• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کولکاتا کالج: اے بی وی پی پر مسلم پروفیسر نے لگایا زبردستی استعفیٰ لینے کا الزام

Updated: September 22, 2026, 10:33 PM IST | Kolkata

کولکاتا کے ایک کالج میں مسلم پروفیسر، جو کالج کی وائس پرنسپل تھیں،سے زبردستی دباؤ بنا کر ان کا استعفیٰ لیا گیا ، کالج میں حاضری کو لے کر ایک قانون پر اے بی وی پی طلبہ نے احتجاج کیا اور وائس پرنسپل کے استعفے کی مطالبہ کیا، پروفیسر نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مذہب کی بنیاد پرگالیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا ۔

Kolkata’s Surendranath Law College: Vice-Principal Mohammadi Tarannum. Photo: X
کولکاتا کے سریندر ناتھ لاء کالج کی وائس پرنسپل اور ٹیچر انچارج محمدی ترنم۔ تصویر: ایکس

کولکاتا کے سریندر ناتھ لاء کالج کی وائس پرنسپل اور ٹیچر انچارج محمدی ترنم نے الزام لگایا ہے کہ طلبہ نے حاضری کے تنازع پر انہیں تقریباً ۲۳؍ گھنٹوں تک ان کودفتر میں بند رہنے پر مجبورکیا اور زبردستی ان سے استعفے کے خط پر دستخط کروائے۔ محمدی ترنم کے مطابق ۱۱؍ ستمبر کو طلبہ نے خود استعفے کا مسودہ تیار کیا اور ان پر دستخط کرنے کیلئےشدید دباؤ ڈالا، جس کے بعد پولیس نے پہنچ کر انہیں حفاظت کے ساتھ کالج سے باہر نکالا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی انہوں نے حکومت کو ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا کہ ان سے دباؤ میں دستخط لئے گئے ہیںاور ۱۲؍ ستمبر کو انہوں نے اعلانیہ اس استعفے کو مسترد کر دیا۔بعد ازاں  دی وائر سے بات کرتے ہوئے محمدی ترنم نے بتایا کہ احتجاج کے دوران ان کے خلاف انتہائی نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے ذات پات، مذہب اور سیاست کو لے کر اتنی گالیاں دی گئیں اور فحش باتیں کی گئیں کہ وہ دو دن کیلئے بیمار پڑ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حد تک ذہنی اذیت دئیے جانے کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک انہیں مار نہ دیا جائےوہ ہرگز استعفیٰ نہیں دیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر یوسی سی کمیٹی سے سابق جج نے استعفیٰ دیا، بد نظمی اور منشاء پر سوال

پولیس کی حفاظت میں محمدی ترنم کے باہر نکلنے کے بعد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) سے وابستہ طلبہ کے ایک گروہ نے ان کے کمرے میں داخل ہو کر اگربتیاں جلائیں اور گنگا جل چھڑکا اور اس عمل کو کمرے کی ’’پاکی‘‘ کا نام دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پروفیسر کے استعفے کے مطالبات والے پوسٹرز بھی وہاں چپکائے۔ اے بی وی پی کے کالج لیڈر سمبت داس نے دی وائر کو بتایا کہ ان کی تنظیم وائس پرنسپل کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی اور اپنے استعفے کے مطالبے پر قائم ہے۔ تاہم، احتجاج میں شامل چوتھے سال کے طالب علم رجت آگر نے محمدی ترنم کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ پورا تنازع لاء کے طلبہ کیلئے ۶۵ ؍ فیصد حاضری کے لازمی قانون سے شروع ہوا تھا۔ قانون کے مطابق ۲۹؍ ستمبر سے شروع ہونے والے آٹھویں سمسٹر کے امتحانات میں بیٹھنے کیلئے طلبہ کی کم از کم ۶۵؍ فیصد حاضری ضروری ہے اور طلبہ کا ایک طبقہ اس شرط کو پورا نہیں کر پا رہا تھا۔ ترنم اس قانون پر عمل کروا رہی تھیں اور انہوں نے کہا کہ ایک گروہ دوسرے طلبہ کو کلاسیز میں آنے سے روک رہا تھااور ساتھ ہی طرح طرح کے مطالبات کر رہا تھا، جبکہ وہ ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے صرف سرکاری قواعد پر عمل کر رہی ہیں۔ طلبہ کی حاضری کی کمی پوری کرنے کیلئے اساتذہ اب اتوار کو اضافی کلاسیز لے رہے ہیں اور محمدی ترنم نے کلکتہ یونیورسٹی سے رابطہ قائم کر کے کلاسوں کا انتظام کیا ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی فسادات ۲۰۲۰ء: شرجیل امام کو کزن کی شادی میں شرکت کیلئے۷؍روز کی عبوری ضمانت

تاہم کالج کی گورننگ باڈی کے سربراہ اور بی جے پی کے ایم ایل اے کستوو باگچی نے بتایا کہ طلبہ نے پروفیسر کے خلاف متعدد شکایات درج کروائی تھیں، جنہیں انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بھیج دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی کیمپس میں پرامن ماحول بحال ہو جائے گا۔ تاہم، محکمہ تعلیم نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ دباؤ میں لئےگئے استعفے کو باضابطہ مانا جائے گا یا نہیں۔ محمدی ترنم نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ اس پورے واقعے کے پیچھے کون ہے، لیکن وہ پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کروائیں گی کیونکہ وہ طلبہ ان کے اپنے بچوں کی طرح ہیں۔ واضح رہے کہ محمدی ترنم پچھلے تقریباً دو دہائیوں سے سریندر ناتھ کالج میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں اور ستمبر ۲۰۰۷؍ سے وائس پرنسپل اور ٹیچر انچارج کے عہدے پر فائز ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK