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو کا طیارہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نہیں اترے گا، کیونکہ خدشہ ہے کہ ممدانی اسرائیلی وزیر اعظم کی واپسی سے قبل اسے روانہ ہونے کا حکم دے سکتے ہیں۔اخبار کے مطابق، طیارہ کے اس کے بجائے نیو جرسی کے ایک فوجی اڈے یا نیوارک ہوائی اڈے پر اترنے کی توقع ہے۔
علاوہ ازیں نام ظاہر نہ کرنے والے باخبر ذرائع کے حوالے سے، اس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے احتجاجات کے خدشات کی وجہ سے اپنے دورے کو مختصر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ نیویارک میں رات نہیں گزاریں گے۔توقع ہے کہ نیتن یاہو جمعرات کی صبح امریکہ پہنچیں گے، اسی دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہے، اور اس کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بغیر تل ابیب کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ڈین رینولڈز کا دیواری فن پارہ، ابوظہبی کنسرٹ سے قبل توجہ کا مرکز
ذہن نشین رہے کہ یکے بعد دیگرے امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کو فوجی، مالی اور سفارتی مدد فراہم کی ہے، جس میں بار بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واشنگٹن کے ویٹو اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اقدامات کو روکنا شامل ہے۔غزہ کی پٹی پر اسرائیلی نسل کشی کی جنگ کے بعد کئی امریکی رائے عامہ کے سروے اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں عوامی رویوں میں تبدیلی ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر نوجوان امریکیوں میں۔ علاوہ ازیں نیتن یاہو۲۰۲۴ء سے، غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں۔